ڈینگی،مناسب اور درست اقدام نہیں ہوئے!

ڈینگی،مناسب اور درست اقدام نہیں ہوئے!

  



ڈینگی مچھروں کے حملے اور لوگوں کے متاثر ہونے میں اضافہ ہوتا جا رہاہے اور مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے،پنجاب میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،مگر ابھی تک ڈینگی لاروے پر قابو نہیں پایا جا سکا اور ڈینگی کنٹرول نہیں ہوا۔گزشتہ روز صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی صدارت میں ڈینگی وباء کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کئے گئے،ان میں ایک یہ ہے کہ شہریوں نے گرمی سے بچاؤ کے لئے جوڈیزرٹ کولر لگائے ہوئے ہیں،ان کو اتروا دیا جائے کہ یہ لاروے کی پیدائش کا ذریعہ بنتے ہیں،تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنر حضرات سے کہا گیا ہے کہ وہ عوام سے اپیل کریں کہ عوامی مفاد کے باعث ان کولروں کی بندش ضروری ہے،اِس لئے وہ لوگوں کو رضاکارانہ طور پر ایسا کرنے کے لئے کہیں اور جو لوگ پیار سے نہ مانیں،ان کے کولر زبردستی اتروا دیئے جائیں۔صوبائی وزارتِ صحت کا یہ فیصلہ تاخیر سے ہوا ہے، حقیقت میں ڈینگی پر قابو پانے کے لئے جس رفتار اور ہنگامی اقدامات کی ضرورت تھی، وہ نہیں کئے گئے۔پہلا عمل تو تشہیر ہے،لیکن حکومت کی طرف سے ایسا کوئی بندوست نہیں کیا گیا،حالانکہ عوام کو آگاہ کرنے کے لئے ٹیلی ویژن اور اخبارات میں اشتہار چلانے اور شائع کرانے کی ضرورت تھی جو کما حقہ پوری نہیں کی گئی۔جہاں تک اس وباء کو روکنے اور ختم کرنے والے عملے کا تعلق ہے تو اس کی طرف سے ڈنگ ٹپاؤ کام کیا گیا اور سپرے تک بھی محدود علاقے میں ہوا۔صرف یہ کہا گیا کہ بعض کارخانوں،ہوٹلوں اور ریستورانوں کو جرمانے کئے گئے۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ احتیاطی مہم یونین کونسل کی سطح پر چلائی جائے،ہر یونین کونسل ہی کی بنیاد پر پڑتال ہو کہ لاروے کی گنجائش نہ رہے اور ساتھ ہی سپرے بھی ہونا چاہئے،اسی طرح ابھی تک پارک اور گرین بیلٹس نظر انداز کی گئی ہیں جو لاروے کا سبب ہیں، انسداد ڈینگی کی مہم جنگی بنیادوں پر چلنی چاہئے تھی اس کے لئے فلسفہ نہیں عمل کام آتا ہے۔وزارتِ صحت اور متعلقہ حکام کو اپنی توجہ نہ صرف لاروا تلاش کرنے پر دینی چاہئے،بلکہ سپرے بھی کرنا ہو گا،ابھی تک کی کارروائی تسلی بخش نہیں اسے زیادہ موثر بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ