أمذاکرات ہوں گے؟

أمذاکرات ہوں گے؟
أمذاکرات ہوں گے؟

  



وزیراعظم عمران خان جو اپوزیشن سے ہاتھ ملانا تو دور کی بات ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے وہ اپنی جماعت کی کور کمیٹی میں آزادی مارچ کو زیر غور لانے کے بعد مذاکرات پر بھی آمادہ ہو گئے اور اپنی طرف سے وزیر داخلہ کی قیادت میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی جو مولانا فضل الرحمن اور دیگر جماعتوں سے رابطے کرکے مذاکرات کا سلسلہ شروع کرے گی، اس سلسلے میں فوری ردعمل تو یہی تھا کہ کمیٹی اور مذاکرات کی تجویز مسترد کر دی گئی لیکن جلد ہی وضاحت بھی ہو گئی اور مولانا فضل الرحمن نے مذاکرات کی اہمیت تسلیم کر لی اور کہا کہ مذاکرات ممکن ہیں لیکن سرکاری کمیٹی کو وزیراعظم کا استعفا ساتھ لانا ہو گا، اس کے جواب میں وزیر دفاع اور کمیٹی کے چیئرمین پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ ہم کھلے دل سے بات چیت کرنا اور اپوزیشن کے تحفظات سن کر ازالہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن استعفے والی شرط لگا کر اصرار کیا گیا تو پھر مشکل ہو گی، اسی سلسلے میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ملک کے حالات کا تقاضا ہے کہ یہاں سیاسی استحکام ہو، ہم نے اسی لئے مذاکرات کی بات کی تاہم اس سے یہ مراد نہ لی جائے کہ حکومت خوفزدہ ہے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے جے یو آئی کی رضا کار تنظیم پر بھی اعتراض کر دیا اور کہا کہ اس کی ضرورت نہیں۔

ہمیں 1977ء یاد آ گیا کہ ان واقعات اور حالیہ حالات میں بہت زیادہ مماثلت ہے، حتیٰ کہ گزشتہ روز مبینہ طور پر پیمرا نے جو کیا وہ بھی اس دور ہی کے مطابق ہوا، مولانا فضل الرحمن کی پریس کانفرنس چل رہی تھی کہ اچانک سکرین سے غائب ہو گئی ایک چینل نے ساتھ ہی ٹکر لگایا جو ایک اطلاع تھی کہ پیمرا کی طرف سے پریس کانفرنس کی کوریج پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اسی نوعیت کے حالات تب بھی تھے اور مسند اقتدار پر براجمان پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت بھی ایسے ہی کام کر رہی تھی، تاہم فائدہ نہ ہوا اور کئی دوسرے ذرائع بن گئے اور آج کل تو سوشل میڈیا موجود ہے، اس پر مولانا فضل الرحمن کی پریس کانفرنس پر مشتمل ویڈیو موجود ہے۔

آیئے ہمارے ساتھ ذرا ماضی کو یاد کر لیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کا دور بہت یادگار تھا اور انہوں نے بہت کام بھی کئے تھے، خود بھٹو بہت مقبول لیڈر تھے اور انہوں نے فطری طور پر اپنی مقبولیت کے پیش نظر قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر دیا اور اپنی ٹرم میں ایک سال کی کمی گوارا کر لی تھی۔ جونہی انتخابات کا اعلان ہوا، بکھری اپوزیشن ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئی اور نو جماعتوں پر مشتمل پاکستان قومی اتحاد کے نام سے اتحاد بن گیا اور پھر انتخابی معرکہ ہوا، ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی جیت گئی۔ پاکستان قومی اتحاد نے انتخابی دھاندلی کا الزام لگایا اور نئے انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔ یوں انتخابات کے بعد بھی محاذ آرائی ختم نہ ہوئی اور تحریک شروع ہو گئی،ذوالفقار علی بھٹو نے الزام تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور صوبائی انتخابات بھی کرائے۔ پاکستان قومی اتحاد کی قیادت نے ان انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کیا اور بائیکاٹ کر دیا۔ یہ بہت مکمل تھا اور جو انتخابات ہوئے اس میں نو جماعتوں کے اتحاد پی این اے نے حصہ نہیں لیا تھا اور تحریک کا اعلان کر دیا، مطالبہ تھا کہ پورے انتخابات کالعدم قرار دے کر دوبارہ کرائے جائیں۔

اسی بنیاد پر تحریک شروع ہوئی۔ محاذ آرائی شدید ہو گئی، مظاہرے اور جلوس شروع ہوئے۔ لاہور میں نیلہ گنبد مرکز اور ریگل چوک منزل ٹھہرا۔ ہر روز جلوس نکلتا اور ہر روز پولیس سے ٹکراؤ بھی ہوتا۔ بہرحال بات چلتی رہی اور 9اپریل کو ریگل چوک میں ایسے حالات پیدا ہوئے کہ گولی چلی اور مظاہرین زخمی ہو گئے۔ یہ دن مزید شدت پیدا کرنے والا ثابت ہوا اور تحریک بڑھ گئی۔

ہم ایک رپورٹر کی حیثیت سے کور کرتے تھے اس لئے عینی شاہد بھی ہیں۔9اپریل کے سانحہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو بھی لاہور آئے اور یہاں کئی روز قیام کیا۔ تحریک دن بدن بڑھتی گئی تو قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ تب بھی اتنی ضد تھی۔ فریقین مذاکرات پر تیار نہیں تھے، اسی دوران ہمارے دوست بھائی ڈاکٹر جہانگیر بدر (مرحوم) کی شادی ہوئی۔19اپریل کو ان کی دعوت ولیمہ تھی، مسلم ٹاؤن میں ان کے بڑے بھائی جمیل بدر کی رہائش پر ہم اور مہمان مدعو تھے، یہاں ہم نے مولانا کوثر نیازی (مرحوم) کے میزبان حاجی تاج (ٹرانسپورٹ والے) سے بات کی تو انہوں نے بتایا آج سب ٹھیک ہو جائے گا، ہم سے پوچھا کہ پریس کانفرنس میں جاؤ گے، یہ اس روز چار بجے گورنر ہاؤس میں تھی اور بھٹو صاحب نے خطاب کرنا تھا، ہم نے بتایا کہ یقیناً جانا ہے کہ ڈیوٹی کا حصہ ہے، تو وہ بولے آج سب ٹھیک ہو جائے گا، رات طویل میٹنگ ہوئی اور مولانا کوثر نیازی نے بھٹو صاحب کو منا لیا ہے، قصہ مختصر اس روز پریس کانفرنس ہوئی اور بھٹو نے جمعہ کی چھٹی، اسلامی نظام کے لئے کمیٹی، جوا اور شراب بند کرنے کے اعلان کئے۔ اس کانفرنس سے واپس جاتے ہماری جہانگیر بدر سے ملاقات ہوئی جو گورنر ہاؤس کی آفیسرز والی رہائش گاہ میں تھے کہ ان کے سسر صادق صاحب وہاں سیکشن افسر تھے، ان کے بلانے پر ہم نے ملاقات کی جب ہماری رائے پوچھی گئی تو ہم نے واضح طور پر کہا ”آج تیرا صاحب گیا“(آج تمہارے لیڈر کا اقتدار ختم ہوا) اور پھر یہ بات سچ ہوئی۔

انہی یادوں میں دو باتوں کا ذکر کرکے ختم کرتے ہیں کہ واقعات اتنے ہیں، کتاب کی ضرورت ہو گی۔ میڈیا پر آج کل جو دور ہے، تب بھی میڈیا زیرانگُشت ہی تھا اور اپوزیشن کو کوریج نہیں ملتی تھی چنانچہ ان دنوں بی بی سی کا زبردست چرچا ہوا۔ اس ادارے کے نمائندہ مارک ٹیلی بہت مشہور ہوئے اور پی این اے کی خبریں ان کے توسط سے ریڈیو پر چلتی رہیں، حتیٰ کہ جلوس اور مظاہرے کے اوقات بھی بی بی سی سے نشر ہوتے تھے۔ اس کے مقابلے میں آج تو سوشل میڈیا کا دور ہے اور یوں کوئی بات چھپ نہیں سکتی اس لئے بہتر یہ ہے کہ میڈیا پر پابندیاں نہ لگائی جائیں، ان سے مثبت کی توقع رکھنا چاہیے۔

اب ایک اور مماثلت مذاکرات کی دعوت اور جمعیت علماء اسلام کا انکار یا مشروط آمادگی ہے، اس دور میں پی این اے کے 32مطالبات تھے اور ان میں وزیراعظم کا استعفےٰ بھی شامل تھا، لیکن پھر نہ صرف مذاکرات ہوئے بلکہ بقول نوابزادہ نصراللہ کامیاب بھی ہو گئے تھے اور (استعفےٰ والا مطالبہ پورا نہ ہوا کہ آئینی ضرورت تھی) لیکن مارشل لاء لگا دیا گیا۔ ہم نے ماضی کے دریچوں میں جھانکا اور بہت مختصر عرض کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ نوبت مذاکرات تک پہنچ جائے گی اور پھر تصفیہ بھی ہو گا کہ ہمیں شیخ رشید کی گفتگو میں اشارے مل رہے ہیں، بہتر عمل بھی یہ ہے اور اسی طرح پنجہ استبداد سے نجات بھی مل سکتی ہے۔ فریقین سے گزارش ہے کہ موقع ضائع نہ کریں۔

مزید : رائے /کالم