ایران، سعودی عرب تعلقات میں سہولت کاری

ایران، سعودی عرب تعلقات میں سہولت کاری
ایران، سعودی عرب تعلقات میں سہولت کاری

  



وزیراعظم عمران خان پچھلے ماہ مسلم امہ کی بے حسی کا رونا روتے دکھائی دئیے، مگر جیسے ہی دو اہم مسلم ملک آپس میں دوبدو ہوتے نظر آئے وزیر اعظم ایران سعودی عرب کے درمیان ثالثی کروانے کے لئے متحرک ہوگئے جو خوش آئند ہے۔مسلم ملکوں کا دکھ ہمیں شروع سے ہے اور ہم بحثیت قوم دنیا بھر کے مسلمانوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ لیتے ہیں ’سمجھنا بھی چاہئے‘۔حکومت جمہوری ہو یا شخصی ہم دنیا میں بھر مسلمانوں کے حقوق کے لئے سرگرم رہتے ہیں۔ہم مسلم ممالک کی دشمنیاں ختم کروانا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، لیکن یہ کیا بدقسمتی ہے کہ نہ تو ہم بحیثیت قوم اپنے اردگرد بسنے والے پاکستانیوں کے حقوق کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی ہماری حکومتیں اپنے مخالف سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ کے سیاسی اختلافات کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

کشمیری مسلمان حسرت بھری نگاہوں سے پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ افغانستان سے آئے دشت گرد ہمارے لوگوں کو شہید کر کے واپس چلے جاتے ہیں۔ہماری حکومت نے ساری سیاسی قیادتوں کو جیلوں میں بند کروایا ہوا ہے,میڈیا کے ذریعے حکومت کے خلاف متحرک صحافیوں کے قلم کا رخ موڑنے کی کامیاب کوشش کی جارہی ہیں۔اور اب مولانا فضل الرحمن اسلام آباد فتح کرنے کا ارادہ دل میں لئے قافلے تیار کر رہے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کشمیر کے حالات دیکھتے ہوئے ہمارے وزیر اعظم ملکی سیاست دانوں کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے۔کم از کم ان کا بیانیہ ہی درست ہوجاتا۔وزیر اعظم کو لوگوں کو جیل میں بند کرنے کا شوق ہے، لیکن مخالف سیاسی جماعتوں سے بات چیت کی بجائے وہ باہر کے معاملات میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ پیچیدہ معاملہ ہے اور اسے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات سچ ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تنازعہ سے نہ صرف خطے کے امن و سلامتی، بلکہ معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں کوئی تنازعہ پیدا نہ ہو۔ ایران کے صدر حسن روحانی کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے صدر کے ساتھ گزشتہ کچھ عرصے میں یہ تیسری ملاقات ہے۔ ان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور تجارت پر بھی بات ہوئی۔وہ ٹھیک کہتے ہیں کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حمایت پر ایرانی حکومت کے شکرگزار ہیں۔ وہاں بھی انہوں نے کشمیری مسلمانوں کے لئے آواز بلند کرنے کا فریضہ ادا کیا،مگر عمران خان نے کہا کہ ایران آنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں کوئی تنازعہ نہ ہو۔ کیونکہ پہلے ہی افغانستان اور شام میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ایران کے صدر حسن روحانی سے مشاورت حوصلہ افزا رہی جبکہ مثبت سوچ کے ساتھ سعودی عرب جاؤں گا اورایران، سعودی عرب کے دورے اور بات چیت خالصتاً پاکستان کا اپنا اقدام ہے۔یہ سچ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ پیچیدہ معاملہ ہے، تاہم ان تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے،لیکن ہم جانتے ہیں کہ سعودی قیادت آج امریکی تھنک ٹینک کے کس قدر کنٹرول میں ہے۔ایسے میں ایران سعودی عرب کے درمیاں بہتر ماحول کے لئے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔سعودی قیادت جو اپنے ملکی دفاع کے لئے امریکہ اور اسلامی اتحاد بناتی ہے وہ قیادت ایران کو دھمکیاں لگاتی ہے تو ایران سے حسن روحانی فرماتے ہیں کہ خیر سگالی جذبے کے جواب میں خیر سگالی کا ہی مظاہرہ کیا جائے گا، لیکن اگر کوئی ملک سمجھتا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کے بدلے کوئی کارروائی نہیں ہو گی تو وہ غلطی پر ہے۔

وزیراعظم عمران خان ایک طرف سعودی عرب اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری سرد جنگ ختم کرانے کی کوشش میں ہیں تو ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کو چاہیے کہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھائے۔ خطے میں حالات بہت تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔

آج سے مہینہ بھر پہلے ہماری ساری توپوں کا رخ کشمیر کی طرف تھا ہم دنیا کو کشمیر میں جاری ظلم سے آگاہ کررہے تھے اور اب ہماری قیادت کشمیر کو پیچھے چھوڑ کے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کے لئے پریشان نظر آرہی ہے۔یہ پریشانی اب بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔چند دن پہلے جب ترکی نے شام میں فوجیں داخل کیں تو ہم نے دیکھا کہ کشمیر کے لئے خاموش رہنے والے مغربی ملک,اسلامی بلاک اور عالمی میڈیا کیسے ترکی کے خلاف محاذ بنا رہا ہے۔ امریکہ نے ترکی پر تجارتی، اقتصادی اور سفری پابندی لگانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔اور وہ نیٹو اتحاد کو ترکی کے خلاف بھڑکا رہا ہے۔اب دیکھنا تو یہ بھی ہے کہ کیا ترکی عراق,لیبا کی طرح امریکہ اس کے اتحادیوں کا شکار بنے گا یا ایک مضبوط ترک قوم امریکہ اور نیٹو کو اس خطے سے نکال باہر پھینکیں گے۔اللہ پاک بہتری کی فضا بنائے۔ہماری ساری دعائیں ترکی کے ساتھ ہی ہیں، لیکن ہم نے امریکہ کے مقروض بھی ہیں۔پتہ نہیں اس سرد گرم جنگ میں ہم سے دنیا کیا کیا کام لینے کا سوچ رہی ہے۔

مزید : رائے /کالم