نادان دوستوں کے وار

نادان دوستوں کے وار
نادان دوستوں کے وار

  



کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ پاکستان میں کل کتنے سرکاری ادارے ہیں، بس فواد چودھری کی زبان سے 4سو ادارے بند کرنے کی بات سنی اور ہاہا کار مچا دی۔ کیا ملک میں چار سو سرکاری ادارے ہیں بھی، جنہیں بند کیا جا سکے۔جہاں فواد چودھری نے بے پر کی اڑائی،وہاں میڈیا اور سیاستدانوں نے اسے مزید آگ لگائی۔ چار سو ادارے بند ہو گئے تو باقی کیا بچے گا، کسی نے نہیں سوچا۔ پھر فواد چودھری نے اپنی عادت سے مجبور ہوکر یا پھر کسی خاص ایجنڈے کے تحت یہ درفنطنی بھی چھوڑی کہ حکومت سرکاری نوکریاں نہیں دے سکتی، یہ کام تو پرائیویٹ سیکٹر کا ہے۔

اب کوئی پوچھے اللہ کے بندے اس موقع پر جب اپوزیشن حکومت کو گھر بھیجنے کا جنون پیدا کر رہی ہے اور مولانا فضل الرحمن اپنے آزادی مارچ کو ہوا دینے کے لئے ہر حربہ آزما رہے ہیں، بھلا اس بقراطی کی کیا ضرورت تھی؟ کیا اس سے اپوزیشن کو ٹھنڈا کر نامقصود ہے یا پھر ان کے غلط پروپیگنڈے کا کوئی توڑ کیا گیا ہے۔ بیٹھے بٹھائے ایک نئے پنڈورابکس کو کھولنے کا مقصد کیا ہے؟ اب خود پی ٹی آئی والے اگر فواد چودھری کے پیچھے پڑ گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کی گت بنا رہے ہیں تو کیا غلط کر رہے ہیں۔ کیا یہ کوئی موقع ہے کہ خود اپنی حکومت کی ناکامی کا ڈھنڈورا پیٹا جائے۔ وہ بھی ایسے موقع پر جب حکومت کو تاریخ کی ناکام ترین حکومت قرار دے کر اپوزیشن احتجاجی مارچ کا نقارہ بجا چکی ہے۔

مَیں تو پہلے دن سے لکھ رہا ہوں کہ عمران خان کا دشمن کوئی باہر کا بندہ نہیں، ان کی جماعت کے اندر بیٹھی ہوئی شخصیات ہیں۔ اب تک وزیراعظم عمران خان کا اگر کوئی امیج برقرار ہے تو یہ ان کی ذاتی کاوشوں اور شخصیت کا نتیجہ ہے، وگرنہ وزراء اور مشیروں نے تو ان کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سب سے پہلی بیماری تو موجودہ کابینہ کے ارکان کو یہ لاحق ہے کہ جو منہ میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہیں، یہ بھی نہیں سوچتے کہ ان کی وزارت یا شعبے کا معاملہ ہے بھی یا نہیں؟ پھر دوسری بیماری یہ لاحق ہے کہ روزانہ ٹی وی پر اپنا جلوہ ضرور دکھانا ہے، کہنے کو کوئی بات ہو یا نہ ہو، آنا ضرور ہے، جب کچھ کہنے کو نہیں ہوتا تو آئیں بائیں شائیں سے کام چلایا جاتا ہے۔اسی وجہ سے کوئی ایسی بات منہ سے نکل جاتی ہے، جو حکومت کے لئے ہزیمت کا باعث بنتی ہے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اگر روزانہ دوچار بار ٹی وی پر نہ آئیں تو انہیں خطرہ لاحق ہو جاتا ہے کہ کہیں ان کی جگہ کسی دوسرے کو اطلاعات کا محکمہ نہ دے دیا جائے۔ اسی فیصلے کی وجہ سے وہ زلزلے کے موقع پر دیئے جانے والے مضحکہ خیز بیانات جیسی غلطیاں بھی کر جاتی ہیں۔ آج کل تو ٹویٹ کا زمانہ ہے، پہلے پریس ریلیز جاری کئے جاتے تھے۔ وزیراطلاعات تو شاذ و نادر ہی پریس کانفرنس کرتا تھا، اب سوائے پریس کانفرنس کے اور کچھ نہیں کرتا۔ سیانے کہتے ہیں جب آپ زیادہ بولتے ہیں تو غلطیاں بھی کرتے ہیں اور یہ بات تو مستند ہے کہ ”پہلے تولو پھر بولو“…… مگر وزیراعظم عمران خان اپنی کابینہ کے ارکان کی یہ تربیت نہیں کر سکے۔ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں ایک دوسرے پر نمبر لے جانے کے جنون میں مبتلا ایسے لوگ عمران خان کے لئے جگ ہنسائی کا باعث بن جاتے ہیں، پھر یہاں تو ایک ایک نکتے پر اپوزیشن تاک لگائے بیٹھی ہے، جونہی کوئی غلطی کرتا ہے، اسے گردن سے دبوچ کر شور مچا دیتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے بارے میں بھی حکومت نے وزراء کو کوئی تربیت نہیں دی، جس کے منہ میں جو آ رہا ہے وہ بولے چلا جا رہا ہے۔ سب سے اہم بیانیہ یہ ہے کہ مولانا کو دیکھ لیں گے، وہ اسلام آباد آکر تو دکھائیں۔ اندھے کو بھی علم ہے کہ جب کسی کو دھمکی دی جاتی ہے یا دبایا جاتا ہے تو وہ اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ خاص طورپر سیاست میں جب حکومت اپوزیشن کے لئے دھمکیوں کے استعمال پر آجاتی ہے تو سمجھو اپوزیشن آدھی کامیاب ہو گئی۔ سو اپوزیشن کو وزراء نے آدھے سے بھی زیادہ کامیاب کر دیا ہے۔ اس میں قصور وزیراعظم عمران خان کا بھی ہے، جنہوں نے بروقت فیصلہ کرنے کی بجائے اس معاملے کو التواء کا شکار رکھا۔ اسے وزراء کی صوابدید پر چھوڑ دیاکہ وہ جیسے چاہیں نمٹیں۔ آج خود حکومت مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کرنا چاہ رہی ہے، مگر وہ نہیں مان رہے، جبکہ کچھ دن پہلے تک وزراء کی تان اس نکتے پر ٹوٹتی تھی کہ کسی کے آگے نہیں جھکیں گے، بلیک میل نہیں ہوں گے، شرپسندوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا، وغیرہ وغیرہ۔

بعض اوقات تو لگتا ہے کہ سب کچھ بغیر کسی پالیسی کے تحت چل رہا ہے، حتیٰ کہ کابینہ میں ہونے کے باوجود وزراء وزیراعظم کے کنٹرول میں نہیں۔ یہ بہت سیریس معاملہ ہے، کیونکہ اگر حکومت کا کوئی ایک تاثر نہ بنے اور ہر طرف بکھرے ہوئے تاثرات جنم لیں تو اسے شکست دینا بہت آسان ہوتا ہے۔ پھر خاص طور پر ایک ایسی حکومت جو عوام کی نظر میں اچھی کارکردگی سے محروم ہے اور جس نے مہنگائی اور بُری گورننس میں اپنی پہچان بنا لی ہے۔ جب اپنے مجموعی تاثر سے محروم ہوتی ہے تو اسے بآسانی ناکام ثابت کیا جا سکتا ہے۔

یہاں شروع دن سے ہو کیا رہا ہے۔ کوئی ایک وزیر یا مشیر یا پھر گورنر و وزیراعلیٰ کوئی ایسی بقراطی جھاڑتا ہے کہ باقی وزراء اور عمالِ حکومت کو اس کی وضاحتیں کرتے کئی دن گزر جاتے ہیں، مگر حیران کن امر یہ ہے کہ اس وزیر سے کوئی باز پرس ہوتی ہے اور نہ ہی اسے کابینہ سے نکال باہرکیا جاتا ہے۔اب فواد چودھری نے بغیرکسی ابہام کے بڑے واضح انداز میں کہا ہے کہ حکومت سرکاری نوکریاں نہیں دے سکتی، کیونکہ اس طرح تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔ اب اس بیان سے اتنی گرمی سردی پیدا نہ ہوتی، اگر وزیراعظم عمران خان نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ نہ کیا ہوتا، اگر آپ اپنے اتنے واضح بیان پر یوٹرن لینا ہی چاہتے ہیں تو اس کا کوئی مضبوط جواز تو پیدا کریں۔یہ کہنا کہ نوکریاں دینے سے ملک دیوالیہ ہو جائے گا، کیا کسی حالیہ تحقیق کا نتیجہ ہے؟ اس وقت پتہ نہیں تھا، جب یہ وعدہ کیا گیا تھا، پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی فوری ضرورت کیوں پیش آئی، کہیں اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ جلتی پر تیل ڈالنے کے لئے یہ بیان داغا گیا۔ اگر یہ پارٹی پالیسی کے مطابق دیا گیا تو کم سے کم الفاظ میں اس کے لئے وقت کے چناؤ کو انتہائی احمقانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ پہلے ہی عوام میں ایک خاص قسم کی مایوسی موجود ہے۔ اس میں ایسے اعلانات حکومت نوکریاں نہیں دے سکتی، ان لوگوں کو بھی حکومت سے متنفر کرنے کا باعث بن سکتے ہیں، جو آج بھی اچھے دنوں کی آس لگائے حکومت کی حمایت کررہے ہیں۔

پہلے بھی کوئی حکومت سو فیصد افراد کو نوکریاں نہیں دیتی تھی۔ بے روزگاری بھی ہر دور میں موجود رہی ہے۔ البتہ وقت کے ساتھ ساتھ سرکاری محکموں میں ملازمتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں، جن پر بھرتی کا سلسلہ جاری رہتا ہے، کیونکہ ان اداروں کو آخر چلنا بھی تو ہے۔ پہلے یہ غلطی کی کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کر لیا، اس وقت بھی کہا گیا تھا کہ اتنی اسامیاں پبلک اور پرائیویٹ ادارے مل کر بھی پیدا نہیں کر سکتے، لیکن یہ اس سے بھی بڑی غلطی ہے کہ آپ اس وعدے سے یکسر مکر جائیں۔ فواد چودھری نے اپنے تئیں یہ بیان داغ کر حکومت کا بہت بڑا بوجھ ہلکا کر دیا ہے، حالانکہ ان کے اس ایک بیان نے حکومت کے تاثر کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ نادان دوستوں سے بچنا اسی لئے ضروری قرار دیا گیا ہے، لیکن کپتان تو ان میں چاروں طرف سے گھرے ہوئے ہیں۔

مزید : رائے /کالم