ناقصاں راپیرکامل ، کاملاں رارہنما

ناقصاں راپیرکامل ، کاملاں رارہنما

  

آپ کا نام نامی اسم گرامی علی بن عثمان بن علی ہے۔ آپ نے کشف المحجوب کے آغاز میں اپنا نام ابوالحسن علی بن عثمان بن ابی علی الجلابی الہجویری الغزنوی تحریر فرمایا ہے۔ آپ حسنی سید تھے۔ ولادت شہر غزنی میں ہوئی بچپن اس شہر کے دو محلوں میں گزارا ایک ہجویر جہاں آپ کا ننھیال تھا دوسرا جلاب جہاں آپ کا ددھیال تھا۔

دارا شکوہ سفیة الاولیاءمیں لکھتا ہے ”حضرت غزنی کے رہنے والے تھے، جلاب اور ہجویر غزنی کے دو محلے تھے۔ پہلے جلاب میں قیام پذیر تھے پھر ہجویر میں منتقل ہوگئے۔ ان کے والد گرامی کی قبر غزنی میں ہے .... والدہ ماجدہ کی قبر بھی پیر علی ہجویری کے ماموں تاج الاولیاءکے مزار سے متصل ہے آپ کا خانوادہ زہد وتقویٰ کے لئے مشہور تھا“۔ آپ کی کنیت ابوالحسن یقینا صفاتی ہے اس لئے کہ آپ کی کوئی صلبی اولاد نہ تھی۔ حضرت سید علی ہجویریؒ خود بھی اکلوتی اولاد تھے اور اُن کی کوئی حقیقی اولاد نہ تھی۔

آپ کا شجرہ یوں ہے: ”حضرت سید علی ہجویری بن حضرت سید عثمان بن حضرت سید علی بن حضرت سید عبدالرحمن بن سید عبداللہ (شاہ شجاع) بن حضرت سیدالوالحسن علی بن حضرت سید حسن (اصغر) بن حضرت سید زید بن حضرت امام حسنؓ بن حضرت سیدنا علیؓ “۔ آپ کا قد میانہ جسم سڈول اور گھٹا ہوا تھا۔ جسم کی ہڈیاں مضبوط اور بڑی تھیں۔ فراخ سینہ اور ہاتھ پاﺅں مناسب تھے چہرہ زیادہ گول تھا نہ لمبا۔ سرخ وسفید چمکدار رنگ تھا۔ کشادہ جبیں اور بال سیاہ گھنے تھے۔ بڑی اور غلافی آنکھوں پر خم دار گھنی ابرو تھیں۔ ستواں ناک، درمیانے ہونٹ اور رخسار بھرے ہوئے تھے چوڑے اور مضبوط شانوں پر اٹھتی ہوئی گردن تھی۔ ریش مبارک گھنی تھی۔ آپ بڑے جاذب نظر اور پُرکشش تھے۔آپ ؒ تن ڈھانپنے کے لئے کسی خاص وضع قطع کے لباس کا تکلف نہ فرماتے تھے، جو میسر آتا پہن لیتے تھے۔ لباس کے بارے میں خود فرماتے ہیں۔”ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس نے لباس کے بارے میں تکلف نہیں کیا۔ اگر رب تعالیٰ نے انہیں گدڑی دی، زیب تن کرلی اگر قبا دی تو پہن لی مَیں نے اسی مسلک اعتدال کو اختیار کر رکھا ہے اور لباس کے سلسلہ میں مجھے یہی طریقہ پسند ہے“ ۔

حضرت سید علی ہجویریؒ کی سال ولادت کے بارے میں متعدد روایات ہیں بعض تذکرہ نگاروں کی رائے ہے کہ:”آپ کی پیدائش دسویں صدی عیسوی کے آخر یا گیارہویں صدی عیسوی کے ابتدائی عشرے میں ہوئی“ آر اے نکلسن (انگریزی ترجمہ کشف المحجوب ص11 دیباچہ)۔

”آپ کی ولادت ماہ ربیع الاول 373ھ میں ہوئی“۔ حافظ عبداللہ فاروقی، مصباح الحق صدیقی (حیات وتعلیمات حضرت داتا گنج بخش (انگریزی) ص 138 )

”شیخ علی ہجویری جو داتا گنج بخش کے نام سے زیادہ مشہور ہیں وہ1009ءکے قریب پیدا ہوئے“۔ شیخ محمد اکرم (آب کوثر ص 76)

”آپ400 ھ کے نواح یعنی پانچویں صدی کے عین آغاز میں پیدا ہوئے“ سید ہاشمی فرید آبادی (ماثر لاہور ص 191)

”بعض لوگوں نے ان کی پیدائش کا سال 400ھ لکھا ہے لیکن اس کو یقینی نہیں کہا جاسکتا“ معین الحق ڈاکٹر (معاشرتی وعلمی تاریخ ص 21)

”آپ کی ولادت 400 ھ/ 1010میں ہوئی“ (اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 9 ص 19 جامعہ پنجاب لاہور)

آپ کی ابتدائی تعلیم اپنے ہی علمی گھرانے میں ہوئی۔ جب آپ لائق سفر ہوئے تو دنیائے اسلام کے بیشتر ممالک کی سیاحت فرمائی۔ اپنے دور کے اساتذہ، علماءاو رمشائخ کبار کی صحبت سے کسب فیض کیا اور علم وعرفان کے موتی اکٹھے کئے۔ آپؒ کے اساتذہ میں حضرت ابوالعباس بن محمد شقانی، حضرت ابوالقاسم بن علی بن عبداللہ گرگانی، حضرت عبدالکریم ابوالقاسم بن ہوازن القشیری، حضرت ابو جعفر محمد بن مصباح صیدلانی، حضرت ابوسعید ابوالخیر فضل اللہ بن محمد المہینی، حضرت ابو احمد المظفر بن احمد بن حمدان، حضرت ابوالفضل محمد بن الحسن الختلی، حضرت ابو عبداللہ محمد بن علی الداغستانی۔

حضرت سید علی ہجویریؒ کی ازدواجی زندگی کے بارے میں محققین اور تذکرہ نگاروں کی رائے مختلف ہے] حالانکہ تقریباً سب نے کشف المحجوب میں رقم مندرجہ ذیل عبارت کو بطور سند پیش کیا ہے اور اسی ایک عبارت سے آپ کی ازدواجی زندگی کے متعلق مختلف نتائج اخذ کئے ہیں کہ

”حق تعالیٰ نے مجھے گیارہ سال تک نکاح کی آفت سے محفوظ رکھا] لیکن اس فتنے میں مبتلا ہونا مقدر میں تھا۔ مَیں بن دیکھے اس کی صفات جو مجھ سے بیان کی گئیں انہیں سن کر میرا ظاہر اور باطن اس کا اسیر ہوگیا اور میں ایک سال تک اس کے خیال میں مستغرق رہا۔ نزدیک تھا کہ میرا دین تباہ ہو جاتا اللہ تعالیٰ نے کمال لطف اور فضل تمام سے میرے دل بیچارہ کو عصمت عطا کی اور اپنی رحمت سے خلاصی عنایت فرمائی“۔

آپؒ سلطان مسعود غزنوی کے دور میں وارد لاہور ہوئے ان کے ہمراہ حضرت ابو سعید ہجویری اور حضرت حماد سرخسی رحمتہ اللہ علیہم تھے۔ اس وقت لاہور میں شہزادہ مجدد بن مسعود نائب السلطنت غزنویہ تھا اور لاہور ایاز کی سرپرستی میں پنجاب کے ایک مرکزی شہر کی حیثیت سے تعمیر وتوسیع کے مراحل طے کررہا تھا۔

سال وردد کا ٹھیک ٹھیک تعین مشکل ہے البتہ غالب قیاس یہی ہے کہ آپؒ 431ھ میں واردِ لاہور ہوئے۔

سید علی ہجویریؒ کے ورودِ لاہور کے بارے ”فوائد الفواد“ میں29ذیقعدہ 708 /10مئی 1309ءکی ایک مجلس کے حوالے سے یوں لکھا ہے کہ ”شیخ علی ہجویری اور شیخ حسین زنجانی ایک مرشد سے بیعت تھے۔ شیخ حسین زنجانی مدت سے لاہور میں فروکش تھے۔ ایک روز مرشد نے شیخ علی کو لاہور جانے کا حکم دیا۔ انہوں نے ”شیخ علی“ سے کہا وہاں تو زنجانی موجود ہیں۔ پھر ارشاد ہوا کہ تم جاﺅ، چنانچہ وہ روانہ ہوگئے رات کے وقت لاہور پہنچے۔ اُسی رات حسین زنجانی کا انتقال ہوا او رصبح ان کا جنازہ اٹھایا گیا اور چاہ میراں میں تدفین ہوئی۔“حضرت شیخ حسین زنجانیؒ بڑے جلیل القدر صوفی ہو گزرے ہیں۔ ان کی بزرگی پر کوئی کلام نہیں لیکن ان کے سید علی ہجویریؒ کے پیر بھائی اور ہمعصر ہونے پر اکثر محققین وتذکرہ نگار حضرات کو شدید اختلاف ہے۔ اختلاف کے مندرجہ ذیل اسباب ہیں۔

مستند ومعتبر تاریخی کتب اور قدیم وجدید تذکرے اس بات کے گواہ ہیں کہ!

1۔ حضرت حسین زنجانی کا سال وفات 600ھ ہے۔ ابوالفضل: آئین اکبری 3/207

2۔ خواجہ معین الدین چشتیؒ اور حضرت حسین زنجانیؒ کی ملاقاتوں (588 ھ) کا ذکر موجود ہے۔ دارا شکوہ: سفینة الاولیاءص39

3۔ خواجہ اجمیر کی لاہور میں سید یعقوب زنجانی المعروف صدر دیوان سے بڑی محبت والفت ہوگئی، سید یعقوب زنجانی ؒ کے مزار سے متصل خواجہ اجمیر کی نشست گاہ موجود ہے۔ خزینة الاصفیائ“ مفتی غلام سرور لاہوری۔

”جن بزرگ کی قبر پر چلہ بیٹھتے ہیں اس بزرگ کی روح سے استمداد کرتے ہیں چنانچہ حضرت (علی ہجویریؒ) کی مزار کے جنوب رویہ اندرون چار دیواری مکان چلہ (حجرہ اعتکاف) حضرت خواجہ معین الدین چشتی کا اب تک موجود ہے“۔ ص139 تحقیقات چشتی۔

”حضرت حسین زنجانی، حضرت یعقوب زنجانی اور حضرت اسحاق 557ھ میں وارد لاہور ہوئے“۔ ص 238 تحقیقات چشتی۔

حضرت سید علی ہجویریؒ نے اپنے مرشد کی وصیت کا ذکر کشف المحجوب میں یوں کیا ہے:

”جس دن میرے مرشد کی وفات ہوئی اس وقت وہ بیت الجن میں تھے یہ قصبہ بانیار اور دمشق کی درمیانی گھاٹی میں واقع ہے۔ وصال کے وقت آپ کا سر میری آغوش میں تھا اور اُس وقت میرا دل انسانی فطرت کے مطابق ایک سچے دوست کی جدائی پر نہایت غمگین تھا۔ آپ نے مجھے وصیت فرمائی اے فرزند! مَیں تجھے اعتقادی مسئلہ بتاتا ہوں اگر تو اس پر عمل کرے گا تو سب تکالیف سے چھوٹ جائے گا۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لے کہ سب مقامات وحالات میں خدا تعالیٰ ہی نیک وبد پیدا کرتا ہے اس لئے اس کے کسی فعل پر معترض نہ ہونا چاہئے اور نہ دل رنجیدہ کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ آپ نے کوئی نصیحت نہ فرمائی اور اپنی جان مالک حقیقی کے سپرد کردی“۔

وصیت شیخ کے حوالے سے بھی لاہور کا کوئی تذکرہ موجود نہیں۔ ان شواہد سے اس بات کو تقویت پہنچی ہے کہ فوائد الفواد کی روایت الحاقی ہے اور حضرت حسین زنجانی رحمتہ اللہ علیہ سید علی ہجویریؒ کے پیر بھائی اور ہمعصر بزرگ نہ تھے۔

حضرت حسین زنجانی ؒ (مدفون چاہ میراں) کو حضرت سید علی ہجویریؒ سے والہانہ عقیدت تھی اس لئے وہ اکثر آپ کے مزار پر حاضری دیتے۔

آپؒ کی سن وفات کے بارے میں بھی آراءمختلف ہیں۔ جن محققین اور تذکرہ نگار حضرات نے سن وفات 465 ھ سے اتفاق کیا ہے۔ مندرجہ ذیل ہیں۔

مولانا جامی لاہوری قطعہ تاریخ 465ءنظم کیا ہے۔ میر غلام علی آزاد بلگرامی نے مآثرالکرام میں گنیش داس وڈیرا نے چار باغ پنجاب میں، سامی بیگ نے قاموس الاعلام میں، صباح الدین عبدالرحمن نے بزم صوفیہ میں، امام بخش نے حدیقة الاسرار فی اخبار الابرار میں۔ مفتی غلام سرور لاہوری نے تاریخ مخزن پنجاب اور خزینة الاصفیاءمیں۔ رائے بہادر کنیا لال نے تاریخ لاہور میں۔ شمس العلماءمولوی سید احمد دہلوی نے فرہنگ آصفیہ میں، مولانا عبدالماجد دریا بادی نے تصوف اسلام میں۔ شمس العلماءسید عبداللطیف نے تاریخ لاہور (انگریزی) میں۔ اسماعیل پاشا بغدادی نے اسماءالمصنفین میں۔ ملک الشعراءبہار نے سبک شناسی میں، رحمان علی نے تذکرہ علماءہند میں، ہدایت حسین نے دائرة المعارف میں، محمد دین فوق نے سوانح عمر حضرت داتا گنج بخشؒ میں، نور احمد چشتی نے تحقیقات چشتی میں، فقیر محمد جہلمی نے حدائق الحنفیہ میں، سید عبدالحئی حسنی نے نزہة الخواطر میں اور شیخ محمد اکرام نے آب کوثر میں، آپ کا سن وصال465ھ درج کیا ہے۔دارا شکوہ نے سفینة الاولیاءمیں 456ھ اور464۔ لعل بیگ لعلی نے ثمرات القدس میں 456ھ ڈاکٹر قاسم غنی نے تاریخ تصوف دراسلام جلد دوم میں470ھ اور نکلسن نے456 ھ یا 469 ھ کو سال وفات قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر مولوی محمد شفیع نے مقالات دینی وعلمی میں کشف المحجوب میں مذکور شیوخ کے اسماءسے استناد کرتے ہوئے،جو کشف المحجوب کی تحریر کے وقت فوت ہوچکے تھے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ آپؒ 479ھ تک بقید حیات تھے۔ عبدالحئی حلیبی نے اورینٹل کالج میگزین 1960ء میں اس استناد کو مزید آگے بڑھایا اور داخلی شہادتوں کی بنیاد پر لکھا ہے کہ آپؒ 481ھ سے500ھ کے درمیان فوت ہوئے۔ سال ولادت ووصال میں اختلاف کے باوجود آپؒ کا دور پانچویں صدی ہجری پر محیط ہے۔

حضرت سید علی ہجویریؒ نے زندگی کے آخری ماہ وسال لاہور ہی میں گزارے اور چند روز کی علالت کے بعد خانقاہ میں اپنے حجرے میں وفات پائی جہاں آپ کے خلیفہ حضرت شیخ ہندیؒ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو یہیں دفن کیا گیا۔ جہاں آج بھی آپ کا مزار ہے۔

سید علی ہجویریؒ نے اپنی کتابکشف المحجوب میں عقلی اور فلسفیانہ پیچیدہ مباحث کے برعکس انتہائی سادہ انداز میں خالصتاً اسلام کی دعوت دی ہے۔ بڑے زور شور اور جوش وخروش کے ساتھ شریعت وسنت کی حاکمیت کا غلغلہ برپا کیا ہے۔ وہ شریعت وسنت سے باہر عمل کے ایک معمولی قدم یا سوچ کی ایک ادنیٰ لکیر کا تصور تک نہیں کرتے۔

حضرت سید علی ہجویریؒ، اپنی تصنیف کشف المحجوب میں خود رقمطراز ہیں کہ!

”اے طالب راہ حقیقت! اللہ تعالیٰ دونوں جہانوں کی سعادت مندی نصیب فرمائے۔ جب تم (ابوسعید ہجویری) نے مجھے اپنے سوال کے ذریعے اس کتاب کی درخواست کی تو میں نے استخارہ کیا اور خود کو قلبی واردات اور باطنی القا کے حوالے کردیا جب استخارہ میں اِذن الٰہی حاصل ہوگیا تو میں نے تمہاری مقصد برآری کی خاطر اس کتاب کے لکھنے کا مصمم ارادہ کرلیا اور اس نوشتہ کا نام ”کشف المحجوب“ رکھا۔ امید ہے ارباب فہم وبصیرت اس کتاب میں اپنے سوالات کا جواب علیٰ وجہ الکمال پائیں گے“۔

کشف المحجوب کا قدیم ترین مطبوعہ ایڈیشن وہ ہے، جس کا ذکر اے جے آر بری نے انڈیا آفس لائبریری کی کتابوں کی فہرست میں کیا ہے۔ ایل ایس ڈگن کی فہرست کے مطابق کشف المحجوب کے قلمی نسخے دی آنا، پیرس، برٹش میوزیم، لینن گراڈ یونیورسٹی،انڈیا آفس لائبریری لندن، تاشقند پبلک لائبریری، رائل ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال برلن اور لاہور کے کتب خانوں میں موجود ہیں ان میں ساڑھے نو سو سال پرانا نسخہ بھی شامل ہے۔ کشف المحجوب کے قدیم ترین قلمی نسخوں کے سلسلے میں لاہور میں بھی بعض نادر نسخے موجود ہیں دو منقش قلمی نسخے پنجاب یونیورسٹی لائبریری میں ہیں جن میں ایک پر 1265ءدرج ہے۔ اورنگ زیب عالمگیر کے عہد کا ایک قلمی نسخہ بھی پبلک لائبریری لاہور میں ہے۔ ایک صحیح قلمی نسخہ الحاج حضرت میاں محمد صدیق (مرحوم) یکے از سجادہ نشین درگاہ حضرت گنج بخشؒ کے ذاتی کتب خانہ میں محفوظ ہے یہ وہ قدیم ترین فارسی نسخہ ہے جس کی سب سے پہل نول کشور لکھنوی نے نقل کروائی اور طباعت کے بعد شائع کیا۔ ایک قدیم قلمی نسخہ شیخ نبی بخش (مرحوم) یکے از سجادہ نشین حضرت ہجویریؒ کے پاس موجود تھا جو رضا پبلی کیشنز لاہور نے طبع کروا کر شائع کیا۔

کشف المحجوب کا انگریزی ترجمہ برطانوی عالم آر اے نکلسن نے کیا تھا 1911ءمیں سٹیفن آئسن اینڈ سنز لندن نے شائع کیا تھا۔ تیسری بار کشف المحجوب سمرقند میں شائع ہوئی۔ اس کو سید عبدالمجید مفتی نے 1330ھ میں شائع کیا تھا۔ پنجاب پبلک لائبریری لاہور میں سمرقندی نسخہ ایل ایس ڈگن کو افغانستان سے ملا تھا۔

کشف المحجوب کا مستند نسخہ روس میں شائع ہوا جسے روسی پروفیسر ژوکوفسکی نے ترتیب دیا۔ یہ نسخہ لینن گراڈ سے شائع ہوا۔ اس نسخے کی بنیاد دی آنا کی قومی لائبریری میں موجود ایک نسخہ پر ہے۔ پروفیسر ژوکوفسکی کے مطابق انہوں نے ایک ایسے نسخے کا بھی مطالبہ کیا جو گیارہویں صدی عیسوی کے شروع میں لکھا گیا اور اس کے علاوہ روسی پروفیسر نے تاشقند کی لائبریری میں گیارہویں صدی عیسوی میں شائع ہونے والے ایک اور نسخے سے بھی استفادہ کیا اور اِسی نسخہ کی بنیاد پر ایران کے محمدلوی عباسی نے اور 1979ءکو کتاب خانہ طہوری تہران نے بھی قاسم انصاری کے مقدمہ کے ساتھ کشف المحجوب کا ایک انتہائی خوبصورت ایڈیشن شائع کیا۔

کشف المحجوب کا عربی زبان میں پہلا ترجمہ شیخ تاج الدین سنبھلیؒ نے جہانگیر کے دور میں کیا اور دوسرا جدید عربی ترجمہ ڈاکٹر اسماءعبدالہادی قندیل نے کیا ہے جو مکتبہ الاہرام التجاریہ کی طرف سے1974ءمیں طبع ہوا۔ کشف المحجوب پر مقالہ تحریر کرکے ایک ایرانی اسکالر محمد حسین تسبیحی نے پنجاب یونیورسٹی شعبہ فارسی سے1985ءمیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

حضرت سید علی ہجویری نے جہاں ضروری سمجھا کشف المحجوب میں بطور سند قرآن مجید کی آیات کریمہ، احادیث مبارکہ اور صوفیاءمشائخ کے اقوال پیش کےے ہیں۔حضرت سید علی ہجویریؒ نے قرآن کریم کی بہتر سورتوں میں سے دوصد اکتیس آیات کریمہ کے حوالے دےئے ہیں۔

کشف المحجوب میں ایک سو اڑتیس احادیث مبارکہ اور مختلف صوفیا ومشائخ کے تین سو باون اقوال زریں اور 42 عربی اشعار درج فرمائے ہیں۔ اس کے علاوہ مشائخ وصوفیا کی 21 تصانیف کے حوالے بھی دےئے ہیں۔

پانچویں صدی ہجری تک مسلمانوں میں جتنے فرقے تھے یا گزر چکے تھے ان کا ذکر بھی تفصیل سے کیا ہے ان کی تعداد تقریباً 50 کے لگ بھگ بتائی ہے۔جن معروف بزرگوں نے کشف المحجوب سے استفادہ کیا ان کے نام درج ذیل ہیں۔(1) خواجہ فرید الدین عطارؒ (م627ھ) تذکرة الاولیاء(2) مولانا جامیؒ نفحات الانس (3) حضرت جہانگیر اشرف سمنانیؒ (825) (4) خواجہ نظام الدین اولیاؒء(6) حضرت یحییٰ منیری ؒ (782) (6) حضرت خواجہ محمد پارساؒ (822ھ) فصل الخطابؒ (7) حضرت خواجہ بندہ گیسو درازؒ (825ھ)

حضرت سید علی ہجویریؒ کی آخری تصنیف کشف المحجوب کے مطالعہ سے ان کی نو دیگر مندرجہ ذیل تصانیف کے نام معلوم ہوئے ہیں مگر ان میں سے ایک بھی دستیاب نہیں۔

(1) دیوان (2) کتاب فنا وبقا (3) اسرار الخرق والمو¿نات (4) الرعایت بحقوق اللہ تعالیٰ (5) کتاب البیان لاہل العیان (6) نحو القلوب (7) منہاج الدین (8) ایمان (9) شرح کلام منصور۔

کشف الاسرار نام کی ایک کتاب کا تذکرہ آپ کی تصانیف کے ضمن میں ملتا ہے ۔

٭٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -