مسئلہ کشمیر پر دنیا کی خاموشی‘ قابل افسوس ہے‘ سید فخر امام

مسئلہ کشمیر پر دنیا کی خاموشی‘ قابل افسوس ہے‘ سید فخر امام

  

ملتان (پ ر) سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں منعقدہ 141 ویں بین پارلیمانی یونین کی جنرل اسمبلی کے موقع پر چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر سید فخر امام نے عالمی پارلیمانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی موجوددہ صورتحال پر عالمی برادری کو متنبہ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو ایک فلیش پوائنٹ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اقوام عالم نے اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو یہ خطے کے امن اور سلامتی (بقیہ نمبر32صفحہ12پر)

کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔کشمیری کمیٹی کے چیئرمین اور پارلیمانی وفد کے سربراہ نے کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کا ایک جامع اعداد شمار پیش کرتے ہوئیعالمی برادری پر زور دیا کہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر دنیا کی خاموشی قابل افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس پلیٹ فارم میں موجود پارلیمنٹرین کوکشمیرمیں ہونے والے بھارتی مظالم کو روکنے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھانے کی درخواست کرتا ہوں۔فخر امام نے برطانیہ کے پارلیمانی وفد کے سربراہ جان وائٹنگ ڈیل کے بیان کا بھی خیرمقدم کیا جنہوں نے مسئلہ کشمیر کو اقوام عالم کی فوری توجہ کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے پْرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو کشمیر کے بے گناہ لوگوں کی حالت زار پر خاموش تماشائی نہیں بننا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں عالمی ادارے کو یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ اگر ہم کشمیری عوام کو ان کا جائز حق دلانے میں قاصر ہیں تو ہم جمہوری نمائندہ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔انہوں نے تمام پارلیمنٹیرینز پر زور دیا کہ وہ آئی پی یو کے پلیٹ فارم سے مقبوضہ وادی کشمیر میں حقائق تلاشی مشن بھیجیں تاکہ خود جا کر بے گناہ کشمیریوں کی حالت زار دیکھ سکیں۔ فخر امام نے کشمیر میں بھارت کی جانب سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جارحیت کی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اْنہوں نے پاکستان کے تاریخی اور اصولی موقف پر بھی اعادہ کیا کہ جموں وکشمیر تنازعہ صرف بات چیت اور سفارتکاری و عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔

فخر امام

مزید :

ملتان صفحہ آخر -