کراچی پولیس نے فائر کہیں مارنا ہوتا، بندوق کہیں اور ہوتی: سپریم کورٹ

      کراچی پولیس نے فائر کہیں مارنا ہوتا، بندوق کہیں اور ہوتی: سپریم کورٹ

  



اسلام آباد(آئی این پی) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس گلزار احمد نے کراچی پولیس کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی پولیس نے فائرکہیں اورمارناہوتا ہے اوربندوق کہیں اور ہوتی ہے۔ جمعرات کو سپریم کورٹ نے کراچی میں پولیس فائرنگ سے جاں بحق بچی امل عمر ازخودنوٹس کیس کی سماعت کی۔جسٹس گلزار احمد نے سندھ حکومت اور کراچی پولیس پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ہسپتالوں کی صورتحال(بقیہ نمبر16صفحہ12پر)

 بہتر بنانے کیلئے کیا اقدامات ہوئے؟ ہسپتالوں کا کام ہے کہ خود مریض کو ادویات فراہم کریں، دوائی کی لائن میں لگے لواحقین کے مریض اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں، ایمرجنسی میں مریض کے لواحقین کو دوائی لینے بھجوا دیا جاتا ہے۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے کہ کالا پل پر ابھی بھی نشئی سوئے پڑے ہونگے، پولیس کی ناک کے نیچے منشیات کا دھندا ہوتا ہے، کراچی میں ٹریفک سگنل پر رکے لوگ لوٹ لیے جاتے ہیں، اسلحہ صرف پولیس افسران کے پاس ہونا چاہیے نہ کہ اہلکاروں کے پاس، کراچی پولیس نے فائرکہیں اورمارناہوتا ہے اوربندوق کہیں اور ہوتی ہے، کراچی پولیس کی فائرنگ سے پہلے بھی کئی لوگ مارے جا چکے۔امل کے والدین کے وکیل نے بتایا کہ نیشنل میڈیکل سنٹر کی رجسٹریشن ہی امل ہلاکت کے بعد ہوئی۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہیلتھ کیئرکمیشن ایکٹ 2013 میں بنا لیکن عمل چار سال بعد شروع ہوا، چار سال ایکٹ الماری میں پڑا رہا اس کا ذمہ دار کون ہے؟۔ عدالت نے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کو امل عمر کے واقعہ میں نیشنل میڈیکل سنٹر کیخلاف انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ میں رپورٹ جمع کرائی جائے۔عدالت نے سندھ حکومت کو امل عمر ایکٹ پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے امل کے والدین کو امدادی رقم نہ دینے پر بھی جواب طلب کرلیا اور سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ

مزید : ملتان صفحہ آخر