126دن کا دھرنا دینا مولانا فضل الرحمن کا بھی حق، حکومت کنٹینر ار کھانا دے: سر اج الحق

    126دن کا دھرنا دینا مولانا فضل الرحمن کا بھی حق، حکومت کنٹینر ار کھانا دے: ...

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اگر قبل از وقت الیکشن کی حامی ہیں تو ممبران کو اسمبلیوں سے واپس لائیں۔ دونوں جماعتوں نے استعفے دے دیے تو ایوان نہیں چل سکیں گے۔ دھرنے کا اعلان حکومت کے اعصاب پر سوار ہے۔ 126 دن کا دھرنا دینا مولانا فضل الرحمن کا بھی حق ہے۔ حکومت دھرنے کو روکنے کی بجائے وعدے کے مطابق انہیں کنٹینر اور کھانا دے۔ علماء و مشائخ مسجدوں اور خانقاہوں سے نکل کر رسم شبیریؓ ادا کریں۔ پاکستان ایک کشتی ہے یہ کشتی ڈوب گئی تو کوئی مسجد اور خانقاہ محفوظ نہیں رہے گی۔ تحفظ ختم نبوت، نظام مصطفیؐ کا نفاذ اور کشمیر کی آزادی سیاسی ایجنڈا نہیں، قومی و ملی فریضہ ہے۔ اگر یہ سیاست ہے تو پھر ہم سب یہ سیاست کرتے رہیں گے۔ حکومت اور اپوزیشن کا ایجنڈا اب کشمیر نہیں رہا۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ کسی سیاسی جماعت نے اب تک کشمیر کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھا۔ حکومت پاکستان کے تحفظ کی لڑائی اسلام آباد میں لڑنا چاہتی ہے، اگر یہ لڑائی سری نگر میں نہ لڑی گئی تو دشمن مظفر آباد اور اسلام آباد تک پہنچے گا۔ حکمران کشمیر کی آزادی کا ایک روڈ میپ اور واضح لائحہ عمل دیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں ہونے والی مشائخ کانفرنس سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم، امیر جماعت اسلامی آزادی کشمیر ڈاکٹر خالد محمود، پیر سید غلام رسول اویسی، پیر شہزاد احمد چشتی، پیر نو بہار شاہ، پیر سید اختر رسول قادری، پیر بابر سلطان، صدر علماء و مشائخ رابطہ کونسل میاں مقصود احمد، برہان الدین عثمانی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مشائخ کانفرنس میں چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کی معروف درگاہوں کے سجادہ نشین حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن وہ کام نہیں کر رہی جو وقت اور حالات کا تقاضاہے۔

 سراج الحق 

مزید :

صفحہ آخر -