ٹیلی مواصلات بندش واقعات میں بھارت سرفہرست، تعلیمی نظام بھی تنزلی کا شکار 

ٹیلی مواصلات بندش واقعات میں بھارت سرفہرست، تعلیمی نظام بھی تنزلی کا شکار 

  

سرینگر(آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی سے ایک دن قبل 4 اگست کو عائد کی گئی ٹیلی مواصلات پر پابندی، بھارت میں پچھلے چار برس میں طویل دورانیہ کے تعطل کاچوتھا واقعہ ہے۔ساؤتھ ایشین وائر نامی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ جموں و کشمیر میں 2016 کے بعد سے مواصلات کے شٹ ڈاؤن کے مجموعی طور پر 183 واقعات ریکارڈ کئے گئے، جو بھارت اور اس کے مقبوضہ علاقوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ راجستھان کا نمبر دوسرا ہے جس میں 43 دفعہ مواصلات کو معطل کیا گیا۔ اگست 2019 تک جموں و کشمیر میں مواصلاتی شٹ ڈاؤن کے 67  واقعات پیش آئے۔زیادہ تر واقعات میں، شٹ ڈاؤن کی سرکاری وجہ "عوامی حفاظت یا احتیاطی ا قد ا م"تھی۔ 2016 سے اگست 2019 کے درمیان 108 شٹ ڈاؤن کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا۔ رپورٹ کے مطابق ممتاز کشمیری رہنما برہان وانی کی شہادت کے بعد ہونیوالے مظاہروں کے بعد جولا ئی 2016 اور جنوری 2017 کے درمیان جموں و کشمیر میں سب سے طو یل بند ش 6دن رہی، برہان وانی کی شہادت کے بعد نومبر 2016 میں پوسٹ پیڈ سروسز بحال کردی گئیں، لیکن پری پیڈ سروسز جنوری 2017 تک محدود کردی گئیں۔عالمی سطح پر بھارت میں سب سے زیادہ مواصلات کی بندش کے واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ جنوری 2016 تا جون 2018 کے درمیان 160 شٹ ڈاؤن ریکارڈ کیے گئے تھے۔ہندوستان کے بعد ایتھوپیا کا نمبر ہے جہاں دسمبر 2017 تا اپریل 2018 کے درمیان 110 دن تک طویل ترین شٹ ڈاؤن دیکھنے میں آیا۔

ٹیلی مواصلات معطلی

نئی دہلی(آن لائن)لندن کے ٹائمز ہائر ایجوکیشن میگزین نے اپنے سروے میں دنیا کی تین سو ممتاز ترین یونیورسٹیوں کی ایک فہرست شائع کی۔ جس کا خاص پہلو یہ ہے کہ فہرست میں بھارت کی ایک بھی یونیورسٹی شامل نہیں جبکہ نیوز ایجنسی ساؤتھ ایشین وائر نے بھارتی حکومت کی سرکاری رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ2017 تا 2018 کے دوران بھارتی طلبہ نے بیرون ممالک کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کیلئے 280 کروڑ امریکی ڈالر خرچ کیے۔ 2015تا2016 کے دوران بھارت میں اعلی تعلیم حاصل کرنیوالے طلبہ نے 55 کروڑ امریکی ڈالر خرچ کیے جو 2017تا 2018 کے دوران کم ہو کر 47 کروڑ امریکی ڈالر ہوگیا۔بھارت کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنیوالے بیرونی طلبہ کے معاملے میں بھارت کو 26 واں مقام حاصل ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ کے مطابق قومی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنیوا لے46 ہزار بیرونی طلبہ ہیں جس میں 60 فیصد طلبہ کا تعلق جنوبی ایشیا ئی ممالک سے ہے۔تعلیمی اصلاحات کیلئے قائم پروفیسر یش پال کمیٹی کے مطابق یونیورسٹیاں تخلیقی صلاحیتوں اور جدید نظریات کیلئے بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ مغربی یونیورسٹی کے وجود میں آنے سے قبل ہی بھا رتی یونیورسٹی جیسے نالندہ، تکشیلہ، سارناتھ، امراوتی اور بنارس یونیورسٹی ترقی یافتہ تھیں، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے بھارت اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے بجائے ماضی کی ان شاندار یادوں کو یاد کرنے میں ہی مست ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں اہم تعلیمی اصلاحات کو نافذ کرنے کی تجویز پیش کیے ہوئے نیشنل نالیج کمیشن کو 14 سال کا وقفہ گزر گیا لیکن اس سے متعلق ابھی تک کوئی خاص قد م نہیں اٹھایا گیا۔ اگر ماضی میں ٹھوس اور مناسب اقدامات اٹھائے گئے ہوتے تو ہمارے تعلیمی نظام کو اس بدتر حالت سے گزرنانہیں پڑتا۔ چار مرکزی وزارتوں کی جانب سے اجتماعی طور پر ایسے بھارتی پروگرام کی تشکیل کی گئی جس کا مقصد فیس میں کمی اور اسکالرشپ دے کر بھارتی مطالعاتی مراکز کو 30 بیرونی ممالک تک بڑھانا ہے۔ حال ہی میں بھارتی حکومت نے عالمی معیار کی یونیورسٹیز کی تعمیر کیلئے چار سو کروڑ رو پے کا مختص کیے ہیں۔ بھارت میں 757 یونیورسٹیز، 38 ہزار کالجز اور 11 ہزار 922 تعلیمی ادارے موجود ہیں جس میں سے کچھ یونیور سٹی ہی بیرونی طلبہ کو متاثر کرپاتی ہیں۔ بیرونی طلبا کی تعداد میں  نیپال سے 24.9 فیصد، افغانستان سے 9.5 فیصد، سوڈان سے 4.8 فیصد، بھوٹان سے 4.3 فیصد اور نائیجیریا سے 4 فیصد طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق وزارت فروغ انسانی وسائل نے اعلی تعلیم کو بہتر بنانے کے مقصد سے ایک پانچ سالہ ایجوکیشن کوالٹی اپ گریڈیشن اینڈ انکلوڑن پروگرام کا آغاز کیا تھا۔ اس پروگرام کی سر براہی 10 ماہرین کے گروپ نے کی۔ انہوں نے متعدد سفارشات مرتب کیں اور اس منصوبے کیلئے پانچ سال کے دوران ڈیڑھ لاکھ روپے کا بجٹ جاری کیا۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق چین اپنے تعلیمی بجٹ کیلئے 56 ہزار پانچ سو کروڑ امریکی ڈالر خرچ کرتا ہے جس میں سے صر ف اعلیٰ تعلیم کیلئے 14 ہزار پانچ سو امریکی ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں۔ چین کے مقابلے بھارت تعلیمی شعبے میں 1240کروڑ امریکی ڈالر خرچ کرتا ہے، جس میں اعلی تعلیم کیلئے صرف 450 کروڑ امریکی ڈالرہی خرچ کیے جاتے ہیں۔

بھارت یونیورسٹی

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -