دنیا خطے کو ایٹمی جنگ سے بچانے کیلئے کشمیریوں کی مدد کرے،سردار مسعود خان

دنیا خطے کو ایٹمی جنگ سے بچانے کیلئے کشمیریوں کی مدد کرے،سردار مسعود خان

  



لندن (این این آئی) جموں وآزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیر میں جاری جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے اور نہ ہی مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان ہے یہ جنگ انسانیت اور درندگی کے درمیان ہے یہ معرکہ انسانیت اور فاشزم کے مابین ہے،بھارت کی متشدد انتہا پسند جماعتیں اور فاشسٹ تنظیمیں جنوبی ایشیاء سے مسلمانوں کے خاتمہ کی باتیں کرتیں ہیں۔ دنیا کو نفرت کی اس لہر سے لڑنے اور خطہ کو جوہری جنگ سے بچانے کے لیے ہماری مدد کرنا ہو گی بھارت کی طرف سے پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر پر چڑھائی، محاصرے اور مقبوضہ علاقے کو اپنی نو آبادی بنانے کے بعد دنیا کے رد عمل نے 1938 کے معاہدہ میو نخ کی یاد تازہ کر دی جب جرمنی کی حمایتی مغربی طاقتوں نے چیکو سلوا کیہ اور پولینڈ کے علاقوں پر ہٹلر کے قبضہ کو جرمنی کا اندرونی معاملہ قرار دے کر نظر انداز کر دیا تھا۔ مغربی ملکوں کے اس رویہ کے نتیجے میں دنیا کو نہ صرف خوفناک جنگ کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ایک خاص طبقہ کی نسل کشی اور منظم قتل عام کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھنا پڑا۔ آج مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو صورتحال ہے وہ نازی جرمنی سے کسی طرح مختلف نہیں ہے۔ یہ بات اُنہوں نے سنٹر فار ایکسیلنس (فیضان السلام) کے زیر اہتمام ایک استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پیر شیخ غلام ربانی کی طرف سے دی گئی استقبالیہ تقریب میں مقامی اراکین پارلیمنٹ، کونسلرز، وکلاء اور سول سو سائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ لندن کے عوام مقبوضہ کشمیر کے عوام کے درد اور مصائب کا پوری طرح تصور بھی نہیں کر سکتے۔ خواتین کی عزت و ناموس تار تار ہے، بھارت کے دعوے سے کشمیر کے حالات نارمل نہیں ہو سکتے بلکہ صورتحال معمول پر اُس دن آئے گی جب کشمیر کے لوگ اپنا حق خود ارادیت لینے کے بعد کہیں گے کہ اب صورتحال معمول پر آئی ہے۔ صدر سردارمسعود خان نے پانچ اگست کے غیر قانونی بھارتی اقدامات کے بعد برطانوی پارلیمنٹ میں تنازعہ کشمیر پر بحث شروع کرانے پر اراکین پارلیمنٹ خاص طور پر برطانیہ کی لیبر پارٹی کا مقبوضہ کشمیر کے حوالہ سے ایک موثر قرار داد پاس کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

سردار مسعود

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر