سرید نے تعلیم کو سیاست سے جوڑ کر قوم میں قوت پیدا کی، ہم یہ پیغام بھول چکی: مقررین

      سرید نے تعلیم کو سیاست سے جوڑ کر قوم میں قوت پیدا کی، ہم یہ پیغام بھول ...

  



لاہور(لیڈی رپورٹر)سر سید احمد خان ؒکی 202ویں سالگرہ کے موقع پر پنجاب یونیورسٹی ادارہ علوم ابلاغیات اور لبرل ہیومن فورم ا شتر ا ک   سے سر سیدؒ،خرد مندوں کے امام“کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں مجیب الرحمن شامی‘سجاد میر‘ڈاکٹر مجاہد منصوری‘یاسر پیر زادہ‘افضال ریحان‘ڈاکٹر نوشینہ سلیم‘ڈاکٹر شبیر سروراورطلبہ نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر دو قومی نظریہ اور جداگانہ انتخابات کے بانی سر سید احمد خانؒ کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔ مقررین نے سرسیدؒ کو ان کی تعلیمی‘ صحافتی‘ معاشرتی اور قومی خدمات پر زبر دست خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں مجیب الرحمن شامی نے کہا سر سیدؒ کی زندگی سے اہم پیغام ملتا ہے کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم دنیا کا مقا بلہ نہیں کر سکتی‘سر سیدؒ کے تعلیمی اداروں خصوصاً علی گڑھ یونیورسٹی کے باعث افراد کی ایسی کھیپ تیار ہوئی جنہوں نے قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا،لیکن آ ج ہم سر سید ؒ کا پیغام بھول چکے ہیں۔کروڑوں طلبہ سکولوں سے باہر ہیں اور تعلیم کا معیار بھی کم تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ تقریب سے خطاب میں سجاد میر نے کہا سر سیدؒ نے اپنی کتاب کے ذریعے فرنگی کی حضور کی شان میں گستاخی پر مبنی کتاب کا جواب دیا، انہوں نے کہا اگر میرے گھر کے برتن بھی بک جائیں تب بھی یہ کتاب لکھوں گا۔انہوں نے مسلمانان پاک و ہند کی معاشرتی ترقی اور قیام پاکستان کیلئے اہم کردار کیا۔تقریب سے خطاب میں ڈاکٹر مجاہد منصوری کا کہنا تھا سرسیدؒ نے قلم کی طاقت کے ذریعے بر صغیرکے ہارتے ہوئے مایوس مسلمانوں کی ہمت بڑھائی اور انہیں قلم و کتاب تھمایا تاکہ وہ آزادی کیلئے عملی تیاری کریں۔اس طرح وہ اپنے بہترین ابلاغ کے ذریعے جذ با تی اور مایوس لوگوں کے رویوں کے بدلنے میں کامیاب ہوئے۔انہوں نے تعلیم کو سیاست سے جوڑ کر قوم میں وحدت اور قوت پیدا کی۔ ا نہوں نے میڈیا کی آزادی پر قدغن لگانے کے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ایسی پابندیاں تو ڈکٹیٹر شپ کے دور میں بھی نہیں ہوا کرتی تھیں۔انہوں نے احتساب اور ابلاغ وآگاہی کے فروغ میں میڈیا کے کردار کو سراہا۔صدر لبرل ہیومن فورم افضال ریحان،انچارج ادارہ علوم ابلاغیات ڈاکٹر نوشینہ سلیم اور ڈاکٹر شبیر سرور نے بھی خطاب کیا۔بعد ازاں مقررین اورطلبہ نے سر سیدؒ کی سالگرہ کا کیک کاٹااور اس موقع پر اہم سیمینار منعقد کروانے پر ادارہ علوم ابلاغیات اور لبرل ہیومن فورم کی کاوشوں کو سراہا۔

سرسیدؒ

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر