سٹینوگرافرکی عدم دستیابی، احتساب عدالت کے جج فیصلے ہاتھ سے لکھنے پر مجبور

سٹینوگرافرکی عدم دستیابی، احتساب عدالت کے جج فیصلے ہاتھ سے لکھنے پر مجبور

  

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت کے ایڈمن جج امیر محمد خان سٹینو گرافر کی عدم دستیابی سے اہم فیصلے اپنے ہاتھ سے لکھ رہے ہیں،ایڈمن جج نے سٹینو کی فراہمی کے لئے وفاقی وزارت قانون کو خط لکھ دیا۔احتساب عدالت نمبر چار میں ایک سال گزرنے کے باوجود سٹینوگرافر کی تعیناتی عمل میں نہ لائی جا سکی۔واضح رہے کہ سٹینو گرافر کی عدم دستیابی سے احتساب عدالت کے ایڈمن جج امیر محمد خان اپنے ہاتھ سے اہم فیصلے لکھ رہے ہیں،اس عدالت میں میاں محمدنواز شریف، حمزہ شہباز، مریم نواز، آصف ہاشمی کے کیسسز زیر سماعت ہیں،ایڈمن جج نے سٹینو کی فراہمی کے لئے وفاقی وزارت قانون کو خط لکھ دیاہے، خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ نیب کورٹ نمبر چار کا اسٹینو 12 ستمبر 2018 سے دستیاب نہیں،ایک سال گزرنے کے باوجود اس کورٹ کو متبادل اسٹینو فراہم نہیں کیا گیا،نیب کورٹ کے رجسٹرار نے اس حوالے سے لاپروائی برتی،مستقل سٹینو نہ ہونے سے مقدمات تاخیر کا شکار ہیں،عدالت کوقابل سٹینو فراہم کیا جائے تاکہ عدالتی معاملات نمٹانے جاسکیں۔

مزید :

علاقائی -