فضل الرحمن سے مذاکراتی کمیٹی میں سینئر سیاستدان شامل کرنے کا فیصلہ 

  فضل الرحمن سے مذاکراتی کمیٹی میں سینئر سیاستدان شامل کرنے کا فیصلہ 

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویزخٹک نے ممکنہ احتجاجی مارچ کیخلاف اپوزیشن سے رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن سے رابطے کے جلد مثبت نتائج آئیں گے۔ وزیردفاع نے کہا ہے کہ ہماری بات چیت شروع ہو چکی ہے، کب کہاں اور کس سے رابطے ہوں گے ابھی کچھ نہیں کہ سکتا۔انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کے جائز مطالبات ہوں گے تو حکومت ان کی بات سنے گی جبکہ حکومت ملک میں ہنگامہ آرائی اور انتشار کی اجازت نہیں دے گی۔انہوں نے کہا کہ جمہوری ملک ہے اپوزیشن سے بات چیت کر کے ہی حل نکالیں گے۔پرویز خٹک نے کہا ہے کہ فضل الرحمن اپنا ایجنڈا بتائیں اس کے بعد بیٹھ کر بات ہوگی، کچھ مشترکہ دوستوں کے ذریعے پیغام بھجوایا ہے۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا اپوزیشن کے اگر کچھ ایشوز ہیں تو انہیں حل کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اگر وہ صرف ہنگامہ کرنا چاہتے ہیں تو ایسا نہیں ہونے دیں گے، سیاست میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں، ہماری کوشش ہے موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی سیاسی انتشار سے بچا جائے، ملک دشمن عناصر سیاسی انتشار سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔پرویز خٹک کا کہنا تھا پٹھان جرگے والے لوگ ہیں، پورا یقین ہے کہ مولانا فضل الرحمان ہمارے ساتھ بیٹھیں گے، طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں ہوں، ایسے نہیں ہو سکتا کہ کوئی بھی بغیر ایشو کے چڑھائی کر دے، میرے خلاف طاقت استعمال کی گئی تھی جس کا اچھا نتیجہ نہیں نکلا، پوری کوشش ہوگی 27 اکتوبر سے پہلے معاملات حل ہو جائیں، امن و امان کے حوالے سے ذمہ داری وزارت داخلہ کی ہے۔علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمن سے کمیٹی میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی،سپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر،سپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالہٰی اوراسد عمر کو بھی شامل کیے جانے کاامکان ہے۔کمیٹی میں نئے ارکان کے ناموں کی حتمی منظوری وزیر اعظم دیں گے۔دوسری جانبجے یو آئی ف نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کا وقت گزر چکا،وزیراعظم کے استعفے تک مذاکرات نہیں ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کیلئے تاحال کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

حکومت/رابطے

پشاور/اسلام آباد/لاہور(آئی این پی،این این آئی،جنرل رپورٹر) جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ یہ جمہوری حکومت نہیں بلکہ کٹھ پتلی ہے اصل حکومت تو اسٹیبلشمنٹ کررہی ہے۔جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم انتہا پسند نہیں، اگر ہم انتہا پسند ہوتے توطالبان کی مخالفت نہ کرتے، ہم نے اسلحہ اٹھانے اورخودکش حملوں کی مخالفت کی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 27اکتوبر کوکشمیری عوام سے اظہاریکجہتی مناتے ہوئے قافلے نکلیں گے اور31اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے، حکمران ہمارے رضاکاروں کے ڈنڈوں سے خوفزدہ کیوں ہیں، حکمران بسیں روکیں گے تو ہم گھوڑوں، پیدل، سائیکلوں اورکشتیوں میں آئیں گے چاہے دوماہ بھی انتظارکیوں نہ کرناپڑے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں اسرائیل کوتسلیم کرنے کی مہم چل رہی ہے، عالمی سطح پرگریٹ گیم جاری ہے اورامریکا نئی جغرافیائی تقسیم کرناچاہتاہے، نیوورلڈ آرڈرجیوورلڈ آرڈر ہے، بوڑھے ریٹائرجرنیل کشمیرحاصل کرنیکاطریقہ بتانے کی بجائے اسرائیل تسلیم کرنے پردلائل دیتے ہیں، یہ ریٹائرڈ جرنیل اپنی حدود میں رہیں ہمیں سیاست کرنا نہ سکھائیں۔دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت نے کارکنوں کو کم سے کم ایک ہفتے تک اسلام آباد میں قیام کی ہدایت کردی۔ذرائع جے یو آئی کے مطابق کارکنوں کو اسلام آباد میں ایک ہفتے قیام اور چار سے پانچ دن کے سفری انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ قیادت کے مطابق تمام اضلاع سے آزادی مارچ میں شرکت کیلئے پانچ سے دس بڑی گاڑیاں حاصل کی جارہی ہیں۔ذرائع کے مطابق گاڑیوں پر جے یو آئی اور پاکستان کے پرچم لگائے جائیں گے،پارٹی قیادت نے کارکنوں کے اسلحہ لانے پر پابندی اور مکمل پر امن رہنے کی ہدایات بھی کی۔علاوہ ازیں جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ(ن) کے صدر محمد شہباز شریف آج لاہور میں ملاقات کر کے آزادی مارچ کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ دونوں رہنماوفود کی سطح پر ملاقات کریں گے  جس میں سامنے آنے والی تجاویز کے نکات پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔ دونوں رہنما مشترکہ پریس کانفرنس میں آزادی مارچ کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل دینگے۔ 

جے یو آئی ف

مزید :

صفحہ اول -