میڈیکل کالجز کے داخلے! ہائیکورٹ کا اچانک فیصلہ؟والدین کی پریشانی بڑھ گئی

میڈیکل کالجز کے داخلے! ہائیکورٹ کا اچانک فیصلہ؟والدین کی پریشانی بڑھ گئی
 میڈیکل کالجز کے داخلے! ہائیکورٹ کا اچانک فیصلہ؟والدین کی پریشانی بڑھ گئی

  



اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانا ہر والدین کا خواب رہا ہے، اس کی وجہ بچوں کا محفوظ مستقبل کہہ لیں یا کمائی کا بہترین ذریعہ،والدین کی بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو ابھی تک ڈاکٹر کو مسیحا اور کارِ خیر کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھتی ہے،رضائے الٰہی کا حصول سمجھتے ہوئے اپنے بچوں کو خدمت ِ انسانی کے لئے ڈاکٹر بنانا چاہتی ہے اِس لئے میٹرک سائنس مضامین میں کروانے کے بعد ایف ایس سی کے لئے پہلے دن سے ہی کمر کس لیتے ہیں اور گھر کا خرچہ کم کر کے دیگر اخراجات کنٹرول کر کے بچے بچی کو ٹیوشن دلاتے ہیں،ایف ایس سی کی چوٹی ابھی سر نہیں کر پاتے تو غریب والدین اپنی تنخواہوں کا بڑا حصہ بھی بچانا شروع کر دیتے ہیں،کیونکہ ایف ایس سی کے مشکل ٹاسک کی تکمیل کے بعد انٹری ٹیسٹ کا پُل صراط عبور کرنا ہوتا ہے اس کے لئے ایف ایس سی کے امتحانات کے خاتمے کے اگلے دن ہی 45سے 50ہزار روپے انٹری ٹیسٹ اکیڈمی کا داخلہ جمع کرانا ہوتا ہے۔

پی ایم ڈی سی کی نااہلی کہہ لیں یا پی ایم ڈی سی کے ذمہ داران کی ذہانت، انٹری ٹیسٹ پاس کرنے کا کریز بھی کسی نوبل انعام سے کم نہیں رہا،اس کے لئے بعض اکیڈمیاں برانڈ بن چکی ہیں بچے ان نامور اکیڈمی میں داخلہ ملنا اعزاز سمجھتے ہیں اور داخلہ نہ ہونے کو نحوست قرار دیتے ہیں، بددلی پھیلتی ہے۔2018ء کے بعد بننے والی پالیسی میں میٹرک اور ایف ایس سی سے زیادہ عمل دخل انٹری ٹیسٹ کا قرار پایا ہے۔ یہی وجہ ہے میڈیکل میں جانے والے بچے ایف ایس سی سے زیادہ ٹارگٹ انٹری ٹیسٹ کو بناتے چلے آ رہے ہیں۔انٹری ٹیسٹ کی اہمیت بڑھنے کا مطلب لیا جا رہا ہے، ہمارا میٹرک اور ایف اس سی کا نظام درست نہیں ہے، بعض ماہر تعلیم تو انٹری ٹیسٹ کو تعلیم دشمنی کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے انٹری ٹیسٹ ایسی بیماری ہے، جس نے ہمارے مستقبل کے ہونہاروں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے، ہمارے میٹرک اور ایف ایس سی کے نظام کو مشکوک بنا دیا ہے اس سال بھی پی ایم ڈی سی نے سرکاری میڈیکل کالجز اور نجی میڈیکل کالجز کے لئے انٹری ٹیسٹ لیا، جس میں 70ہزار سے زائد طلبہ و طالبات شریک ہوئے، 200 نمبر کا ٹیسٹ رکھا گیا اور پاس مارکس120 رکھے گئے،4ہزار سے زائد سرکاری اور تین ہزار سے زائد پرائیویٹ نشستوں کے لئے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے ملک بھر سے میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے ایک ساتھ آن لائن درخواستوں کی وصولی شروع کی،2500 روپے ایم بی بی ایس اور2500 روپے بی ڈی ایس کے لئے اور150روپے سے پنجاب بینک کو پراسس فیس کے نام پر دینے کا فیصلہ دیئے گئے ہیں، ہزاروں طلبہ و طالبات کے لئے نئی داخلہ پالیسی کے مطابق ایف ایس سی میں 60فیصد نمبرز اور انٹری ٹیسٹ میں 120 نمبر حاصل کرنے والے داخلے کے اہل قرار پائے، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے صرف درخواستوں کی وصولی میں کروڑوں روپے اکٹھے کر لئے۔

پنجاب حکومت میاں شہباز شریف کے دورِ اقتدار سے سرکاری کالجز میں میڈیکل کالجز کی نشستیں بڑھانے کی منظوری دے چکی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی اپنا میڈیکل کالج بنانے کا اعلان کر چکی ہے،والدین نشستیں بڑھنے کی خبر سے خوش تھے، نیا کالج بنے گا، نشستیں بڑھیں گی ان کے بچے بچی کے داخلے کا امکان بڑھ جائے گا۔افسوس ایسا نہیں ہو پایا،نئے پاکستان میں یونیورسٹیوں کا بجٹ بڑھانہ میڈیکل کالج بن سکا اور نہ سرکاری اداروں کی نشستوں میں اضافہ ہوا۔

البتہ وسائل کی کمی کی وجہ سے بہت سی یونیورسٹیوں نے بڑے بڑے شعبہ جات بند کرنا شروع کر دیئے ہیں،لمحہ ئ فکریہ ہے کہ بڑی بڑی مادرِ علمی وسائل کی کمی کا رونا رو رہی ہیں، حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی،اس لئے پنجاب یونیورسٹی نہ اپنا میڈیکل کالج بنا سکی اور نہ سرکاری کالجز کی نشستوں میں اضافہ ہوا۔گزشتہ دو سال سے میڈیکل کالجز میں اپنے بچوں کو پڑھانے والے والدین بڑے خوش تھے، جناب ثاقب نثار نے والدین کی داد رسی کرتے ہوئے نجی میڈیکل کالجز کی اجارہ داری کا خاتمہ کرتے ہوئے ان کی داخلہ پالیسی اور فیسوں کی وصولی کے لئے قوائد ضوابط ترتیت دیئے،ان کی خوشیاں ادھوری رہ گئیں۔

جناب ثاقب نثار کے جاتے ہی ان کے اقدامات بے اثر ہونے لگے،مناپلی پھر بن گئی ہے، من مرضی کی فیسوں کا بڑھانا معمول بن گیا ہے، وطن عزیز میں معمول بن چکا ہے ہم کوئی کام وقت پر نہیں کرتے،کوئی ادارہ اگر ریلیف دیتا ہے تو اس وقت جب والدین جمع شدہ پونجی لگا چکے ہوتے ہیں۔گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے میڈیکل کالجز میں داخلے کے حوالے سے فیصلے سے بھی ایسا ہی ہوا ہے جیسے گزشتہ تین سال تک سپریم کورٹ کرتی آ رہی تھی۔لاہور ہائی کورٹ نے نئی داخلہ پالیسی کالعدم قرار دے کر2018ء کے آرڈیننس کے مطابق داخلے کرنے کا فیصلہ اس وقت سنایا ہے جب ملک بھر میں میڈیکل سرکاری اور پرائیویٹ کالجز میں داخلے کے لئے درخواستیں وصول ہو چکی ہیں۔

نئی پالیسی کے مطابق ایف ایس سی اور انٹری ٹیسٹ کے120نمبرز کے مطابق درخواستیں وصول ہو چکی ہیں اب اچانک فیصلے سے سارا عمل تاخیر کا شکار ہونے جا رہا ہے،سات آٹھ ہزار میڈیکل کی نشستوں پر ہزاروں افراد درخواستیں جمع کرا چکے ہیں،ساتھ ہی سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں فارمیسی اور دیگر شعبہ جات میں بھی طلبہ و طالبات نے درخواستیں دی ہوئی ہیں ان کا ذہن ہے اگر میڈیکل میں داخلہ نہیں ہوتا تو دیگر شعبہ جات میں کسی ایک میں ہو جائے گا۔14اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ نے دوہری شہریت کے15فیصد کوٹہ کو ختم کرنے، 60فیصد ایف ایس سی کی شرط ختم کر کے2018ء کی پالیسی کے مطابق میٹرک ایف ایس سی اور انٹری ٹیسٹ کی بنیاد پر داخلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔اب ایف ایس سی 40فیصد، میٹرک10فیصد، ایم کیٹ50 فیصد کے حساب سے میرٹ بنے گا۔

پی ایم ڈی سی اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے چند ہفتے پہلے نئی پالیسی دی ہے اب ہائی کورٹ نے نیا فیصلہ دے دیا ہے،اس پر والدین خوش ہوں تو کیسے، اگر گریہ زاری کریں تو کیوں، اب اگر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور پی ایم ڈی سی لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق نئے سرے سے درخواستیں طلب کرتے ہیں تو انہیں دوبارہ کروڑوں روپے مل سکتے ہیں۔ اگر میرٹ2018ء کے مطابق بناتے ہیں تو بعض معلومات انہیں طلبہ و طالبات سے دوبارہ لینا پڑیں گی، سارا عمل مشکوک ہونے کے ساتھ ساتھ تاخیر کا شکار ہو جائے گا، حکومت کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ قوم کے مستقبل کے حوالے سے مستقل پالیسی بنا سکیں،والدین کو اضطراب سے نکالیں۔

مزید : رائے /کالم