جیم اینڈجیولری سیکٹرکیلئے چین میں متعدد برآمدی مواقع موجود ‘ زرک خان

  جیم اینڈجیولری سیکٹرکیلئے چین میں متعدد برآمدی مواقع موجود ‘ زرک خان

  

لاہور(لیڈی رپورٹر )پاک چین جوائینٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زرک خان نے کہا کہ چین جیم اینڈ جیولری کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی منڈی بن گیا ہے جس میں پاکستان کے جیم اینڈ جیولری سیکٹر کیلئے بے پنا ہ برآمدی مواقع موجود ہیں۔ یہ بات انہوں نے پاک چین جوائینٹ چیمبر کی فروغ برآمدات کمیٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر چیمبر کے سینئر نائب صدر معظم گھرکی اور سیکرٹری جنرل صلاح الدین حنیف سمیت متعدد اراکین مجلس عاملہ موجود تھے۔ زرک خان نے کہا کہ برآمدات کو فروغ دیئے بغیر حالیہ معاشی بحران پر قابو نہیں پا یا جاسکتا اور اس مقصد کیلئے چین جیسے دوست ملک سے پوری طرح استفادہ نہیں کیا جا رہا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چین اور پاکستان کے درمیان تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کیلئے پاک چین جوائینٹ چیمبر کے تحت ان غیر روائتی شعبوں کی نشاندہی کیلئے تحقیق کریں گے جن کی چینی منڈیوں میں زیادہ مانگ ہے۔ انہوں نے کہاکہ جیم اینڈ جیولری کا شعبہ ایسے شعبوں میں سرفہرست ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ پاکستان میں ۸ لاکھ قیراط روبی، ۸۷ ہزار قراط ایمرالڈ اور ۵ ملین قرایط پیری ڈاٹ کے زخائر موجود ہیں۔علاوہ ازیں انہوں نے بتا یا کہ پاکستان میں پائے جانے والے پنک ٹوپاز اور کشمیری روبی دنیا بھر میں بہترین معدنی زخائر تصور کئے جاتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ کٹنگ اور پالشنگ کی جدید سہولتوں کا فقدان ہے۔

کی وجہ سے ان ذخائر سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایاجا رہا۔اس موقع پر چیمبر کے سینئر نائب صدر معظم گھرکی نے کہا کہ جیم سٹون کی جدید پالشنگ اور کٹنگ کیلئے چینی ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے مشترکہ منصوبے شروع کئے جانے چاہییں۔علاوہ ازیں انہوں نے تجویز دی کہ نیشنل پراڈکٹوٹی آرگنائزیشن اور ایشیئن پراڈکٹوٹی آرگنائزیشن کے توسط سے جیم اینڈ جیولری سیکٹر کے چینی ماہرین کو پاکستان مدعو کیا جانا چاہیے۔

 تاکہ مذکورہ شعبہ میں پاکستانی کارکنوں اور مائیننگ انجینئروں کو جدید ٹیکنالوجی اور نئے طریقوں کے بارے میں تربیت دی جا سکے۔ چیمبر کے سیکرٹری جنرل صلاح الدین حنیف نے بتا یا کہ چین نے ۱۹۷۸ میں جیم اینڈ جیولری سیکٹر پر کام شروع کیااور اس وقت اس شعبہ میں دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے ۔ چین نہ صرف خود اس شعبہ میں ایک وسیع کنزیومر مارکیٹ ہے بلکہ عالمی منڈی میں بھی اس کا بڑا حصہ ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ ۱۹۸۰ میں صرف ۲۰ ہزار لوگ اس صنعت سے وابستہ تھے مگر آج تیس سال بعد ۳۰ لاکھ سے زائد چینی کارکن اس صنعت سے وابستہ ہیں لیکن چین مین لیبر اخراجات بڑھنے کی وجہ سے اس صنعت کو کچھ مشکلات کا سامنا ہے جس سے چین کے جیم اینڈ جیولری سیکٹر میں پاکستان کیلئے گنجائش پیدا ہو گئی ہے۔ 

مزید :

کامرس -