معاشی سست روی، افراط زر میں کمی کے مابین استحکام پیدا کرنا ہو گا

  معاشی سست روی، افراط زر میں کمی کے مابین استحکام پیدا کرنا ہو گا

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) گورنرسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا ہے پاکستان کا معاشی شرح نمو سست روی کا شکار ہے اور معاشی سست روی کے باعث معیشت کیلئے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر کا امریکی جریدے بلوم برگ کو انٹر ویو میں کہنا تھا سٹیٹ بینک مہنگائی کی شرح کم کرنا چاہتا ہے، مگر ستمبر میں مہنگائی میں کمی اس درجہ پر نہیں جہاں شرح سود کم ہو، تاہم مہنگائی کے اثرات آنیوالے مہینوں میں زائل ہو سکتے ہیں،روپے کی قدر میں کمی نے شرح تبادلہ کو مارکیٹ بیس کر دیا ہے، جنوبی ایشیائی ممالک میں پاکستان میں شرح سود سب سے زیادہ ہے، پاکستان نے 2018 کے آغاز سے شرح سود 13 اعشاریہ 25 فیصد کر دی ہے تاہم شرح سود کو فی الوقت موجودہ سطح پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔پاکستان کو معاشی سست روی کو اعتدال دینا چاہیے، ہمیں بچت کی شرح بڑھانے پر لازمی کام کرنا ہے اور بچت میں اضافے سے ہی آئی ایم ایف قرض سے بچا جا سکے گا۔پاک چین تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک نے کہا پاکستان چین سے دوستی کو اہمیت دیتا ہے، البتہ نئے اتحادی بھی چاہتا ہے۔ افراط زر میں اتنی تبدیلی نہیں آئی کہ شرح سود میں کمی کی جائے۔ معاشی سست روی اور افراط زر میں کمی کے درمیان استحکام پیدا کرنا ہوگا۔ آئندہ چند ماہ میں افراط زر کی شرح میں کمی متوقع ہے، روپے کی قدر میں کمی مارکیٹ فورسز کے مطابق کی گئی ہے، آئی ایم ایف کے سائیکل سے بچنے کیلئے شرح بچت میں اضافہ کرنا ہوگا۔گورنر سٹیٹ بینک نے کہا پاکستان چین سے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، پاکستان دیگرممالک سے بھی تعلقات میں بہتری چاہتا ہے۔غیرملکی جریدے کے مطابق پاکستان میں شرح سود اس وقت جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے، جنوری 2018 کے مقابلے میں شرح سود دگنی ہوچکی ہے۔

رضا باقر

مزید :

صفحہ اول -