افغانستان میں امن و مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھیں گے: شاہ محمود

  افغانستان میں امن و مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھیں گے: شاہ محمود

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم افغانستان میں امن ومفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھیں گے، ہم ترقی میں ان کا ہاتھ بٹاتے رہیں گے،پاکستان، امریکہ کے ساتھ طویل المدتی اور پائیدار شراکت داری چاہتا ہے، امید ہے کہ امریکہ اور پاکستان تعمیری انداز میں کام جاری رکھیں گے، چین ہمارا قریبی دوست اور ہمیشہ کا بااعتماد شراکت دار ہے، سی پیک پاکستان کی ترقی کے ایجنڈے کا بنیادی ستون ہے، ہم سی پیک منصوبہ جات پر عمل درآمد کیلئے پرعزم ہیں، پاکستان ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے لیکن بھارت سے تعلقات ہمیشہ مشکلات کا شکار رہے۔ایئر یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اکثر پوچھا جاتا ہے کہ بین الریاستی تعلقات میں ہم علاقائی اور عالمی سطح پراپنے قومی وسفارتی مفادات کا تحفظ کیسے کرسکتے ہیں اور انہیں کیسے فروغ دے سکتے ہیں تو مختصر جواب ہے نہایت ہوشمندی سے۔خارجہ پالیسی کی تیاری ہمیشہ سے پیچیدہ اور وسیع عمل رہا ہے۔ اس میں کلیدی فریقین سے تفصیلی مشاورت درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا مشرق میں ہمیں بھارت کے ساتھ تعلقات میں مشکل صورتحال کا سامنا ہے جس سے ہم آگاہ ہیں، 5 اگست 2019ء کو بھارت نے اپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں اپنے غیرقانونی اور غیراخلاقی قبضہ کو مستحکم بنانے کیلئے یک طرفہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں و عالمی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقدامات اٹھائے ہیں۔ بھارت کا ارادہ ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرکی عالمی سطح پر مسلمہ متنازعہ حیثیت،اس کی آبادی کا تناسب اور شناخت تبدیل کردے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک مضبوط کیس پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر سے فوری کرفیواٹھایا جائے اور کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے۔ میں ذاتی طورپر وزراء خارجہ اور عالمی رہنماوں کے ساتھ مصروف عمل رہا اور دنیا کو بھارت کی جانب سے کسی ’فالس فلیگ آپریشن‘کے امکانات سے بھی آگاہ کیاہے۔ انہوں نے کہابھارت اپنی مایوسی اور جھنجھلاہٹ میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں صورتحال کو ”معمول“ کے مطابق دکھانے کی کوشش کررہا ہے لیکن اس کی اس کوشش کو دیگر ذرائع سے آنے والی اطلاعات، پرتشدد حراستوں اوربین الاقوامی میڈیا کی طرف سے جاری کردہ رپورٹس نے بے نقاب کردیا۔ انہوں نے کہا ہم کشمیریوں کے استصواب رائے کے جائز ومنصفانہ حق کے حصول کی جدوجہد میں ان کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا پاکستان امن اور سٹرٹیجک استحکام کا خواہاں ہے تاکہ سماجی واقتصادی ترقی کے ایجنڈے پر توجہ مرکوز کی جاسکے۔ ہمارا طرز عمل تحمل اور ذمہ داری اور اسلحہ کی دوڑ سے بچنے کا ہے۔ تاہم پاکستان سکیورٹی مضمرات سے صرف نظر نہیں کرسکتا جو اس کے ہمسائے کی طرف سے ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان، امریکہ کے ساتھ طویل المدتی اور پائیدار شراکت داری چاہتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان دو مرتبہ امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کرچکے ہیں اور اعلی سطحی رابطے ہوئے ہیں۔ اس سطح کے رابطے اور سرگرمیاں اس سے قبل نہیں دیکھے گئے تھے۔ انہوں نے کہا  یورپ کے ساتھ ہمارے تعلقات سٹرٹیجک اہمیت کے ہیں۔ یورپ اور برطانیہ بریگزٹ کے چیلنج سے نبردآزما ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان کے یورپ کے ساتھ کثیرالجہتی تعلقات ہیں جو مسلسل فروغ پارہے ہیں۔ معاشی ترقی کے عمل اور امن، استحکام اور خطے وعالمی خوشحالی کیلئے یورپ کے ساتھ ہمارے تعلقات نہایت اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلامی ممالک سے نہایت دیرینہ اور قریبی تعلقات استوار ہیں، پچاس لاکھ پاکستانی وہاں ملازمت کرتے ہیں۔ اربوں ڈالر کی رقوم وہاں سے بھیجتے ہیں جو ہماری معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا وزیراعظم عمران خان نے ایران اور سعودی عرب کا دورہ کیا تاکہ کشیدگی کو کم کیاجاسکے اور خطے میں امن واستحکام کو فروغ مل سکے۔ 

شاہ محمود قریشی

اسلام ا ٓباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ شملہ معاہدے کے تحت لائن آف کنٹرول کی حیثیت برقرار ہے،بھارت میں فاشٹ حکومت خطے اور دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہے، پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریاؤں پر خصو صی حقو ق رکھتا ہے، پاکستان کے پانی کو روکنا بھارت کی جانب سے جارحیت کے مترادف ہو گا اور پاکستان کو جواب کا مکمل حق حاصل ہو گا،5اگست کے اقدامات کے بعد بھارت کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑھ رہی ہے،عالمی سطح پر بھارت بند گلی میں چلا گیا ہے،،کرتار پور کا کام ہماری طرف سے مکمل ہے، باقی تفصیلات پر جلد فیصلہ متوقع ہے، ترکی کے صدر کا دورہ پاکستان وقتی طور پر مو خر کردیا گیاہے، دورہ دبارہ ری شیڈول کیا جائے گا، سعودی عرب میں حادثہ میں کسی پاکستانی کی شہادت کی تصدیق اس وقت تک نہیں ہوئی، شاہی جو ڑا کا دورہ پاکستان اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان پر امن اور سیاحت اور سرمایہ کاری کیلئے موزوں ملک ہے، پاکستان شام کے معاملے پر امن حل چاہتا ہے، پاکستان شام کی سالمیت کو سپورٹ کرتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ بھارتی قابض فوج نے مقبوضہ کشمیر میں مزید تین کشمیریوں کو شہید کر دیا، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقو ق کی صورتحال بد ترین ہوتی جار ہی ہے، کشمیر میں 77دن سے مکمل لاک ڈاؤن ہے،80 لاکھ لوگوں کو جیل میں بند کر رکھا ہے اور وہ دنیا سے کٹ گئے ہیں، کشمیری عوام میڈیکل اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، بھارتی مجرمانہ طور پر دنیا کو کشمیر میں حالات نارمل ہونے کا جھانسہ دے رہا ہے،بھارتی فوج کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، بھارت عالمی سطح پر مقبوضہ کشمیر کے حالات کو نارمل ہونے کا دعوی کرتا ہے،بھارت کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں،ہم بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہیں،وزیر اعظم نے ایران کا دورہ کیا اور ایران کے صدر حسن روحانی اور سپریم راہنماء آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقاتیں کیں،وزیر اعظم نے ایران کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی حمایت پر شکریہ ادا کیا، تمام تنازعات کو سیاسی اور سفارتی سطح پر حل کرنے پر زور دیا ہے، وزیر اعظم نے سعودی عرب کا بھی دورہ کیا اور ولی عہد محمد بن سلیمان نے ملاقات کی، وزیر اعظم نے دونوں فریقین کو تناؤ میں کمی اور مذاکرات کے ذریعہ مسائل کے حل پرزور دیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان شام کے معاملے پر امن حل چاہتا ہے، وزیراعظم نے ترکی کی صدر سے فون پر بات کی تھی اور ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا، ترکی دہشت گردی کا شکار ہے،  پاکستان شام کی سالمیت کو سپورٹ کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ

مزید :

صفحہ اول -