اپوزیشن میں اختلافات برقرار، آزادی مارچ کا نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہو گا

اپوزیشن میں اختلافات برقرار، آزادی مارچ کا نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہو گا

  



تجزیہ: محسن گورایہ

مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ ہونے جا رہا ہے مگر ابھی تک اس کے بہت سارے معاملات ایک معمہ ہیں۔دیگر اپوزیشن جماعتوں کے بیانات اور ان کے تضادا ت سے لگتا ہے کہ اکثر اپوزیشن  جماعتیں اس پر خود ہی کلیئر نہیں ہیں کہ انہوں نے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا ہے۔  پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) اپنے معاملات اب تک خفیہ رکھے ہوئے ہیں،لگتا ہے دونوں اپوزیشن جماعتوں کا ایجنڈا ایک ہے مگر بداعتمادی کی فضاء بھی گرم ہے،اپوزیشن جماعتوں میں اختلافات کی وجہ سے آزادی مارچ کی کامیابی کے متعلق ابھی یقین سے کچھ کہنا مشکل  ہے۔فضل الرحمن مارچ اور دھرنے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ اور اعلان نہیں کر سکے کبھی کہا جاتا ہے کہ مارچ ہو گا،یہ بھی کہا جا رہا  ہے کہ کئی روز کے دھرنے میں بٹھا کر لوگوں کو تھکائیں گے نہیں مطلب 15روزہ دھرنا ہوگا،پیپلزپارٹی کو گمان ہے کہ دھرنے سے غیر جمہوری قوتیں مداخلت کر کے جمہوریت کو پست کرسکتی ہیں لہٰذابہتر ہوگا اگر منتخب ایوانوں تک احتجا ج محدود رکھا جائے۔فضل الرحمن نے پیپلزپارٹی  کی قیادت سے ملاقات کے باوجود بہت سارے معاملات اسلام آباد ہائی کورٹ،لاک ڈاؤن کے حتمی پروگرام پراعتماد میں نہیں لیا جس کی وجہ سے بے اعتمادی کو تقویت مل رہی ہے اور پیپلزپارٹی واضح اور حتمی اعلان سے گریزاں ہے۔ن لیگ کامعاملہ بھی لگ بھگ ایساہی ہے اگرچہ لیگی قیادت کی حکومتی مخالف موثر احتجاج کی خواہش ہے اگر کوئی ایسا احتجاج جس سے کوئی غیر جمہوری یا تیسری طاقت مفاد حاصل کرسکے اس کے حق میں وہ بھی نہیں ہے ن لیگ کی قیادت بھی اب تک اسی وجہ سے آزادی مارچ میں شرکت بارے حتمی فیصلہ نہیں کرپائی،اس حوالے سے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نواز شریف،شہباز شریف میں اختلاف کی وجہ سے اب تک ن لیگ کوئی فیصلہ نہیں کرسکی۔ اب تک ن لیگ کو حکومتی کیفیت آشکار ہے۔بعض کے نزدیک آزادی مارچ میں اگر دھرنا دیا جاتا ہے تو اس میں نواز شریف طمطرات سے شرکت کے خواہاں ہیں جبکہ شہباز شریف ابھی کسی طویل اور ایسے احتجاج کے حق میں نہیں جس پر تشدد ہونے کا رتی بھر استعمال ہو جبکہ اصل بات کچھ اور ہے،ن لیگ کے اندرون خانہ معاملات سے آگاہ افراد کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو مولانا فضل الرحمن پر اعتماد بھی نہیں،دونوں اگرچہ آزادی مارچ کی ناکامی نہیں چاہتے مگر کامیابی سے بھی خوفزدہ ہیں۔ان کا خیال ہے اگر معاملہ ہاتھ سے نکل گیا تو کوئی تیسری قوت معاملات سنبھالنے میدان میں اتر سکتی ہے اور اگر کامیابی نے قدم چومے تو فضل الرحمن کو بہت جگہ مل سکتی ہے اور مسلم لیگ ن آج جس جگہ کھڑی ہے اس سے بھی پیچھے چلی جائے گی اور شائد پس منظر میں جا کر دفن بھی ہو جائے۔اس خدشہ کے تحت دونوں بھائیوں کی خواہش ہے کہ مولانا پہلے اپنے پروگرام پر انہیں اعتماد میں لیں اور باہمی مشورہ سے احتجاجی پروگرام تشکیل دیا جائے،آزادی مارچ کی قیادت پر بھی ن لیگ کو تحفظات ہیں اس بارات کے دولہا فضل الرحمن ہیں مارچ کی کامیابی کا سہرہ ان کے سر بندھنا ہے لہٰذامارچ ان کی قیادت میں اسلام آباد میں داخل ہوگا۔اس صورتحال میں فی الحال مارچ کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا قبل ازوقت ہو گا تاہم قرائن بتا رہے ہیں کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں رسمی طور پر ہی مارچ میں شریک ہوتے ہیں یا سرے سے شریک ہی نہ ہوئے تب بھی مولانا ایک بھر پور سیاسی شو کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔مولانا اس حوالے سے اس قدر پر اعتماد ہیں کہ ایک رپورٹ کے مطابق دو اہم اور با اثر شخصیات نے ان کو حالیہ دنوں میں مارچ اور دھرنے سے روکنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانے،حکومت نے پارلیمینٹ میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر،وفاقی وزیر محمد میاں سومرو کے ذریعے منانے کی کوشش کی مگر فضل الرحمن نے انکار کر دیا۔وفاقی کابینہ نے مولانا سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دی مگر انہوں نے حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کو ناممکن قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کے ارکان اگر بات چیت کرنے کیلئے آنا چاہتے ہیں تو وزیر اعظم کا استعفیٰ ساتھ لے کر آئیں یہ ان کے اعتماد اور کامیابی کے یقین کا حال ہے۔اس پر ہی بس نہیں ایک رپورٹ کے مطابق سعودی سفیر نے بھی ان سے ملاقات کی اور انہیں کشمیر کی صورتحال،ایران،سعودی عرب میں تضاد،ترکی پر امریکی پابندیوں کا تذکرہ کر کے مارچ کو موخر کرنے کی درخواست کی مگر فضل الرحمن نے مارچ کی تاریخ میں تبدیلی سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ سعودی عرب مستقبل میں آنے والی حکومت سے معاملات طے کر نے پر توجہ مبذول کرے۔

تجزیہ: محسن گورایہ

مزید : تجزیہ


loading...