100 سے زیادہ کتابیں لکھنے پر مظفر حنفی کو بزم صدف کا بین الاقوامی انعام دیا جائے گا

100 سے زیادہ کتابیں لکھنے پر مظفر حنفی کو بزم صدف کا بین الاقوامی انعام دیا ...
100 سے زیادہ کتابیں لکھنے پر مظفر حنفی کو بزم صدف کا بین الاقوامی انعام دیا جائے گا

  



دبئی(رپورٹ ،طاہر منیر طاہر) 2019کے لئے سو سے زیادہ کتابوں کے مصنف،معتبر شاعر اور نقادپروفیسر منظر حنفی کو بزم صدف کا بین الاقوامی ادبی ایوارڈ دیا جائے گا۔اس سے پہلے جاوید دانش،کناڈا(2016)مجتبیٰ حسین،ہندوستان(2017)اور باصر سلطان کاظمی،برطانیہ(2018)بزم صدف کے انعامات سے سرفراز کئے جا چکے ہیں۔بین الاقوامی ایوارڈ کے ساتھ بزم صدف کا نئی نسل ایوارڈ پاکستانی نژاد شاعرہ محترمہ ثروت زہرہ کو تفویض کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس سے قبل نئی نسل کے انعامات واحد نظیر،ہندوستان(2016)،عشرت معین سیما،جرمنی(2017) اور راشد انور راشد،ہندوستان(2018) کو پیش کئے گئے ہیں۔

بین الاقوامی انعامات کمیٹی کی جانب سے بزم صدف انٹرنیشنل کے سرپرست اعلیٰ محمد صبیح بخاری(قطر)اور ڈاکٹرصفدر امام قادری نے پٹنہ میں منوقدہ پریس کانفرنس اور مخصوص نشست میں ان انعامات کا اعلان کیا۔بزم صدف ہر سال عالمی سطح پر مجموعی خدمات کے لئے ایک ایوارڈ پیش کرتی ہے اور اسی کے ساتھ نئی نسل انعام کسی پچاس برس سے کم عمرشخصیت کو دی جاتی ہے جس سے گوناں گوں ادبی توقعات وابستہ ہوں۔

پروفیسر مظفر حنفی کی ادبی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بزم صدف کے ڈائریکٹر صفدر امام قادری نے بتایا کہ 83سالہ پروفیسر مظفر حنفی ادب کی مختلف صنفوں پر یکساں قدرت رکھنے کے لئے شہرت رکھتے ہیں۔تنقید،تحقیق اور شاعری کے ساتھ ساتھ انھوں نے مختلف اصناف ادب میں کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں۔شاد عارفی سے انھوں نے شعر گوئی کے رموز سیکھے اور پروفیسر عبدالقوی دسنوی کی نگرانی میں اپنی تحقیق مکمل کی ۔جب مظفر حنفی نے کوچہ ادب میں قدم رکھا ،وہ دور جدید یت کا آغاز سے پہچانا جاتا ہے۔مظفر حنفی کا پہلا شعری مجموعہ 1967میں ”پانی کی زبان“ نام سے منظر عام پر آیا۔نقادوں نے یہ سمجھا کہ یگانہ اور شاد عارفی کے اثر سے اردو شاعری کی یہاں نئی زبان وضع ہو رہی ہے۔تقریباً بیس شعری مجموعوں کے ادبی سرمائے سے آج یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مظفر حنفی نے اپنے ہم عصروں سے بالکل مختلف رنگ سخن ایجاد کرنے میں کامیابی حاصل کی۔تنقید و تحقیق کے شعبے میں بھی مظفر حنفی نے نہایت سنجیدہ کاوشیں کی ہیں۔شاد عارفی کے سلسلے سے متعدد کتابوں اور مجموعہ مضامین کے علاوہ میر حسن،محمد حسین آزاد،حسرت موہانی،محمد تقی میرجیسے ادیبوں اور شاعروں پر انھوں نے معیاری تعارفی مونوگراف شائع کئے۔ترتیب و تدوین،تراجم اور بچوں کے ادب کے زمرے میں بھی ان کی کئی درجن کتابیں شائع ہوئیں ۔تنقید میں کھری اور سخت باتیں کہنے کے سبب مظفر حنفی کی پہچان قائم ہوئی۔

مظفر حنفی جامعہ ملیہ اسلامیہ اور کلکتہ یونیورسٹی سے درس و تدریس سے وابستہ رہے۔2001میں سبکدوشی کے بعد گزشتہ دو دہائیوں سے وہ دہلی میں مقیم ہیں۔یکم اپریل 1936کو وہ مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں پیدا ہوئے۔ہندی اور انگریزی میں بھی ان کی چند کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور ان کی خدمات کے اعتراف میں سیکڑوں مضامین اورخاصی تعداد میں کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔

5مئی1972کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں ثروت زہرہ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور شارجہ کی یونیورسٹی میڈیکل کالج میں اپنے فرائض منصبی ادا کر رہی ہیں ۔ان کے دو شعری مجموعے”جلتی ہوا کا گیت“(2003) اور ”وقت کی قید سے“ (2013) شائع ہو چکے ہیں۔ہندی اور سندھی زبان میں بھی ان کے شعری مجموعوں کے تراجم شائع ہوچکے ہیں ۔دنیا کے مختلف رسائل و جرائد نے ان پر گوشے شائع کئے ہیں۔پاکستان،ہندوستان اور خلیج کے مختلف اداروں نے ان کی خدمات کا اعتراف کیاہے۔امریکہ،دوحہ(قطر)،بحرین،دوبئی،کراچی،عمان،ابوظہبی اور اسلام آباد کی عالمی تقریبات میں انھوں نے شرکت کی۔

محمد صبیح بخاری نے بزم صدف کی ایوارڈ تقریب کے انعقاد کے سلسلے میں تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس بار 23 اور24جنوری 2020کے دوران دوحہ،قطر میں منعقد ہونے والے پروگرام میں پہلی بار بیت بازی کے بین الاقوامی مقابلے کوبھی شامل کیا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ تقسیم انعامات تقریب کے موقع پرعالمی سیمینار اور مشاعرے کا انعقاد بھی حسب سابق کیا جارہا ہے۔توقع ہے کہ گزشتہ برسوں کی طرح اس بار ایوارڈ تقریب علمی و ادبی اعتبار سے مہتم بالشان رہے گی۔

صفدر امام قادری نے اس بات کے لئے خوشی کا اظہار کیا کہ بزم صدف کے چیئرمین شہاب الدین احمد کی صدارت میں بنائی گئی عالمی جیوری اس بار کے انعامات کے لئے متفقہ طور پر دونوں ناموں کی سفارش کی جسے مرکزی گورننگ کونسل نے منظوری دی۔انھوں نے بتایا کہ گزشتہ انعامات سے بزم صدف نے اپنے ایوارڈ ز کے لئے جس عالمی معیار کی تشکیل کی تھی،اس پر اس بار کے ایوارڈز بھی ان شااللہ کھرے اتریں گے اور اردو کے سچے خدمت گاروں کو انعام پیش کرنے کا سلسلہ قبول عام درجہ حاصل کرے گا۔

مزید : عرب دنیا