" خاتون نے بھی ناجائز تعلقات کا اعتراف کیا اور اسے بھی سزا ہوسکتی ہے" زیادتی کا ایسا مقدمہ سپریم کورٹ پہنچ گیا جہاں درخواست گزار کو ہی جان کے لالے پڑگئے

" خاتون نے بھی ناجائز تعلقات کا اعتراف کیا اور اسے بھی سزا ہوسکتی ہے" زیادتی ...

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)زیادتی کیس میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خاتون کااعترافی بیان ہے ایک سال تک ملزم سے تعلقات رہے،اعترافی بیان پرخاتون کوسزاہوسکتی ہے،خاتون نے اعترافی بیان میں ناجائزتعلقات کاجرم تسلیم کرلیا،یہ زیادتی کا مقدمہ کیسے ہوگیا ؟

نجی ٹی وی  کے مطابق سپریم کورٹ میں زیادتی کیس میں ملزم کی ضمانت منسوخی کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،وکیل ملزمہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم میری موکلہ سے ایک سال تک زیادتی کرتا رہا، میری موکلہ کوشادی کا جھانسہ دیا گیا،چیف جسٹس پاکستان نے خاتون کے ایک سال تک ملزم کیساتھ من مرضی سے تعلقات رہے،ایک سال تک مرضی سے سب کچھ ہوتا رہا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ خاتون کااعترافی بیان ہے ایک سال تک ملزم سے تعلقات رہے،اعترافی بیان پرخاتون کوسزاہوسکتی ہے،خاتون نے اعترافی بیان میں ناجائز تعلقات کاجرم تسلیم کرلیا،یہ زیادتی کا مقدمہ کیسے ہوگیا ؟

عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے خاتون کیخلاف اعترافی بیان پرکارروائی کیوں نہیں کی؟وکیل خاتون نے کہا کہ ملزم کے خلاف ضمانت منسوخی کی درخواست واپس لیتاہوں ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ موکلہ کوسمجھا دیں اپنے مقدمہ پر نظر ثانی کرلیں،یہ ایسا مقدمہ ہے جس میں خاتون خود پھنس جائے گی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد