”مجھے بورڈ اور چیئرمین کی مکمل حمایت حاصل ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ کپتانی۔۔۔“ اظہر علی نے اس سوال کا جواب دیدیا جو ہر پاکستانی جاننا چاہتا ہے

”مجھے بورڈ اور چیئرمین کی مکمل حمایت حاصل ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ...
”مجھے بورڈ اور چیئرمین کی مکمل حمایت حاصل ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ کپتانی۔۔۔“ اظہر علی نے اس سوال کا جواب دیدیا جو ہر پاکستانی جاننا چاہتا ہے

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نو منتخب کپتان اظہر علی نے کہا ہے کہ مجھے بورڈ اور چیئرمین احسان مانی کی طرف سے مکمل اعتماد حاصل ہے کہ یہ مختصر مدت کی کپتانی ہے اور مجھے کہا گیا ہے کہ ٹیم سلیکشن میں میری رائے شامل ہو گی۔

تفصیلات کے مطابق پریس کانفرنس کرتے ہوئے اظہر علی نے کہا کہ مجھے بورڈ اور چیئرمین کی طرف سے مکمل حمایت حاصل ہے کہ یہ مختصر مدت کی کپتانی نہیں ہے، ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق کیساتھ 7 سے 8 سال تک کرکٹ کھیلا ہوں اور ان کیساتھ اچھی انڈرسٹیڈنگ ہے۔ ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کا ایک ہونا آسان ہے، اس سے ٹیم کو فائدہ ہو گا ، آسٹریلیا کا دورہ سخت ہے، اچھا کھیلنے کی بھرپور کوشش کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ کپتانی کا انحصار ٹیم کی کمپوزیشن پر ہوتا ہے ، میرے پاس اتناضرور وقت ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو ثابت کر سکوں، ایسا ٹیم کلچر بنانے کی ضرورت ہے کہ ہم دباﺅ میں بہتر پرفارم کریں۔ آسٹریلیا میں ریکارڈ اچھا نہیں، کھلاڑیوں سے کہوں گا کہ اٹیکنگ کرکٹ کھیلیں جبکہ جیت کیساتھ میرا یہ ہدف رہے گا کہ ٹیم کو ایسے کھلاڑی ملیں جو طویل عرصے تک کھیل سکیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ محمد عامر اور وہاب ریاض اچھے باﺅلر ہیں لیکن اب وہ ٹیسٹ کرکٹ کیلئے دستیاب نہیں، اس سے فرق ضرور پڑے گا جبکہ رینکنگ میں بہترین کا ٹارگٹ اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک ہم ایشین کنڈیشنز سے باہر جیتنا شروع نہیں کریں گے۔

مزید : کھیل