صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس بند کرنے کے مطالبے پر مارک زکر برگ نے بڑا اعلان کردیا

صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس بند کرنے کے مطالبے پر مارک زکر برگ نے بڑا ...
صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس بند کرنے کے مطالبے پر مارک زکر برگ نے بڑا اعلان کردیا

  



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اپنی انتخابی مہم سے ہی سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے آ رہے ہیں اورجس طرح وہ خارجہ پالیسی سے اندرونی سیاست تک ہر بات سوشل میڈیا پر بیان کرتے ہیں، بسااوقات لگتا ہے کہ وہ حکومت ہی سوشل میڈیا کے ذریعے ہی چلا رہے ہیں۔ ان کی اس عادت کو لے کر انٹرنیٹ پر ایک مطالبہ زور پکڑ رہا تھا کہ صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس بند کیے جائیں۔ اب اس مطالبے پر فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کا ردعمل سامنے آ گیا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق مارک نے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس بند کرنے کے مطالبے سے متفق نہیں ہیں کیونکہ ان کے خیال میں سوشل میڈیا کمپنیاں سیاستدانوں کو سنسر کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکتیں۔

مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ ”لوگوں کو اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ سوشل میڈیا پر کس سیاستدان کے بیانات کے قابل اعتبار ہیں، انہیں کس بات پر یقین کرنا چاہیے اور کس کو ووٹ دینا چاہیے۔ امریکی شہریوں کو اس حوالے سے خود غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاستدانوں کے اکاﺅنٹس بند کرنا اور انہیں سنسر کرنا سوشل میڈیا کمپنیوں کی ذمہ داری نہیں ہے اور نہ ہی یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ سوشل میڈیا پر کون سیاستدان کیا بیان دے رہا ہے۔“

مارک زکربرگ کی طرف سے اس بیان پر انہیں امریکی سینیٹرز اور دیگر بڑی شخصیات کی طرف سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سینیٹر الزبتھ وارن نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر لکھا ہے کہ ”مارک زکربرگ کی آج کی تقریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے 2016ءسے بہت کم سبق سیکھا ہے اور فیس بک 2020ءکے الیکشن کو ہینڈل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔“

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کا مطالبہ خود امریکہ کے اندر سے ہی کیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے معروف امریکی سینیٹر کملادیوی ہیریس (Kamala Devi Harris)نے مطالبہ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ بند کیا جائے۔

مزید : بین الاقوامی