’حکمران خو دچاہتے ہیں کہ حکومت گر جائے کیونکہ ۔۔۔‘ سراج الحق نے اندر کی بات بتادی

’حکمران خو دچاہتے ہیں کہ حکومت گر جائے کیونکہ ۔۔۔‘ سراج الحق نے اندر کی بات ...
’حکمران خو دچاہتے ہیں کہ حکومت گر جائے کیونکہ ۔۔۔‘ سراج الحق نے اندر کی بات بتادی

  



ننکانہ صاحب(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نےکہاہےکہ تبدیلی کاکھیل مکمل ناکام جبکہ تبدیلی سرکار خود بھی پریشان ہے،عوام کے ساتھ ساتھ اب اس حکومت کو لانے والے بھی پریشان ہیں،موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کے سٹیٹس کو کا حصہ ہے،حکومت میں ساری کابینہ پرویز مشرف کی ہے،عوام حکومت اور اس کی پالیسیوں سے بے زار ہوچکے ہیں،تبدیلی کے نام پر عوام سے بدترین مذاق کیا گیا ہے،لوگ پوچھتے ہیں کہ ملک و قوم سے یہ کھیل کھیلنے والوں کو کیا ملا ہے؟جن اداروں کا نام احترام سے لیا جاتا تھاآج ہرجگہ ان پرتنقید کی جارہی ہے،ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں،حکمران خو دچاہتے ہیں کہ انہیں سیاسی شہید کا رتبہ مل جائے،مودی مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کا مشترکہ دشمن ہے۔بھارت میں مساجد کے ساتھ ساتھ گرجاگھروں اور گورودواروں کو بھی جلایا اور مسمار کیا جارہا ہے۔کشمیری 75دنوں سے اجتماعی قبر میں ہیں اور حکمران ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر گامزن ہیں۔

 ننکانہ صاحب میں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب اور بعد ازاں میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک ایک دلدل میں پھنس گیا ہے،22کروڑ عوام معاشی مشکلات کا شکار ہیں،لوگوں کے چہروں پر مایوسی اور اضطراب ہے،مہنگائی اوربے روز گاری نے عوام سے دن کا سکون اور راتوں کی نیند چھین لی ہے،وفاقی وزیر4سو محکموں کو بند کرنے کی خبریں سنا رہے ہیں اور حکومت سے نوکریاں مانگنے والے نوجوانوں کو کاہلی اور سستی کے طعنے دے رہے ہیں،خود وزیر اعظم کہتے ہیں کہ قوم بڑی بے صبری ہے 14ماہ ہی میں تبدیلی نہ آنے کا گلہ کرنے لگی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ادارے بند ہورہے ہیں اور دوسری طرف سٹیٹ بنک ڈالر کی قیمت میں مزید اضافے کی رپورٹیں دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک ناجائز ذرائع سے حرام کی دولت اکٹھی کرنے والوں سے پیسہ واپس نہیں لیا جاتا اور سودی معیشت سے توبہ نہیں کی جاتی معاشی حالات نہیں سدھریں گے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر کی آزادی پاکستان کی بقا،سا  لمیت اور تحفظ کیلئے ضروری ہے مگر حکمران اس طرف توجہ دینے کی بجائے نان ایشوز میں الجھی ہوئی ہے،حکومت کا فرض تھا کہ کشمیر کے مسئلہ پر قوم کو متحد کرتی مگر حکومت نے قومی وحدت کو سبوتاژ کیا،ہم حکومت سے کہتے ہیں کہ اگر آپ نے کشمیر کا سودا نہیں کرلیا تو آزاد کشمیر پر آئے روز ہونے والے حملوں کا جواب کیوں نہیں دیتے؟۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام سے جتنے وعدے کئے تھے ان میں سے کوئی ایک بھی پورا نہیں کرسکی۔

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /ننکانہ صاحب