کراچی جلسہ سے پہلے ہی بلاول نے اپنے آپ کو نوازشریف سے ” دور “ کر لیا

کراچی جلسہ سے پہلے ہی بلاول نے اپنے آپ کو نوازشریف سے ” دور “ کر لیا
کراچی جلسہ سے پہلے ہی بلاول نے اپنے آپ کو نوازشریف سے ” دور “ کر لیا

  

 کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جلسوں میں فوج سے متعلق منفی زبان استعمال کرنا ٹھیک نہیں،مجھے افسوس ہوتا ہے کہ وزیراعظم کا جلسہ ہو یا اپوزیشن کا، موجودہ یا ریٹائرڈ جرنیلوں کا نام لینے سے دفاعی اداروں کا وقار مجرو ح  ہوتا ہے،عمران خان خود دفاعی اداروں کو سیاسی حربے کے طور استعمال کرتے ہیں تو پھر ادارتی وقار کو دھچکا لگتا ہے۔

 باغ جناح میں پیپلز پارٹی کے جلسے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  ہم چاہتے ہیں کہ مکمل اور حقیقی جمہوریت ملے، مجھے افسوس ہوتا ہے کہ وزیراعظم کا جلسہ ہو یا اپوزیشن کا، موجودہ یا ریٹائرڈ جرنیلوں کا نام لینے سے دفاعی اداروں کا وقار مجرو ح  ہوتا ہے،جب ہم اسٹیبشلمنٹ کا نام لیتے ہیں تو ہم جانتےہیں کہ یہ صرف آج کا نہیں بلکہ تاریخ کا حصہ ہے ہمیں آمریت ملی یا کنٹرولڈ جمہوریت؟ ہم ایسا نہیں چاہتے کہ عدلیہ یا ملٹری بیوروکریسی پر الزام لگے لیکن کیا کریں جب فوج کو پولنگ سٹیشن پر کھڑا کردیا جائے تو سوال تو اٹھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان ہر تقریر میں کہتے ہیں کہ یہ والا میرے ساتھ ہے، وہ والا میرے ساتھ ہے، ہم سب ایک پیج پر ہیں،عمران خان خود دفاعی اداروں کو سیاسی حربے کے طور استعمال کرتے ہیں تو پھر ادارتی وقار کو دھچکا لگتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ہر ادارہ اپنا کام کرے اور فوج پولنگ سٹیشن کا نہیں بلکہ ووٹرز کا تحفظ کرے جیسے وہ دلیری سے سرحد پر دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہیں،اس کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے سیاستدانوں، عدلیہ، پارلیمنٹ اور فوج کو بھی اپنا اپنا کام کرنا ہوگا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے پی ڈی ایم تشکیل پا چکی ہے،ہمیں فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا کٹھ پتلی راج قبول ہے یا ہمیں جمہوریت چاہیے کیونکہ کٹھ پتلی وزیراعظم ملک نہیں چلا سکتا،وزیراعظم عمران خان عدلیہ کو ایسے چلانا چاہتے ہیں جیسا وہ اپنی ٹائیگر فورس کو چلاتے ہیں،اس ملک کے عوام عدلیہ کی طرف انصاف کی امید کے ساتھ دیکھتے ہیں۔

مزید :

قومی -