جعلی حکومت بدترین دھاندلی کے نتیجے میں وجود میں آئی،ادارے ہمارے اپنے مگر انہیں آئینی حدود میں کام کرنا چاہئے:مولانافضل الرحمان 

 جعلی حکومت بدترین دھاندلی کے نتیجے میں وجود میں آئی،ادارے ہمارے اپنے مگر ...
 جعلی حکومت بدترین دھاندلی کے نتیجے میں وجود میں آئی،ادارے ہمارے اپنے مگر انہیں آئینی حدود میں کام کرنا چاہئے:مولانافضل الرحمان 

  

کراچی(این این آئی)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ اورجمعیت علماء اسلام کے امیرمولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ناجائز اور جعلی حکومت بدترین دھاندلی کے نتیجے میں وجود میں آئی،ادارے ہمارے اپنے ہیں مگر انہیں آئینی حدود میں کام کرنا چاہئے،جن سے شکوہ کررہے ہیں وہ بھی تو ہمارے ہیں۔

 ہفتہ کی شب جامعہ فاروقیہ۔ٹو کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جامعہ فاروقیہ میں ڈاکٹر عادل شہید کی تعزیت کے لیے آیا ہوں،ڈاکٹر عادل خان کا قتل علمی دنیا کا بڑا نقصان ہے،مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت بہت بڑا سانحہ ہے، ان کی دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا،میرے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ شہادت سے ہفتہ دس دن قبل ان سے مسلسل ملاقاتیں ہوتی رہیں، اتنے قیمتی علما شہید ہوئے کہ آج تک کسی کے خلا کو کرنہیں کیا جا سکا،ڈاکٹر عادل خان صاحب شہید کے سانحے پر کون سا دل ہوگا جو غمزدہ نہ ہو گا، کون سی آنکھ ہوگی جو اشک بار نہ ہوگی،مولانا عادل خان کی شہادت کا سانحہ صرف ان کے خاندان، جامعہ اور متعلقین کا غم نہیں پورے ایک جہاں اور ہم سب کا مشترکہ صدمہ ہے،کوئی قوم قبیلہ معاشرہ شخصیات کی اہمیت کا انکار نہیں کرتا لیکن کی امت کی بقا کی دار و مدار عقائد پر ہوتا ہے،ایسے واقعات میں ہماری توجہ اس بات پر ہونی چاہئے کہ جو شخص جام شہادت نوش کرکے چلاگیا اس کی زندگی کا مقصد اور نصب العین کیا تھا، ہمیں ان اداروں، عمارتوں اور جامعات کے مستقبل کا بھی سوچنا ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ  ایسی شخصیات کیوں گولیوں کا نشانہ بنتی ہیں؟شہر قائد ماضی میں بھی خون میں نہلایا گیا،بڑے بڑے علما شہید کردیئے گئے۔انہوں نے کہا کہ تفتیش میں اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے،قاتلوں کی تصاویر بھی واضح ہیں مگر پھر بھی ان کی شناخت نہیں ہوسکی۔ عدم تحفظ کی فضا بنادی گئی ہے،جامعہ فاروقیہ کو اب تک کوئی سیکورٹی نہیں دی گئی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک میں فرقہ ورانہ فسادات کی کوشش کی گئی، قرارداد پاکستان کے نکات پر آج بھی سب اتفاق کرتے ہیں،مختلف مکاتب فکر کو آپس میں لڑانے کی سازش کسی اور کی ہے،عوام کے دباؤ کا رخ کسی اور کی طرف موڑنے کی کوشش کی جارہی ہے،ملک کو چلانا ہے تو آئین اور ضابطوں پر عمل کرنا ہے،ہم انہیں پہچانتے ہیں مگر نام نہیں لے رہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوام حکومت سے مایوس ہوچکی ہے،تمام سیاستدانوں عوام کی آواز بن چکے ہیں،حکومت کے اعصاب اتنے بڑے دباؤ کو برداشت نہیں کرسکتی،ناجائز اور جعلی حکومت بدترین دھاندلی کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے،اداروں سے گلہ کررہے ہیں تو اس لیے کہ وہ بھی ہمارے اپنے ہیں،اداروں کو بھی خود کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے،سمندر کی موجیں مچھلیوں کو تھکا نہیں سکتیں،چھاؤں میں رہنے والے دھوپ میں رہنےوالوں سےمقابلہ نہیں کرسکتے۔انہوں نےکہاکہ ہر چیز کی ذمہ داری سیاستدانوں پر نہیں ڈالی جاسکتی،ادارے ہمارے اپنے ہیں مگر انہیں آئینی حدود میں کام کرنا چاہیے،جن سے شکوہ کررہے ہیں وہ بھی تو ہمارے ہیں۔

مزید :

قومی -