چین کی مسلم اقلیت اور یغور کو عقائد تدیل کرنے پر مجبور نہ کیا جائے:امریکہ

چین کی مسلم اقلیت اور یغور کو عقائد تدیل کرنے پر مجبور نہ کیا جائے:امریکہ

  

 واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) امریکہ نے چین کے شمال مغربی صوبے شنجیانگ (Xinjiang) میں نیم خود مختار مسلم اقلیتی کمیونٹی اویغور پر سرکاری سطح پر کئے جانے والے جبر کی زبردست مذمت کی ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ رابرٹ ڈیسٹرو اور سفیر عمومی جان رچمنڈ نے ایک مشترکہ آئن لائن پریس بریفنگ میں دنیا کے مختلف مقامات پر انسانی سمگلنگ اور زبردستی نقل مکانی کے واقعات کا جائزہ لیا جس کے دوران یہ جائزہ پیش کیا گیا۔ان مقامات میں خاص طور پر چین، افغانستان، برما، کیوبا، اری ٹیریا، روس، جنوبی سوڈان، ترکمانستان، بیلارس اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ تاہم امریکی لیڈروں نے چینی کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے چین میں بسنے والی اویغور کی مسلم اقلیت کے خلاف وسیع پیمانے پر نقل مکانی پر مجبور کرنے کے اقدامات پر تنقید کی اور کہا کہ چینی سرکار یہاں آباد تمام اقلیتوں خصوصاً اویغور کو اپنے سیاسی اور نظریاتی عقائد تبدیل کرنے اور انہیں مزدوری کے کیمپوں میں رکھ کر زیادہ مشقت کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں ہزاروں اویغور باشندوں کو حراستی کیمپوں سے نکال کر کپڑے کے کارخانوں میں مزدوری کے لئے بھیجا جا چکا ہے۔انہوں نے اس امر پر مزید تشویش کا اظہار کیا کہ ان صوبے کے علاوہ تبت کے خود مختار علاقے میں بھی ایسی جبری کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ امریکی حکام نے اعلان کیا کہ چین میں جبری مشقت کے ذریعے تیار کئے جانے والی اشیاء جن میں ٹیکسٹائل مصنوعات بھی شامل ہیں امریکہ درآمد نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے امریکی کاروباری اداروں کو آگاہ کیا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تیار کئے جانے والی اشیاء کو درآمد کرنے اور فروخت کرنے سے پرہیز کریں۔

امریکہ

مزید :

صفحہ اول -