جلسوں میں فوج سے متعلق منفی زبان استعمال کرنا ٹھیک نہیں، بلاول

جلسوں میں فوج سے متعلق منفی زبان استعمال کرنا ٹھیک نہیں، بلاول

  

کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے آج شہری آزاد ہیں نہ عدلیہ اور میڈیا، ہر مسئلے کا حل جمہوریت ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے گزشتہ روز کراچی میں باغ جناح کے دورے اور آج ہونیوالے پاکستان ڈیمو کر یٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے موقع پر کارکنوں اور میڈیا کیساتھ گفتگو میں کیا، اس موقع پر سابق وزیرا عظم یوسف رضا گیلانی، شیری رحمان اور دیگر کے ہمراہ کیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا  مسا ئل نے عوام کا جینا حرام کردیا ہے، ہمیں یا آمریت ملی یا 'کنٹرولڈ' جمہوریت، ہم چاہتے ہیں ہر ادارہ اپنا کام کرے۔بلاول نے کہا جیسے عمران خان کٹھ پتلی ویسے ہی سپیکر کٹھ پتلی، انہوں نے مجھے بولنے کی اجازت نہ دی، عمران خان کے اشارہ کرنے پر سپیکر نے میرا مائیک بند کرادیا۔ ہم اور اس ملک کے عوام عمران خان سے حساب چاہتے ہیں،ہم امپائر کے اشارے کے طرف نہیں دیکھتے عوام کے اشارے کی طرف دیکھتے ہیں، ہم چاہتے ہیں ہر کرپٹ کااحتساب ہو اور ہر کرپٹ کیلئے ایک قانون ہو۔ عوام عدلیہ کو انصاف کی امید کیسا تھ دیکھتے ہیں، عدالت بی آر ٹی اور علیمہ باجی کیس کا فیصلہ دے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا جلسوں میں فوج سے متعلق منفی زبان استعمال کرنا ٹھیک نہیں۔ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ وز یر اعظم کا جلسہ ہو یا اپوزیشن کا، موجودہ یا ریٹائرڈ جرنیلوں کا نام لینے سے دفاعی اداروں کا وقار مجرو ح  ہوتا ہے۔ جب ہم اسٹیبشلمنٹ کا نام لیتے ہیں تو ہم جانتے ہیں یہ صرف آج کا نہیں بلکہ تاریخ کا حصہ ہے،ہم ایسا نہیں چاہتے عدلیہ یا ملٹری بیوروکریسی پر الزام لگے لیکن کیا کر یں جب فوج کو پولنگ اسٹیشن پر کھڑا کردیا جائے تو۔ان کا کہنا تھا وزیراعظم عمران خان ہر تقریر میں کہتے ہیں کہ یہ والا میرے ساتھ ہے، وہ والا میرے ساتھ ہے، ہم سب ایک پیج پر ہیں۔عمران خان خود دفاعی اداروں کو سیاسی حربے کے طور استعمال کرتے ہیں تو پھر ادا ر تی وفار کو دھچکا لگتا ہے۔اسلئے ہم چاہتے ہیں کہ ہر ادارہ اپنا کام کرے اور فوج پولنگ اسٹیشن کا نہیں بلکہ ووٹرز کا تحفظ کرے جیسے وہ دلیری سے سرحد پر دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔

بلاول بھٹو

مزید :

صفحہ اول -