عارضی ملازم کوآسامی کی موجودگی میں ہی مستقل کیا جاسکتا ہے، جسٹس عائشہ 

عارضی ملازم کوآسامی کی موجودگی میں ہی مستقل کیا جاسکتا ہے، جسٹس عائشہ 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی بھی عارضی ملازم کو مستقل آسامی کی موجودگی میں ہی مستقل کیا جاسکتا ہے،ور اس مقصد کے لئے آسامی ہونا لازمی ہے،جسٹس عائشہ اے ملک نے یہ فیصلہ محکمہ بہبود آبادی کی اپیل منظور کرتے ہوئے جاری کیا اپیل میں محکمہ بہبود آبادی کے عارضی ملازمین کو مستقل کرنے سے متعلق لیبر کورٹ اور لیبر اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلوں کو چیلنج کیا گیاتھا فاضل جج نے 6صفحات پر مشتمل اپنے تحریری فیصلے میں قراردیاہے کہ عارضی سرکاری ملازمین کو کمرشل اور صنعتی قوانین کے تحت مستقل نہیں کیا جاسکتا،لیبر کورٹ کو صنعتی تعلقات کے قانون کے تحت ملازموں کو مستقل کرنے کا اختیارنہیں،لیبر ٹربیونل نے اس نکتہ کو نظر انداز کیا کہ عارضی ملازمت ایک مخصوس پراجیکٹ کیلئے دی گئی تھی کسی پراجیکٹ کیلئے تعینات کئے گئے عارضی ملازم کو مستقل آسامی پرتقررکا حق نہیں،محکمہ بہبود آبادی کی طرف سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ محکمہ پاپولیشن ویلفیئر صنعتی اداروں کی تعریف میں نہیں آتا،حکومت اسامیوں کی منظوری دیتی ہے بجٹ مقرر کیا جاتا ہے،کسی فرد کو اسامی کی موجودگی میں ہی مستقل کیا جاسکتا ہے،لیبر کورٹ اورلیبر اپیلیٹ ٹربیونل کو عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم دینے کااختیارنہیں تھا،لیبر کورٹ اورلیبر اپیلٹ ٹربیونل نے فرزانہ بشارت سمیت محکمہ بہبود آبادی کے عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم دیاتھاجسے عدالت عالیہ نے کالعدم کردیاہے۔

جسٹس عائشہ 

مزید :

صفحہ آخر -