رانا ثناء اللہ،محمدصفدر‘لیگی رہنماؤں، کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع 

رانا ثناء اللہ،محمدصفدر‘لیگی رہنماؤں، کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع 

  

لاہور(نامہ نگار)انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنمارانا ثناء اللہ اورسابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر)محمدصفدر سمیت دیگر لیگی رہنماؤں و کارکنوں کی عبوری ضمانت میں 20 اکتوبر تک توسیع کردی،عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلاء کوبحث  کے لئے طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی،دوران سماعت فاضل جج نے ملزموں کے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ جب اعلیٰ عدالتیں اپنی ماتحت عدالت کے پر کاٹ دیں تو عدالت ضمانت کی سطح پر دائرہ اختیار کے نکتے پر کیا فیصلہ کرے گی؟گزشتہ روز کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ملزمان رانا ثناء اللہ، کیپٹن (ر)محمدصفدر، سیف الملوک کھوکھر اوریونین کونسل 150 کے سابق چیئرمین طارق اعوان کی عبوری ضمانت کی درخواست میں حاضری مکمل کروائی،ایک شریک ملزم طارق اعوان کے وکیل زین علی قریشی کی جانب سے ملزم کا میڈیکل سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیا گیا تو فاضل جج نے کہا کہ آپ کو کہا تھا کہ سروسز ہسپتال سے میڈیکل سرٹیفکیٹ لے کر آئیں، جو 24 گھنٹے ختنے کرتے ہیں آپ اس ہسپتال سے سرٹیفکیٹ لے آئے ہیں، میں اس ڈاکٹر کو طلب کرلوں؟ رانا ثناء اللہ کے وکیل سید فرہاد علی شاہ نے کہا کہ یہ مقدمہ سیاسی نوعیت کا ہے، حکومتی ایما پر مقدمہ درج کیا گیا، حکومت کو یہ ثابت کرنا ہے کہ نیب آفس کے باہر دہشت گردی ہوئی، ملزمان کی عبوری ضمانت ہے اگر فوٹیج موجود ہے تو اسے فوٹیجز عدالت میں چلائیں، اس بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے، نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ آپ فیصلہ لے آئیں، میں سرنڈر کردوں گاملزمان کے وکلا کی جانب سے کیس پیر تک ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ ابھی یہ کہ رہے تھے سپریم کورٹ کا فیصلہ ابھی پیش کرتا ہوں، اب آپ پیر تک سماعت ملتوی کرنے کا کہہ رہے ہیں،اگر ان کے پاس سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے تو میں اسکا پابند ہوں،سرکاری وکیل کی جانب سے عدالت سے آج ہی بحث کی استدعا کی گئی،  فاضل جج نے کہا کہ کیس سب کا ایک جیسا ہے، آپ بحث شروع تو کریں، عدالت نے تمام مواد دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے، آپ کیٹگری بنالیں لیکن بحث شروع کریں،  فاضل جج نے کہاکہ یہ آپ کی ہی تجویز تھی کہ ایک ایک کرکے بحث کریں گے، جس پر رانا ثناء اللہ کے وکیل سید فرہاد علی شاہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب آفس کے باہر سیف سٹی کے وہاں کیمرے لگے ہوئے ہیں، وہ دیکھے جانے چاہئیں لیاقت نے پولیس کو کہا کہ ویڈیو دیکھ لیں لیکن پولیس آلہ کار بنی ہے، مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل نہیں تھیں اور علاقہ مجسٹریٹ نے ملزموں کا ریمانڈ بھی نہیں دیاتھا،23 دنوں بعد کیس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئیں، سی سی پی او لاہورنے کئی جگہوں پر کہا کہ پولیس نے مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل نہیں کیں، سیف الملوک کھوکھر کے وکیل نے عبوری ضمانت کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کرنے کے اصول وضع کر دیئے ہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نیب آفس کے باہر ہنگامہ آرائی دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا، سی طرح ایک ملزم حیدر علی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم حیدر علی موقع پر موجود ہی نہیں تھا، ملزم کا نام ایف آئی آر حیدر بٹ لکھا جبکہ ملزم کا نام حیدر علی ہے، عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد رانا ثناء اللہ اورکیپٹن (ر)محمدصفدر سمیت دیگر مذکورہ ملزموں کی عبوری ضمانت میں 20اکتوبر تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

عبوری ضمانت توسیع

مزید :

صفحہ آخر -