دائمی امراض میں مسلسل اضافہ تشویشناک ہے،پروفیسر کرسٹوفر

   دائمی امراض میں مسلسل اضافہ تشویشناک ہے،پروفیسر کرسٹوفر

  

لاہور (پ ر) 30 سالوں کے دوران دنیا بھر میں دائمی امراض میں مسلسل اضافہ،موٹاپا، ہائی بلڈ شوگر اور فضائی آلودگی سمیت خطرے کے دیگر عوامل کے ساتھ مل کر COVID-19 نے ایک ایسی خطرناک صورت حال پیدا کر دی ہے جو اس عالمی وباء سے اموات میں شدت پیدا کر رہی ہے۔ گلوبل برڈن آف ڈیزیز اسٹڈی کے تازہ ترین نتائج جو طبی جریدے The Lancet میں شائع ہوئے ہیں،اس بارے میں نئی معلومات فراہم کرتے ہیں کہ مختلف ممالک COVID-19 سے نمٹنے کے لیے صحت کے حوالے سے کس حد تک تیار تھے اور اس عالمی وباء کے مزید خطرات سے بچنے کے چیلنج پر قابو پانے کے لیے انھوں نے حقیقتاً کس حد تک اقدامات کیے۔یونیورسٹی آف واشنگٹن،  کے انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ میٹریکس اینڈ ایویلیوایشن کے ڈائریکٹر پروفیسر کرسٹوفر مرے،جنھوں نے اس ریسرچ کی قیادت کی نے کہا کہ" خطرے کے یہ بیشتر عوامل قابل تدارک اور قابل علاج ہیں اور ان پر قابو پانے سے بھرپور سماجی اور معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ The Lancet کے ایڈیٹر ان چیف،ڈاکٹر رچرڈ ہارٹن نے کہا کہ" ہم جس خطرے کا سامنا کر رہے ہیں وہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم نہ صرف ہر مصیبت کا علاج کریں بلکہ ایسی نا ہمواریوں کا بھی تدارک کریں جو ان کی تشکیل کا باعث بنتی ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -