”ناکام جلسے“ کے بعد ”پریشان تبصرے“

”ناکام جلسے“ کے بعد ”پریشان تبصرے“

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سارے ڈاکو اکٹھے ہو گئے،کبھی سوچتا ہوں انہیں این آراو دے دوں تو زندگی آسان ہو جائے،مگر یہ تباہی کا راستہ ہے،بیروزگار اپوزیشن کو اہمیت دینے کی ضرورت نہیں،ان کا بیانیہ نہیں بکے گا،انہوں نے ہی ملک کا بیڑہ غرق کیا، نیب زدگان سے کوئی خطرہ نہیں،حکمران جماعت کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے جلسوں کی تحریک بری طرح ناکام ہو گی یہ لوگ عوام کے سامنے روز بروز بے نقاب ہو رہے ہیں،جب چاہیں جلسے کریں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔اجلاس میں ارکانِ اسمبلی نے مہنگائی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا،تو وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی کا مکمل ادراک ہے،جلد کنٹرول کر لیں گے آج بھی جو مسائل ہیں اس کے ذمہ دار ماضی کے وہ حکمران ہیں، جو احتجاج کر رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان گوجرانوالہ میں اپوزیشن کے جلسے سے پہلے بھی یہی کہہ رہے تھے کہ اُنہیں جلسوں سے کوئی مسئلہ نہیں،اپوزیشن خود ہی بے نقاب ہو گی اور اس کی یہ تحریک ناکام ہو گی۔اب جلسے کے بعد انہیں پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں  کہا گیا ہے کہ اپوزیشن کا شو ناکام رہا، عوام نے جلسے کا بائیکاٹ کیا، چند ہزار کارکن آئے۔گوجرانوالہ سٹیڈیم کے آدھے حصے میں تو سٹیج ہی بنا دیا گیا تھا باقی ماندہ حصہ بھی بھرا  نہیں جا سکا، ایسی رپورٹوں کو دیکھ کر وزیراعظم کو یہی کہنا چاہئے جو وہ کہہ رہے ہیں اور اپوزیشن کی تحریک کی ناکامی کی پیش گوئی ہی کرنی چاہئے تاہم پی ڈی ایم کی جماعتوں کا خیال ہے کہ گوجرانوالہ کا جلسہ توقع سے بھی زیادہ کامیاب رہا، ہر قسم کی رکاوٹوں کے باوجود لوگ جوق در جوق جلسہ گاہ میں آئے، اندر اور باہر عوام کا جم غفیر تھا، اپوزیشن کی حکمت ِ عملی بھی کامیاب رہی، بلاول بھٹو زرداری لالہ موسیٰ سے ریلی لے کر جلسہ گاہ میں آئے، تو لاہور سے مولانا فضل الرحمن اور محترمہ مریم نواز الگ الگ ریلیوں کو لے کر جلسہ گاہ پہنچے اور وہاں ایسے شرکا سے خطاب کیا، جو پُرجوش نعرے لگا رہے تھے اور اپنی اپنی پارٹیوں کے پرچم لے کر جلسہ گاہ تک آئے تھے۔اگرچہ انہیں آنے کے لئے ہر قسم کی رکاوٹوں کا سامنا تھا، کہیں کنٹینر کھڑے تھے تو کہیں خاردار تاریں،بعض راستے ویسے ہی ممنوعہ علاقے بنا دیئے گئے تھے، مریم نواز کو جاتی امرا سے شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہ تھی، اُنہیں متبادل روٹ پر جانے پر اصرار کیا گیا، اس کے باوجود جلسے کو حکومت مخالف تحریک کا ایک اچھا آغاز قرار دیا جا سکتا ہے، حکومت بھلے سے جلسے کو ناکام قرار دے کر خوش ہوتی رہے،لیکن کسی بھی پہلو سے جائزہ لے کر اسے ایک کامیاب جلسہ ہی قرار دیا جائے گا،اب آئندہ جو جلسے ہوں گے اس پہلے جلسے کے اثرات ان پر بھی مرتب ہوں گے۔آج کراچی میں اِس سلسلے کا دوسرا جلسہ بھی ہونے والا ہے، جو اس سلسلے کو آگے بڑھائے گا۔

حکومت تو جلسے کے انعقاد سے پہلے ہی اسے ناکام ثابت کرنے پر تلی ہوئی تھی اور وزیروں کی ٹیمیں ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر دور دور کی کوڑیاں لا رہی تھیں،لیکن ان ”کوڑیوں“ کا کوئی فائدہ نہیں ہوا،اِن تبصروں کا اپوزیشن کو فائدہ یہ پہنچا کہ وہ لوگوں کو جلسہ گاہ تک لانے کے لئے بینروں اور اشتہارات کی بھی محتاج نہ رہی اور عوام وزیروں کے تبصرے سن کر خود ہی جلسہ گاہ تک پہنچ گئے کہ دیکھیں وہاں کہا کیا جاتا ہے،جلسے کی جتنی پبلسٹی وزیروں کے بیانات سے ہوئی،اپوزیشن شایداس کا اہتمام نہ کر پاتی،اب جبکہ پبلسٹی ہو گئی تو پھر اس کی کوئی نہ کوئی وجہ تو تلاش کرنی تھی، سو حکومت پر انکشاف ہوا کہ اس ایک جلسے پر ایک ارب تیس کروڑ روپے خرچ کر دیئے گئے، حالانکہ اب حکومت کو معلوم یہ کرنا چاہئے تھا کہ لوگ جلسے میں کیوں گئے اور”این آراو نہیں دوں گا“ کا بیانیہ کیوں پٹ رہا ہے۔اگر یہ اپنا رنگ جما رہا ہوتا تو سینکڑوں بار اس آموختے کو دہرانے کی ضرورت کیوں پڑتی؟ لگتا ہے لوگ اب اس پر توجہ دینے کے لئے تیار نہیں،کرپشن کے الزامات بھی اہمیت کھو بیٹھے، اگر لوگوں نے یہ چورن خریدا ہوتا تو جلسے کی رونقیں دوبالا کرنے کے لئے صعوبتیں اٹھا کر دور دراز سے اس میں شرکت کے لئے نہ آتے،حکومت مانے یا نہ مانے،مہنگائی کا مشترکہ دُکھ لوگوں کو جلسے میں لے گیا،اب اپوزیشن جماعتیں اگلے جلسوں میں عوام کی اِس دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھیں گی۔ حکومت اگر کوئی توڑ کرنا چاہتی ہے تو وہ یہ نہیں ہے کہ این آر او نہ دینے کا گھسا پٹا بیانیہ دہراتی چلی جائے، بلکہ یہ ہے کہ مہنگائی کا توڑ کرنے کی کوئی سبیل کی جائے اور لوگوں کے مسائل حل کئے جائیں۔

حکمران جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعظم نے مہنگائی کا ذکر چھیڑنے والوں کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ مہنگائی جلد کم ہو جائے گی،لیکن برسر زمین کوئی ایسے اقدامات نظر نہیں آتے جن سے مہنگائی کم ہونے میں مدد ملے، حکومت براہ راست جن اشیاء کی قیمتیں خود بڑھاتی ہے ان میں کمی کرنے میں تو بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں،بجلی اور گیس کی قیمتیں کم کی جا سکتی ہیں،لیکن حکومت کم نہیں کر رہی،درجنوں ایسی بنیادی اشیائے خوراک ہیں جن پر سیلز ٹیکس کم کر کے قیمتیں فوری طور پر نیچے لائی جا سکتی ہیں،لیکن کسی بھی چیز پر سیلز ٹیکس کم نہیں کیا گیا، نئے پاکستان میں پہلی بار چینی کی قیمتیں 110 اور 115 روپے تک پہنچی ہیں۔گزشتہ برس گیارہ لاکھ ٹن چینی باہر بھیج دی گئی اور شوگر ملوں کو تین ارب روپے کی سبسڈی پنجاب حکومت سے دلوا دی گئی،اب کہا جا رہا ہے کہ یہ سبسڈی لینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔سوال یہ ہے کہ کیا سبسڈی لینے والوں نے دیوار پھلانگ کر ڈاکہ ڈالا تھا؟ کیا مجاز سرکاری اداروں نے اس کی منظوری نہیں دی تھی؟ کیا پنجاب کی کابینہ نے سبسڈی کے حق میں فیصلہ نہیں دیا تھا؟ کیا وزیراعلیٰ نے  سبسڈی دینے سے انکار کر دیا تھا اب ایسی بے تدبیری کے بعد چینی درآمد کی جا رہی ہے تو ایک وفاقی وزیر یہ اعلان کر کے غریبوں کے زخموں کو کرید رہے ہیں کہ جلد قیمتیں دس، پندرہ روپے کم ہو جائیں گی۔سوال یہ ہے کہ جو چینی52روپے بک رہی تھی، غلط برآمدی پالیسی کی وجہ اس کی قیمت دوگنا سے بھی زیادہ ہو گئی اور اب آپ دس پندرہ روپے کم کر کے غریبوں پر احسان جتانا چاہتے ہیں اور یہ بھی ابھی تک صرف وعدہ ہی ہے،جو پتہ نہیں ایفا ہوتا ہے یا نہیں، غریبوں کو اُن کے دُکھ اپوزیشن کی جلسہ گاہ میں لے گئے تھے اور اِس جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے ان غریبوں نے کردار ادا کیا،اب ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر اور وزیراعظم کو یہ رپورٹیں دے کر کہ جلسہ  ناکام ہو گیا ہے،کسے دھوکا دیا جا رہا ہے؟جو لوگ اپنے پاؤں پر چل کر جلسہ گاہ میں پہنچے اور جن آنکھوں نے جلسے کے مناظر دیکھے اُنہیں ٹی وی کے تبصروں کے ذریعے کیسے گمراہ کیا جا سکتا ہے؟ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ایک رُکن نے جب کہا کہ ہم لوگوں کا سامنا نہیں کر پا رہے تو معلوم نہیں اس کو کیسے مطمئن کیا گیا،لیکن حکومت کی صفوں میں جو بے اطمینانی پائی جاتی ہے وہ ان تبصروں سے عیاں ہے، جن کے ذریعے جلسے کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور وزیراعظم کو ایسی رپورٹیں ارسال کی جا رہی ہیں،جو زمینی حقائق سے دور ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -