ایکشن ری پلے!

ایکشن ری پلے!
ایکشن ری پلے!

  

ہمارے لئے تو یہ سب ایکشن ری پلے ہے، اپوزیشن نے تمام تر رکاوٹوں اور مخالفتوں کے باوجود جلسہ کر ہی لیا، اب اس جلسے کے حوالے سے جو کچھ وزرا نے کہا اور جو دعوے اپوزیشن نے کئے ان سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ہم اگر دور ایوبی میں نہیں تو بھٹو دور میں ضرور رہ رہے ہیں، اس کو بھی چھوڑیں تو محترمہ بے نظیر بھٹو اور محمد نوازشریف ہی کے دور کو یاد کر لیں کہ جب بھی ایسا موقع آیا ایسے ہی بیانات سامنے آئے۔ اپوزیشن کے لئے رکاوٹیں پھر جلسے میں حاضرین کی تعداد پر طنز اور اپوزیشن کی طرف سے کامیابی کے دعوے اب بھی یہی سب کچھ ہوا۔ لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ ماضی قریب و بعید جتنے بھی برے یا اچھے تھے فقرے بازی ایسی نہیں ہوتی تھی ہم بہت زیادہ معذرت سے عرض کرتے اور اس گستاخی کے لئے پہلے ہی معافی مانگ لیتے ہیں۔ ہمیں تو وہ دونوں بھانڈ بھائی یاد آ جاتے ہیں، جو سیاسی باراتوں میں سب اپنی لطیفہ گوئی سے محفل کو کشت زعفران بنا دیتے تھے۔ اب باقی کسی سے ہمیں کوئی گلا نہیں ہو سکتا لیکن یہ جو اپنے فواد حسین چودھری ہیں ان پر بھی رنگ چڑھ گیا اور ان کی طرف سے بھی فقرے بازی کی جاتی اگرچہ انگریزی زبان کے مطابق یہ اتنی ”ولگر“ نہیں ہوتی، جیسی کچھ دوسرے مہربان بولتے ہیں، یہ بد ذوقی ہے اور اس کا آغاز بہر حال کنٹینر ہی سے ہوا تھا۔ دوسری طرف سے ہم حافظ حسین احمد کو یاد کرتے ہیں۔ لیکن ان کی طنز مہذب اور لطف دیتی ہے۔ البتہ اس جلسہ میں بلاول اور مریم نواز نے بد تمیزی تو نہیں کی لیکن جوش دلانے کے لئے تھوڑی سخت زبان ضرور استعمال کی۔

اب حزب اختلاف کی طرف سے اپنے پہلے پاور شو پر ناز اور فخر کیا جا رہا ہے، جبکہ وزراء اور معاونین خصوصی کے ساتھ ترجمان حضرات اسے ناکام کہنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔

یہ تو ایک اجمالی سی تصویر کشی ہے جو ہم نے اپنے جذبات کی عکاسی کے لئے کی ہے، ورنہ بات تو ویسی ہے۔ ہم سابقہ سے پہلے ادوار میں جب جلسوں کی رپورٹنگ کرتے تو اس لئے بھی محظوظ ہوتے تھے کہ مقررین جو کچھ بھی فرما رہے ہوتے وہ انہی کی زبان سے کئی بار سنا ہوتا۔ حتیٰ کہ یہ تقاریر ہمیں زبانی یاد ہو جاتی تھیں، کئی بار ہم رپورٹر یہ کہتے کہ اگر ہم مقرر کی مقرر تقریر نہ لکھیں اور قارئین سے یہ عرض کر دیں کہ فلاں تاریخ کے اخبار میں صفحہ نمبر 8 پر تیسرے کالم میں ملاحظہ کر لیں۔ وہی آج کہا گیا ہے بہر حال ہم مجبور لوگ یہ سوچ سکتے تھے کر نہیں سکے۔

اس حولے کے لئے آپ کی خدمت میں دو مختلف راہنماؤں کی دو مختلف انتخابی مہموں کا ذکر کر دیتے ہیں۔ 1970ء کے عام انتخابات میں ذوالفقارعلی بھٹو لاہور سے بھی قومی اسمبلی کے لئے امیدوار تھے اور ان کا یہ حلقہ گلبرگ اور ڈیفنس کے ساتھ کنٹونمٹ اور صدر کے علاقوں پر بھی مشتمل تھا، ان کی کوریج ہماری بیٹ میں شامل تھی۔ انتخابی مہم کے دوران ایک روز انہوں نے اپنے حلقے کا دورہ کیا اور قریباً 19 جگہ خطاب کیا۔ ہر تقریر یکسانیت کی حامل تھی۔ چندفقرے ایک جگہ نہ بولے گئے تو اگلے مقام پر کہہ دیئے جاتے تھے۔ 

یہ تمام تقاریر ہم نے رپورٹ کرنا تھیں یوں بھی ذوالفقار بھٹو کی سب تقریریں مکمل ہم لکھتے تھے۔ تاہم اس مرتبہ ہم نے بھی یہی کیا کہ ایک مشترکہ انٹرویو نکال کر تحریر شروع کی اور پھر تمام مقامات کا نام لکھ کر پوری تقریر من و عن رپورٹ کر دی اور اگلے روز شاباش پائی، تاہم ہم یہ اس نشست کے ضمنی انتخاب میں نہ کر پائے۔ بھٹو صاحب نے یہ نشست چھوڑ دی اور ضمنی انتخاب میں میاں محمود علی قصوری امیدوار تھے۔ ہماری ڈیوٹی پھر خصوصی طور پر لگائی گئی۔ ہم نے اس مشکل کا ایک حل نکالا میاں صاحب ہمیں ساتھ لے کر جاتے تھے  ہم نے ان کے ساتھ طے کیا کہ وہ ہر روز مختلف مقامات پر ایک سی تقریر کریں گے۔ اگر پہلے ہی روز سب رپورٹ کر دیا تو پھر باقی دنوں کے لئے کیا رہ جائے گا چنانچہ فیصلہ ہوا کہ ہر روز ایک نقطے کو تفصیل سے رپورٹ کیا جائے گا اور ہم یہی کرتے رہے اور ضمنی الیکشن بیت گیا۔

قارئین! کی دلچسپی ہو تو ہم یہ بھی عرص کر دیں کہ جنرل ضیاء الحق بعض اوقات الجھن میں ڈال دیتے ایسا لاہور میں بلدیات کے بڑے کنوشن کے موقع پر بھی ہوا، یہ باغ جناح میں ہوا تھا، صدر ضیاء ہمیشہ لکھی تقریر کرتے اور یہ تقریر نظر کا چشمہ لگا کر پڑھتے تھے۔ اچھی پبلک ریلشننگ کے طور پر محترم صدیق سالک صاحب تقریر کی فوٹو کاپیاں ساتھ رکھتے اور ہم رپورٹر حضرات میں تقسیم کر دیتے تھے کہ مکمل تقریر رپورٹ ہو جائے ہمیں سہولت ہو جاتی تھی، اس بلدیاتی کنونشن میں ہم سب سٹیج پر تھے اور سالک صاحب ہمارے ساتھ بیٹھے تھے۔ جنرل ضیا نے تقریر پڑھتے پڑھتے اچانک چشمہ اتار کر ہاتھ میں لیا تو سالک صاحب کے منہ سے بے ساختہ نکلا ”اوہ! بیڑہ غرق“ اور پھر انہوں نے ہمیں اشارہ کیا کہ نوٹس لیں کہ اب لکھی تقریر سے ہٹ کر نئی تقریر ہو گی۔

ہمارے ساتھ ایسا بہت کچھ ہو چکا ہوا ہے اور اکثر سیاست دان حضرات تردید کا حق بھی استعمال کر لیتے تھے۔ ہم کوریج کے لئے مختصر نوٹس لیتے تھے۔ تاہم جب کوئی صاحب اہم یا خصوصی قسم کا فقرہ کہتے یا بات کرتے تو ہم رپورٹ کرتے وقت انہی کے الفاظ میں لکھتے اور کامے ڈال دیتے تھے۔

یہ سب عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم تو مسلسل اتفاق رائے کے ساتھ اپیل اور درخواست کرتے چلے آ رہے ہیں، لیکن یہ ایک صفحہ والے سننے پر ہی تیار نہیں ہیں محترم کپتان میں ذرا سی بھی لچک نہیں اور وہ آج بھی اپنے ہی کہے پر قائم ہیں حالانکہ ہماری تجویز تو یہی رہی کہ احتساب کا سلسلہ اپنی جگہ رہنے دیں اور احتساب ہونے دیں لیکن پارلیمینٹ کو مضبوط کریں اور اس سطح پر تعلقات کار (ورکنگ ریلیشنز شپ) ضرور بنا لیں تاکہ گلشن کا کاروبار چلتا رہے، لیکن وہ نہیں سنتے۔ ہمارے لئے گوجرانوالہ کا جلسہ یوں بھی ایکشن ری پلے ہے کہ ماضی میں بھی یہی کچھ ہوتا رہا اور نتیجہ جمہوریت کا اختتام اور پھر نئے سرے سے جدوجہد کے بعد نئی جمہوریت، ہماری درخواست ہے کہ ایسا نہ ہونے دیں مذاکرات کر لیں۔

چلتے چلتے ایک مختصر سا واقع بتا دیں شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں …… ایم آر ڈی نے موچی دروازے میں جلسے کا اعلان کیا انتظامیہ نے باغ میں پانی چھوڑ دیا کہ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی“ لیکن منتظم ڈاکٹر جہانگیر بدر (مرحوم) تھا اور اس کے ساتھ تعاون کے لئے کارکنوں کے علاوہ میاں ارشد (مرحوم) کی ٹیم بھی تھی چنانچہ باغ میں پانی ہوا تو یہ حضرات ٹرالے لے آئے اور سرکلر روڈ پر سٹیج بنا دیا یوں جلسہ باغ کی نسبت بھی بڑا ہو گیا تب سے سٹیج ایسے بننے لگی اور کنٹینروں کا زمانہ آ گیا مخالف کو کمزور نہ جانیں بات چل نکلی ہے……

مزید :

رائے -کالم -