جلسہ بھی نون کاجلوس بھی نون کا

جلسہ بھی نون کاجلوس بھی نون کا
جلسہ بھی نون کاجلوس بھی نون کا

  

گوجرانوالہ جلسے میں بلاول بھٹو کا گھنٹے بھر کا خطاب سنتے ہوئے ایک لمحے کو ایسا لگا کہ وہ آل پارٹیز کانفرنس میں کی گئی نواز شریف کے دو گھنٹے کی تقریر کا بدلہ لے رہے ہیں۔ ان کی تقریر اس قدر لمبی تھی کہ جلسے میں موجود نون لیگ کے کارکن تو جلسہ گاہ چھوڑ کر تقریر لکھنے والے کو ڈھونڈنے نکل گئے، وہ تو بھلا ہو مولانا کے کارکنوں کا کہ بلاول کے جیالوں کے پہلو میں جم کر کھڑے رہے وگرنہ انہوں نے تو عوام کو بور کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی تھی۔ 

کوئی کچھ بھی کہے حقیقت یہی ہے کہ گوجرانوالہ جلسے کا مرکزومحور نواز شریف ہی تھے۔ یہ جلسہ بھی نون کا تھا اور جلوس بھی نون کا!……خیال یہ تھا کہ اس جلسے سے مریم نواز اسی طرح ایک لیڈر بن کر ابھریں گی جس طرح 1987ء کے جلسے سے بے نظیر بھٹو، مگر حسرت ان غنچوں پہ ہے،جو بن کھلے مرجھاگئے، کیونکہ ایک مرتبہ پھر نواز شریف جلسے کی جان ثابت ہوئے،کیونکہ جو باتیں وہ کر رہے ہیں وہ تو ذوالفقار علی بھٹو کر سکے تھے اور نہ ہی بے نظیر بھٹو کر سکی تھیں۔ شائد اس کی ایک وجہ یہ ہو کہ نواز شریف ملک سے باہر بیٹھے ہیں، اندر ہوتے تواسی طرح خاموش ہوتے جس طرح شہباز شریف ہیں۔ویسے شہباز شریف بھی اپنی بات کے پکے نکلے۔ انہوں نے بلاول کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا تھا کہ تحریک کی ذمہ داری نوجوان کندھوں پر ڈالیں گے اور وقت نے ثابت کردیا کہ وہ غلط نہیں کہہ رہے تھے۔ اب وہ نیب کی بیرک میں بیٹھے مینجمنٹ کی کتابیں پڑھ رہے ہیں اور بلاول اور مریم سڑکوں پر ہیں، مریم کو تو کھانا بھی سڑکوں پر ہی کھانا پڑ رہا ہے۔ 

خیر بات ہو رہی تھی نوا زشریف کی تقریر کی جو سلیکٹروں کی گوشمالی،انہیں للکارنے اور خبردار کرنے کے علاوہ کچھ اور نہ تھی۔یوں کہئے کہ نواز شریف کا جلسہ تھا اورباقیوں کی مجلس! جلسے میں مریم کی مردانگی نے علیحدہ سے رنگ جمایا۔وہ کبھی جسٹس عیسیٰ کی سگی بنیں تو کبھی میڈیا کی مامی بن کر گرجتی برستی رہیں۔ ان باپ بیٹی کا بیانیہ عوام کو اب بِنا آنے کے بھی سمجھ آنے لگا ہے، انہوں نے عمران خان کی تبدیلی کو تیلی لگادی ہے۔ اب جلسہ گاہ خالی بھی رہیں تو ملک ان کو دیکھنے اور سننے والوں سے خالی نہیں ہوسکتا، کیونکہ میڈیا نے گھر گھر جلسہ سجادیا ہے۔یوں بھی پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر سار ے پیچ ایک پیج پر آگئے ہیں، یہ کچھ نیا کرکے ہی دم لیں گے۔

تاہم دھڑکا یہ ہے کہ گوجرانوالہ سے ہونے والے اس آغاز کا انجام کسی گڑبڑ پر نہ ہو کیونکہ ماضی میں ہم کٹھ پتلی حکمران ہی نہیں، کٹھ پتلی عوام اور کٹھ پتلی ملک بھی ثابت ہوتے رہے ہیں۔ مولانا آنے والے دسمبر کو عوام کا سویمبر بنانا چاہتے ہیں اور خوشخبریاں دے رہے ہیں کہ ملک پر مسلط لوگ دسمبر نہیں دیکھیں گے، جبکہ شیخ رشید جنوری فروری سے شروع ہو کر 2023ء کے مئی جون جولائی تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایسا ہوا تو تب تک سلیکٹڈ سلیکٹر وں کے لئے اسی طرح بوجھ بنا رہے گا،جس طرح ٹرالی ٹریکٹر کے لئے بوجھ بنی رہتی ہے۔ ایسے میں مولانا پوچھنے کا حق مانگتے ہیں تو حق دینے والے سوچتے ہوں گے کہ کیا یہ کافی نہیں ہے کہ انہیں بولنے کا حق دے دیا ہے۔بہتر ہے وہ جتنا بول سکتے ہیں، بولیں، مگر کورٹ کچہری لگا کر پچھ پرتیت کرنے کی روش مت اختیار کریں۔اورجب مولانا کہتے ہیں کہ

ہم  مدینہ  مزاج  لوگوں  کی

زندگی کٹ رہی ہے کوفے میں 

تو ہمیں شاکر شجاع آبادی یاد آتے ہیں جنھوں نے کہا تھا کہ

توں  شاکر  آپ  سیانا  ایں!

ساڈی شکلاں ویکھ، حالات نہ پچھ

کوئی کچھ بھی کہے 16اکتوبر کی رات گوجرانوالہ جلسے میں نواز شریف سب سے پہلے بولے اور ان کی گونج سب سے آخر تک سنائی دیتی رہی۔سچ پوچھئے تو ہمیں تو مولانا بھی مدھم لگے، ان کے لہجے کی کاٹ نے سلیکٹروں کو اس طرح نہیں کاٹا جو ماضی میں ان کا شیوہ رہا ہے۔خاص طور پرجب وہ اسمبلی سے فیٹف کو زورزبردستی سے پاس کروانے کا گلہ کر رہے تھے تو ہمیں یاد آرہا تھا جب انہوں نے جنرل مشرف کا ایل ایف او پاس کروایا تھا۔ کوئی ان سے پوچھے کہ ادارے کا احترام کرتے ہو تو ادارے والوں کا کیوں نہیں کرتے۔ شائد اس لئے کہ مشروط احترام ہی مضبوط احترام ہوتا ہے، ووٹ عوام کا حق ہے تو حکومت کا حق بھی انہیں ملنا چاہئے وگرنہ ریاست کی کوکھ سے برائیاں اسی طرح جنم لیتی رہیں گی اور پاکستان ترقی معکوس کا شکار رہے گا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملک میں تیسری پارٹی بنانے کا تجربہ ناکام ہوگیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا اپوزیشن گوجرانوالہ میں لگائے گئے میلے کو ایجی ٹیشن میں بدل لے گی؟ کیا یہ آندھی طوفان میں بدلے گی؟ کیا اپوزیشن آنے والے دنوں میں عوام کو موبلائز کرتے ہوئے پھٹے کپڑوں اور ننگے پیر غریبوں کو جلسہ گاہوں تک لے آئے گی؟ کیا جلسہ گاہ بھردینے سے عوام کا پیٹ بھی بھرے گا؟ کورونا کی وبا پھوٹ پڑی تو کیا اپوزیشن کے کرم نہیں پھوٹ جائیں گے؟ سڑکوں سے کنٹینر ہٹانے والے دکانوں سے مہنگی ریٹ لسٹیں بھی ہٹاسکتے ہیں؟ حکومت پیچھے ہٹے گی تو کیا اسٹیبلشمنٹ کو بھی ایک قدم پیچھے ہٹناپڑے گا؟ کیا اپوزیشن کے جلسوں کے جواب میں عمران خان بھی جلسے کرکے دکھائیں گے یاڈیلیوری کو بہتر کرنے پر زور لگائیں گے؟ کیا اس وقت مقابلہ اس بات کا ہے کہ کون زیادہ پاپولر ہے یا اس بات کا ہے کون عوام کے لئے بہتر ڈیلیور کرسکتا ہے؟ 

اس میں شک نہیں کہ اپوزیشن کے خلاف عمران خان کے بیانئے میں تب تک جان تھی جب تک اپوزیشن کا اداروں کے خلاف بیانیہ کھل کر سامنے نہیں آیا، نواز شریف کی تین تقریروں نے منظرنامہ بدل دیا ہے۔ اب عمران خان کی اس بات میں وزن نہیں رہا ہے کہ وہ این آراو نہیں دیں گے، کیونکہ انہیں تو مینڈیٹ ہی یہ ملا ہے کہ این آراو نہیں دینا۔ اب اگر وہ یوٹرن لیتے ہیں تو بات اگلی سے بھی چگلی ہوجائے گی اور ان کی داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں!

مزید :

رائے -کالم -