دھوپ چھاؤں کا تعزیت نامہ   (4)

 دھوپ چھاؤں کا تعزیت نامہ   (4)
 دھوپ چھاؤں کا تعزیت نامہ   (4)

  

 پھوپھو ممتاز جیسی زندگی سے معمور شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے واقعات کی زمانی و مکانی ترتیب کو بدل دینا کوئی مناسب حرکت نہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ بعض یادوں کی منطق عمومی حقائق کے بہاؤ سے زیادہ طاقتور ہوا کرتی ہے۔ اِسی لیے ’پاک وطن، شاداب چمن‘ کی دھُن کے تعاقب میں چھ سالہ سیالکوٹی لڑکے کا چھتیس سالہ جوان کے طور پہ لندن کی ایک نواحی بستی میں پہنچ جانا اچنبھے کی بات تو نہ ہوئی۔ کرسمس کے دن تھے اور بیوی خالہ زاد بہن کے ساتھ چھٹیاں منانے کے لیے دونوں بچوں کے ہمراہ لِور پول روانہ ہو چکی تھیں۔ عارف وقار اور مَیں وسطی لندن میں بی بی سی کی عالمی سروس میں اپنے دفتر سے نکلے تو ہم نے سوچا کہ پہلا پڑاؤ جید پاکستانی اخبار نویس ہمراز احسن کا گھر ہونا چاہیے۔ وہاں حسبِ معمول خوب خاطر مدارت ہوئی۔ اب عارف وقار کے لہجہ میں کہنے دیجئے: ”لَو جی، ہُن اگلی گل سنو“۔

 ’اگلی گل‘ کا تعلق قبل از کرسمس شام گئے ہماری آخری منزل سے ہے۔ لندن کی نواحی بستی ایگھم میں ڈاکٹر منیر احمد کا گھر۔ یہ وہی ڈاکٹر منیر ہیں جنہوں نے بریڈ فورڈ یونیورسٹی سے امپیریل کالج تک پہنچتے پہنچتے پولیمر کیمسٹری کے مضمون میں کوئی سوا سو تحقیقی مقالے تحریر کیے اور رائل سوسائٹی کے فیلو قرار پائے۔ پر اِس نادر تجربے کا تعلق پولیمر کیمسٹری سے نہیں، یاد کے ایک لچکیلے پُل سے ہے جس کا ایک سرا آبائی شہر کے محلہ کشمیریاں میں نکلتا تھا اور دوسرا لندن کی رِنگ روڈ یعنی ایم ٹونٹی فائیو کے چودھویں ایگزٹ کے پاس۔ ڈنر ہمراز کے ہاں ہو چکا تھا۔ رات دوبارہ سَپر ہلکا پھلکا سپر لے کر جو سوئے ہیں تو پھر صاحبِ طرز عارف کے خراٹے بھی نیند میں خلل نہ ڈال سکے۔ بالائی کمرے میں صبحدم ’پاک وطن، شاداب چمن‘ کے بھُولے بسرے ترنم سے آنکھ کھُلی، مگر یہ کیا؟ یوں لگا کہ ہمارا پسندیدہ نغمہ ڈھولک کی تھاپ پہ گایا جا رہا ہے۔

 دیکھا تو عارف وقار سُرتال کے عین مطابق لکڑی کے فرش پر رقص کر رہے تھے۔ ’پاک وطن، شاداب چمن، اے پیارے پاکستان، اونچی تیری شان، پیارے پاکستان۔۔۔‘ مجال ہے جو پاؤں ذرا سا غلط پڑے۔ ابتدائی چار لفظ قدرے تیز ی سے، آخری تین تحمل کے ساتھ جس میں ’تان‘ کی لمبی صدا میں پھوپھو ممتاز کا پورا اسکول ہم آواز سنائی دے رہا تھا۔ لیکن منظر صبح کی اسمبلی کا نہیں۔ بس عارف صاحب ہیں اور وہ بھی لانگ جان میں ملبوس۔۔۔ مراد ہے سردیوں کا زیر جامہ جو نائٹ سوٹ نہ ہوتے ہوئے عارف کی شب خوابی کا لباس بن گیا تھا۔ عنفوانِ صبح، بالائی کمرے کا چمپئی اجالا اور حرکات و سکنات کی منظم وارفتگی۔ منیر کے گھر سے ہیتھرو ائر پورٹ آج بھی بیس منٹ کی ڈرائیو ہے، مگر مَیں پھوپھو کے پیچھے پیچھے اِس چند منٹ کی منظوم مسافت میں کتنے سال پیچھے گیا اور کتنی صدیاں آگے، اِس کا کوئی حساب نہیں۔

 یہ بھی سُن لیجئے کہ لندن میں ’پاک وطن، شاداب چمن‘ والی تاریخی واردات اب کے بہت دنوں بعد یاد آئی ہے۔ ایک تو اِس لیے کہ عارف وقار نام کی تہہ در تہہ شخصیت کوئی تین ہفتے ہوئے دل کے ہاتھوں ایک نازک مرحلے سے گزر کر اب یوں سمجھیں کہ برطانیہ میں واقع اپنے آبائی شہر رگبی میں صحت یاب ہو رہی ہے۔ دوسرے فیس بُک پر تعزیت نامہ کی تیسری قسط چپکا ئی ہی تھی کہ مجھے اِس واقعے کا بالواسطہ اشارہ چھوٹی بہن میمونہ سے مِل گیا۔ ”کمال اندازِ بیان۔ خاص طور پہ طبیعت کا ترنم سیٹ کرنے والے ترانے کے اشعار نے تو جیسے اندر ہی اندر جلترنگ بجا دیے۔ کاش اِس ترانے کی آڈیو شئیر کی ہوتی تو میرے دماغ میں گونجنے والی دھُن کی تصدیق ہو جاتی۔ معلوم نہیں کہ یہ میرا وہم ہے یا واقعی میں یہ ترانہ اور اُس کی دھُن میری یادوں میں محفوظ ہے“۔ 

 میمونہ کی پوسٹ پڑھ کر دو اَور عظیم ہستیاں فوری طور پہ حرکت میں آ گئیں۔ بیگم صاحبہ نے یہ کہہ کر فیس بُک پہ تصدیق کی کہ تمہارے بھائی ابھی تک یہ ترانہ گاتے ہیں جبکہ بیٹی رابعہ نے، جو پیشہ ور تحقیق داں ہیں، زیادہ محتاط پیرایہ اختیار کیا:”میمونہ پھوپھو، میرا خیال ہے کہ آ پ کو صحیح ٹیون یاد ہے (کیونکہ) جب ہم چھوٹے تھے تو ابو یہ گانا گایا کرتے تھے“۔ اِس پر مَیں نے حساب لگایا کہ میمونہ نے میری زبانی جب اول اول یہ دھُن سنی ہو گی تو اُس وقت پھوپھو ممتاز کو سیالکوٹ کا اسکول چھوڑے چند ہی برس ہوئے تھے اور تب یہ نغمہ میرے دل و دماغ پر حاوی تھا۔ تیس سال کے وقفے سے لندن میں رابعہ نے ہوش سنبھالا تو کچھ ہی دن پہلے عارف وقار کے رقص کی بدولت ’پاک وطن، شاداب چمن‘ میں میری دلچسپی کی لہر تازہ دم ہو کر اٹھی تھی۔ گویا دونوں موقعوں پر میرا ریاض عروج پہ رہا۔ لیکن میمونہ کی پوسٹ میں ایک دل آویز نکتہ اَور بھی ہے۔

 فرمایا: ”یہ جان کر تسلی ہوئی کہ آپ کا کالم ابھی جاری ہے۔ خاتون ہونے کے ناتے سے ایک انتہائی دلچسپ خوبی کا اضافہ کرتی ہوں کہ ہردم برق رفتاری سے گھریلو ذمہ داریاں سنبھالنے والی پیاری پھوپھو کو مَیں نے ہمیشہ صاف ستھری اور کافی حد تک بنی سنوری حالت ہی میں دیکھا۔ گھنے سیاہ بالوں کا خوبصورت جُوڑا اور ہونٹوں پر سُرخ لپ اسٹک اُن کے حسین چہرے کو چار چاند لگا دیتی تھی۔ آخری عمر تک شوخ رنگ لباس پہنے دیکھا، جو اُن پر بہت جچتے تھے۔ کبھی پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ کب کاموں کے دوران ہی وہ لمحے بھر میں تیار ہو کر ہنستی مسکراتی آ جاتی تھیں“۔ میمونہ نے اِس سے آگے مزید آٹھ الفاظ لکھ کر اپنے تبصرے کی معنویت میں ایک اضافی جہت شامل کر دی ہے۔ الفاظ ہیں ”جاری ہے، میرے دل میں، میرے دماغ میں“۔ اِس جہت کے دریچے وا تو ہوں گے، مگر اگلی قسط میں۔  (جاری ہے) 

مزید :

رائے -کالم -