فلور ملز پر پابندیاں‘ اوپن مارکیٹ میں آٹا بحران شروع‘ خلیل الرحمن لغاری 

فلور ملز پر پابندیاں‘ اوپن مارکیٹ میں آٹا بحران شروع‘ خلیل الرحمن لغاری 

  

 ڈیرہ غازیخان (سٹی رپورٹر)پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب کی ڈویثرنل باڈی کاہنگامی اجلاس سردارخلیل الرحمن خان لغاری کی زیر صدارت مقامی فلور مل میں منعقد ہوا (بقیہ نمبر24صفحہ 6پر)

اجلاس میں آٹے کی فراہمی میں حائل مشکلات کا جائزہ لیا گیا اس موقع پر سردارخلیل الرحمن خان لغاری نے اجلاس کو بتایا کہ پنجاب بھر کے کسی بھی ضلع میں پرائیویٹ گندم کی پسائی پر پابندی نہیں لیکن ڈپٹی کمشنرڈیرہ نے ضلع بھر کی فلور ملوں پر بلا جواز پرائیویٹ گندم کی پسائی پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس سے ناصرف فلور ملز انڈسٹریز متاثر ہورہی ہے بلکہ اوپن مارکیٹ میں آٹے کی شارٹیج پیدا ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اکتوبرمیں فلور ملوں کو فی باڈی 25 بوری کوٹہ فراہم کیا جاتا تھا لیکن اس سال گندم کوٹہ کم کرکے 13 بوری فی باڈی کردیا گیا ہے جو انتہائی کم ہے اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو آٹے بحران کے خطرات بڑھ جائیں گے اجلاس کے شرکا نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا کہ فلور ملوں کو ناصرف پرائیویٹ گندم کی پسائی کی اجازت دی جائے بلکہ گندم کوٹہ 35 بوری فی باڈی کیا جائے تاکہ اوپن مارکیٹ میں آٹے کی سپلائی متاثر نہ ہو سردارخلیل الرحمن خان لغاری نے کہاکہ ڈی جی خان میں بھی لاہور کی برابر گندم کوٹہ فراہم کیا جائے انہوں نے محکمہ خوراک اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ڈیرہ کے دیہی اور مضافاتی علاقوں میں آٹے کابحران سر اٹھا رہا ہے جو آنے والے دنوں میں خطر ناک شکل اختیارکرسکتاہے جس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ خوراک اورضلعی انتظامی پر عائد ہوگی اجلاس میں ملک غلام مصطفی کھنڈوا،ملک نذر حسین کھنڈوا،نصراللہ خان کھوسہ،کاشف اقبا ل،خلیل خان علیانی،خرم خان کھوسہ،محمد قاسم قیصرانی،غلام اسحاق بھٹی،عمر فاروق،سید سدا حسین شاہ،شہباز نصوحہ،نصراللہ خان مستوئی،میاں مشتاق احمداور شیخ عبدالغفاروغیرہ نے شرکت کی۔

فلور ملز

مزید :

ملتان صفحہ آخر -