16سیکرٹریز بے اختیار جنوبی پنجاب میں صرف میٹنگز، دورے، دعوتیں 

  16سیکرٹریز بے اختیار جنوبی پنجاب میں صرف میٹنگز، دورے، دعوتیں 

  

 بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر) تبدیلی سرکار کا جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کافیصلہ ڈرامہ ثابت ہوا کئی ماہ گزر جانے کے باوجود جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لیے بنائے گئے سیکرٹریز کو اختیارات منتقل نہ کیے جا سکے فیصلے آبھی لاہور سیکرٹریٹ سے کیے جا رہے ہیں۔تفصیل کے مطابق پی ٹی آئی حکومت نے صوبہ جنوبی پنجاب بنانے کا اعلان کرنے کے بعد یکم ستمبر 2020 ء کو سیکرٹریٹ کے لیے قیام کے لیے 16 سیکرٹریز بنانے کا نوٹیفیکشن جاری کیا۔مگر اڑھائی ماہ گزر جانے کے باوجود تعینات ہونے والے سیکرٹریز کو تاحال اختیارات تفویض نہ کیے جا سکے آج بھی یہ سیکرٹریز صرف میٹنگز میں شرکت‘ دورے وغیرہ کے علاوہ کوئی اور سرکاری امور سرانجام نہیں دے سکتے اب بھی تمام تر فیصلے لاہور سیکرٹریٹ میں بیٹھے سیکرٹریز کر رہے ہیں اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے نام پر تعینات ہونے والے 16 سیکرٹریز صرف کٹھ پتلی سے زیا دہ کچھ نہیں ہیں کیونکہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں اب تک ایڈیشنل،ڈپٹی اور سپیشل سیکرٹریز کے لیے کسی قسم کی کوئی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی اور تعینات ہونے والے سیکرٹریز اتنے بھی اختیار نہیں رکھتے کہ ایک درجہ چہارم کے ملازم کا تبادلہ کر سکے جنوبی پنجاب میں تمام ملازمین کے تبادلے تعیناتیاں لاہور میں بیٹھی بیوروکریسی کی مرضی سے کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے جنوبی پنجاب میں چلنے والی دو صوبوں بہاول پور صوبہ اور سرائیکی صوبہ کے رہنماؤں نے اس جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -