پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی بحالی

پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی بحالی

  

 ملک بھر میں یہ خبر دلچسپی کے ساتھ سنی گئی کہ پنجاب میں بلدیاتی اداروں کے سربراہ اپنے دفاتر میں بیٹھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔لاہور کے لارڈ میئر کرنل (ریٹائرڈ) مبشر جاوید نے کارپوریشن حکام سے ڈینگی کی صورتِ حال کے بارے میں رپورٹ بھی طلب کی،اور اس وباء کے حوالے سے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔دوسرے بڑے شہروں کے بارے میں بھی یہ اطلاعات ملی ہیں کہ وہاں کے منتخب نمائندے بھی اپنے کمروں میں براجمان ہو چکے ہیں۔توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ سلسلہ آگے بڑھے گا،اور چند روز کے اندر اندر صوبے بھر کے بلدیاتی اداروں کے دفاتر ان کے منتخب نمائندوں پر کھل جائیں گے۔یہ نمائندے اپنے اختیارات استعمال کر سکیں گے یا نہیں،یہ آنے والا وقت بتائے گا،اکاؤنٹس تک ان کی رسائی ہو گی یا اس کے راستے میں بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں گی، اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ کامیابی بہرحال ہو گئی ہے کہ بلدیاتی اداروں کو کالعدم قرار دینے کا جو حکم صوبائی حکومت نے جاری کیا تھا،اور جسے سپریم کورٹ نے خلافِ آئین اور قانون قرار دیا تھا، الفاظ کی حد تک اس پر عمل ہو گیا ہے۔اسی سال مارچ کے مہینے کی25 تاریخ کو سپریم کورٹ نے بلدیاتی اداروں کی بحالی کا حکم جاری کیا تھا۔گذشتہ سات ماہ کے دوران اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔حکومت کی طرف سے نظرثانی کی اپیل کی دائر کی گئی اور اسے جواز بنا کر وہ ”مَیں نہ مانوں“ کی تصویر بنی رہی۔ مختلف شہروں میں بلدیاتی نمائندوں نے اپنے دفاتر میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے سرکاری اہلکاروں نے ناکام بنا دیا۔ کئی جگہ انہوں نے سڑکوں پر بیٹھ کر کام کا آغاز کیا،لیکن اس کے راستے میں بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔دوبارہ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے گئے،لاہور ہائی کورٹ میں سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک مقدمہ ابھی تک زیر سماعت ہے۔ سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تو بالآخر اس پر کارروائی کا آغاز ہوا۔ فاضل چیف جسٹس نے گذشتہ سماعت میں جب سابق اور موجودہ چیف سیکرٹری اور سیکرٹری بلدیات کو(چند روز بعد) ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا کہ انہیں وضاحت پیش کرنا ہو گی کہ بلدیاتی نمائندوں کو کام کرنے کیوں نہیں دیا جا رہا؟ اس پر انتظامیہ کی سٹی گم ہوئی اور، اور اُس نے خود ساختہ رکاوٹیں دور کرتے ہوئے دفاتر کھول دیے۔ فاضل چیف جسٹس نے یہ استفسار بھی کیا کہ حکم تسلیم نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیوں نہیں کیا گیا، اور بلدیاتی اداروں کے ذمہ داروں نے ان کے خلاف مقدمات درج کیوں نہیں کرائے، تو اِس کا کوئی جواب یوں نہ مل سکا کہ کسی کو اس کا حوصلہ ہی نہ ہو پایا،یا کسی کو یہ تدبیر سوجھی ہی نہیں۔بہرحال سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی کارروائی کو آگے بڑھایا تو مقررہ تاریخ سے پہلے ہی دروازوں پر لگے تالے کھول دیے گئے۔ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے میں دو ماہ رہ گئے ہیں۔ ایک عرصہ پہلے انہیں کالعدم قرار دینے کے بعد عدالتوں کے دروازے پر دستک دی گئی تھی۔ہائی کورٹ میں مہینوں سماعت اور پھر اس کی اپیل کا فیصلہ ہونے تک بہت سا وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ان کی بحالی کے حکم پر عملدرآمد میں بھی سات ماہ کی تاخیر ہوئی،گویا طویل عرصہ صوبے کے عوام نے منتخب بلدیاتی اداروں کے بغیر گذارا،اور سرکاری اہلکار ان کی قسمت کے مالک بنے رہے۔ان اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد نئے انتخابات کب کرائے جائیں گے، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ چاروں صوبوں میں اس حوالے سے کھینچا تانی جاری ہے۔ آئینی طورپر الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں کے لیے بھی انتخابات کا انعقاد کرے لیکن صوبائی انتظامیہ کے تعاون کے بغیر اس کے لیے کام کرنا دوبھر ہو رہا ہے۔

پاکستانی جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ وفاق اور صوبے کی سطح پر منتخب ہونے والے بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔اسمبلیوں کے ارکان اپنے حلقوں میں بلدیاتی خود مختاری کو سلب کرنے میں لگے رہتے ہیں، نتیجتاً پاکستانی جمہوریت ٹانگوں کے بغیر کھڑی ہوتی ہے، اور جب دھڑام سے گر پڑتی ہے تو اس پر دو آنسو بہانے والے بھی کم تعداد میں میسر آتے ہیں۔آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خود مختاری کی حدود میں تو اضافہ کیا گیا لیکن بلدیاتی اداروں کے اختیارات اور ان کے قیام و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔اس کوتاہ نظری کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے کہ بڑے بڑے شہروں میں صفائی، صحت اور تعلیم کی سہولتوں کی نگرانی کرنے والا موثر نظام موجود نہیں ہے۔

پنجاب کے بلدیاتی اداروں کی معیاد کا بڑا حصہ حکومتی منہ زوری کی نظر ہو چکا ہے، اصولاً تو اب ان کا وجود اس وقت تک برقرار رہنا چاہئے جب تک نئے انتخابات کے نتیجے میں نئے نمائندے منتخب نہیں ہو جاتے۔سپریم کورٹ اگر جنرل پرویز شرف کے بالا تراز دستور اقدام کو تحفظ دے کر انہیں تین سال کے لیے ملک کا انتظام سنبھالے رکھنے کی اجازت دے سکتی ہے تو پھر دستور کے تابع کام کرنے والے بنیادی اداروں کی مدت میں جبری کمی کا ازالہ کرنے کا حکم بھی جاری کر سکتی ہے۔ ان کی مدت کو یقینی بنانے اور بروقت انتخابات کے انعقاد کے لیے واضح عدالتی حکم جاری ہونا چاہیے کہ دستور کا حلف اٹھا کر حکومتیں قائم کرنے والوں کو دستور کی روح مسخ کرنے کی جرأت نہ ہو سکے۔

مزید :

رائے -اداریہ -