دوپٹہ دینے والی قوم اور ہمارے کام 

دوپٹہ دینے والی قوم اور ہمارے کام 
دوپٹہ دینے والی قوم اور ہمارے کام 

  

 دین اسلام دوسرے مذاہب کے مقابلے میں اپنے الگ کلچر اور نظریہئ حیات کا ایک کامل مذہب ہے مسلمانوں کا اپنا معاشرتی نظام، دوسرے مذاہب سے جداگانہ فلسفہِ حیات اور الگ تہذیب و تمدن ہے قائد اعظم محمد علی جناح نے اسی بنیاد پر برصغیر کے مسلمانوں کے لئے آزاد، خود مختار ریاست پاکستان کا مطالبہ کیا اور ایک پر امن جدوجہد کے ذریعے یہ ملک حاصل کیا ان کی ساری جدوجہد کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں مسلمان اسلام کے سنہری اصول کے مطابق پر امن اور مثالی زندگی بسر کریں گے اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ اسلامی معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی کی ہرگز اجازت نہیں، اب تو پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعوے دار، برسر اقتدار ہیں اب تو مغرب کلچر کو سر عام اپنانے کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے بسنت، ویلنٹائن ڈے اور ہیپی نیو ایئر ہمارے تہوار نہیں، بلکہ یہ مغربی تہوار اور ہندوانہ رسوم ہیں پورے سال میں منائے جانے والے مغربی تہوار گنے نہیں جا سکتے مسلمانوں کا ان تہواروں اور کلچر سے کوئی رشتہ، تعلق اور واسطہ نہیں اور نہ ہی ان تہواروں کو منانے، کلچر کو اپنانے، ان میں شریک ہونے کی تاکید قرآن مجید اور سنت رسولؐ سے ملتی ہے بلکہ ایسے لغو کاموں سے دور رہنے کی واضح ہدایت کی گئی ہے۔ اسلامی معاشرے کی اعلیٰ اقدار ہیں، اسلام میں مخصوص تہوار منانے کے اصول و قواعد اور طریقہ کار بتا دیئے گئے ہیں مسلم امہ نے ان حدود و قیود کے اندر رہنا ہے ان حالات میں مغربی طرز کے تہوار اور طرز زندگی کا پاکستانی مسلم معاشرے میں رواج پانا بے راہ روی کی جانب قدم بڑھانے کے مترادف ہے اور یہ عمل قابل افسوس ہی نہیں، بلکہ قابل مذمت بھی ہے اس کا سد باب کرنا بحیثیت پاکستانی ہم سب کا فرض ہے ہم کو اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہئیں، اگر نہیں کریں گے تو پھر گریٹر اقبال پارک لاہور جیسے سانحات دیکھنے پڑھنے اور سننے کو ملتے رہیں گے مینار پاکستان پر ہونے والے اس واقعے سے پہلے اور بعد میں بے شمار اسی نوعیت کے واقعات ہوئے ہیں مگر یادگار پاکستان میں ہونے والے اس وقوعہ سے پوری قوم کا سر شرمندگی سے جھک گیا ہے ہم تو سروں کو دوپٹہ دے کر عورت کا احترام کرنے والی قوم ہیں لیکن 14 اگست، یوم آزادی کے روز مینار پاکستان پر بد تہذیبی اور ہلڑ بازی کا مظاہرہ ناقابل فہم معاملہ اور لاہور انتظامیہ کی غفلت اور نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے یہ اخلاقی اقدار کے زوال کی انتہا ہے اس وقوعہ کی ذمہ داری لاہور انتظامیہ اور پولیس ہے14 اگست کو مینار پاکستان سر سکیورٹی کے لئے ایک پولیس کانسٹیبل بھی تعینات نہیں تھا اور اگر تھا تو وہ کسی دوسری جگہ دیہاڑی لگا رہا تھا یوم آزادی کے موقع پر یادگار پاکستان پارک کے سکیورٹی کیمروں کا آؤٹ آف آرڈر ہونا اور بھی قابل مذمت اور قابل گرفت فعل ہے جدید ٹیکنالوجی کے جہاں فوائد ہیں وہاں بہت سارے نقصانات بھی سامنے آ رہے ہیں تربیت کے فقدان اور تعلیم کی کمی نے جدید ٹیکنالوجی سے مثبت کام لینے کی بجائے منفی کام لینا شروع کر دیا ہے جس سے ہماری مذہبی اور اخلاقی اور اخلاقی اقدار، عزت اور وقار سب کچھ داؤ پر لگ گیا ہے یہ بڑی تشویش کی بات ہے کہ ہمارے سیدھے سادھے، کم تعلیم یافتہ طبقے میں منفی رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے کیونکہ ہماری آبادی کی اکثریت مزدور پیشہ لوگوں پر مشتمل ہے سستی تفریح کے مواقع ڈھونڈتا رہتا ہے مینار پاکستان پر اکٹھے ہونے والے لوگوں میں اکثریت اسی طبقہ کی تھی اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون تھے ادھر وقوعہ ہوا دوسرے لمحے پورے ملک میں نہیں، بلکہ دنیا بھر کے سوشل میڈیا پر بغیر کسی ایڈیٹنگ کے، فحاشی کے مناظر، خبر اور تبصرے چلنے شروع ہو گئے پولیس کو تو اس وقوعہ کا علم اس وقت ہوا جب دلی لٹ چکی تھی وزیر اعلیٰ اور آئی جی پولیس کو واقعہ کی تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کا حکم جاری کرنا پڑا۔

وزیر اعظم عمران خان نے واقعہ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی، کیا واقعات رک گئے؟ نہیں، بلکہ ان میں تو اضافہ ہو رہا ہے اب ٹک ٹاکر خاتون کی ایک درخواست نے سیدھے سادھے فحاشی پھیلانے کے مقدمے کو الجھا کر رکھ دیا ہے قوم تو پہلے ہی ٹک ٹاکر خاتون اور اس کے ساتھیوں کی بے غیرتی پر ماتم کر رہی تھی کہ پولیس نے سارے مقدمے کا بیڑہ غرق کرنے کے لئے گندگی کے گٹر سے ڈھکن کو سرکانہ شروع کر دیا ہے جس سے ماحول میں تعفن پھیلنا شروع ہو گیا ہے ٹک ٹاکر خاتون اور اس کے دیگر ساتھی 14 اگست کو پورے پلان کے ساتھ مینار پاکستان پر ویڈیو بنانے گئے تھے اس دوران لوگ تفریح کے لئے اکٹھے ہو گئے اور پھر وہ سب کچھ ہو گیا، جو نہیں ہونا چاہئے تھا درحقیقت ٹک ٹاکر خاتون، اس کے ساتھی اور وہاں اکٹھے ہونے والے چار سو، کے چار سو لوگ مجرم ہیں، پولیس نے ٹک ٹاکر خاتون کو مدعیہ اور اس کے ساتھ آنے والے ریمبو کو وقوعہ کا گواہ بنا کر گرفتار ملزمان سے روپے بٹورنے کا راستہ ہموار کر دیا اس گنگا کے بہتے پانی میں پولیس پہلے ہی ہاتھ دھو چکی ہے اب مقدمہ کے گواہان کو بدتمیزی کے مقدمے میں گرفتار کرنا مال بنانے کی ایک چال ہے جس میں ٹک ٹاکر خاتون اب پولیس کے اشارے پر ناچ رہی ہے آڈیو اور ویڈیو قانون شہادت کے زمرے میں نہیں آتی، اس سے عدالت کا وقت ضائع کرنے کے سوال کچھ حاصل نہیں ہوگا پہلے ایک آڈیو سامنے آئی جس میں ٹک ٹاکر خاتون اور زیمبو کے درمیان جیل میں بیٹھے ملزمان سے 5,5 لاکھ روپے بٹورنے کی منصوبہ بندی سامنے آئی اب ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال کے مطابق وقوعہ کے گواہ ریمبو کا موبائل قبضہ میں لے کر آڈیو اور ویڈیو کا فرانزک کرایا جا رہا ہے ادھر ادھر کی باتیں چھوڑیں کیس کا چالان ٹرائل کے لئے عدالت میں  پیش کریں اللہ اللہ خیر سلا۔  میڈیا اور سوشل میڈیا پر آئے روز خواتین کے استحصال اور ان کی بے حرمتی کے قابل شرم واقعات نے ملک کے اندر اور بیرونی دنیا میں پاکستان کے خلاف نئی بحث و مباحثے کے دروازے کھول دیئے ہیں سیاسی اور جمہوری راہداریوں میں بے چینی پائی ا رہی ہے اس تاثر کو دور کرنے کے لئے دختران پاکستان کو تحفظ کا یقین دلانے کے لئے ایوان صدر میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا اس تنگ و دو کے نتائج اس قدر نہیں نکلے کہ ملک کی دختران خود کو محفوظ سمجھ سکیں اس کے لئے حکومت کے ساتھ سماجی تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرنے کے لئے آگے آنا پڑے گا قدم بڑھائیں، بہتری آئے گی۔

مزید :

رائے -کالم -