وزرا کے لیئے گاڑیاں اور سرکار کا جہاز!

 وزرا کے لیئے گاڑیاں اور سرکار کا جہاز!
 وزرا کے لیئے گاڑیاں اور سرکار کا جہاز!

  

لوگ بھوک اور بیروزگاری کے ہاتھوں بدحال ہیں، خود کشیاں کر رہے ہیں، طلاقیں ہو رہی ہیں، سالوں سے ہنستے بستے گھر اجڑ رہے ہیں، فیس نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو سکولوں کالجوں سے اٹھایا جا رہا ہے، گھروں کے بچے کھچے اثاثے فروخت ہو رہے ہیں، برتن تک بیچنے کی نوبت آ چکی ہے…… لیکن پنجاب حکومت اپنے وزیروں کے لئے کروڑوں روپے کی درجنوں نئی نویلی کاریں خرید رہی ہے۔ یہ وہی وزیر ہیں، جنہیں پی ٹی آئی نے حکومت آنے پر صرف تین سال پہلے نئی کاریں خرید کر دی تھیں۔اس وقت بھی درجنوں وزیروں کے لئے نئی گاڑیاں خریدی گئی تھیں اور ابھی تین سال پورے نہیں ہوئے کہ پھر سے سب کو نئی گاڑیاں۔  عوام پٹرول پمپوں پر حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں (ان نعروں کو یہاں نقل نہیں کیا جا سکتا)، مظاہرے ہو رہے ہیں، لوگ جھولیاں پھیلا پھیلا کر نئے پاکستان کے نام پر بنائی جانے والی پاکستان کی پوری تاریخ کی ناکام ترین حکومت کو بد دعائیں دے رہے ہیں …… لیکن ایوان وزیراعلیٰ اور پنجاب کابینہ میں ملکہ میری کی روح بھٹکتی اور دندناتی پھر رہی ہے۔ لوگوں کے پاس روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں۔ وہ اگر موٹر سائیکل میں ایک لیٹر پٹرول نہیں ڈلوا سکتے تو چیئرنگ کراس کے کسی کونے پر کھڑے ہو کر وزیراعلیٰ کے پروٹوکول کی سینکڑوں اور وزیروں کی درجنوں چمکتی دمکتی گاڑیاں تو دیکھ کر برا بھلا تو کہہ ہی سکتے ہیں۔ یہ پنجاب حکومت، پنجاب کی کابینہ اور پنجاب اسمبلی ہے یا عوام کا منہ چڑانے اور انہیں خود کشیوں کے دہانے پر پہنچانے والی مقتل گاہ۔ ابھی تو عوام کی ائر پورٹ کے وی وی آئی پی حصوں تک رسائی نہیں ہے ورنہ وہ یہ بھی دیکھتے کہ پہلے سے موجود ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹروں کے باوجود وزیر اعلی پنجاب کے لئے اربوں روپے کا نیا ہوائی جہاز بھی خریدا جا رہا ہے۔اب حکومت کے اللے تللے دیکھے جائیں تو لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ وہی عثمان بزدار ہیں، جنہیں وزیراعلیٰ اس لئے بنایا گیا تھا کہ ان کے گھر بجلی نہیں ہے۔پتہ نہیں ان کے گھر بجلی لگی کہ نہیں، لیکن انہوں نے پنجاب کے عوام کی چیخیں ضرور نکلوا دی ہیں۔

اگر ان میں عوام کا رتی برابر احساس ہوتا تو کابینہ کی جس میٹنگ میں نئی گاڑیوں کی سمری پیش ہوئی تھی، اس میں نئی گاڑیاں مانگنے والے وزیروں کو  چپ کراتے کہ اور  کابینہ سے باہر نکال دیتے، لیکن ایسا کرتے بھی کیسے، جب وزیر اعلی خود نیا ہوائی جہاز لے رہا ہو تو وزیر نئی گاڑیاں تو لیں گے ہی۔ بتایا گیا ہے کہ نئی گاڑیوں کی سمری میں لکھا گیا ہے کہ پرانی گاڑیوں کی مرمت اور دیکھ بھال (maintenance) پر آنے والے خرچ کی بچت ہو گی۔ دوسری وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ان میں ٹریکرز لگے ہوں گے تاکہ پتہ چل سکے کہ کون سی گاڑی اس وقت کہاں ہے۔ سمری میں تیسری وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ان گاڑیوں کی مکمل انشورنس ہو گی، وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ بودی وجوہات ہیں کہ جو پڑھتا ہے اسے یقین ہونے لگتا ہے کہ واقعی وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے گھر بجلی نہیں ہے اور وہ اتنے سادہ لوح ہیں کہ انہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ وزیروں کی موجودہ گاڑیاں تین سال سے زیادہ پرانی نہیں ہیں۔ یہ گاڑیاں پچھلے تین سال کے دوران خریدی گئی ہیں اور تین سال میں گاڑیاں اتنی کھٹارا نہیں ہوتیں کہ ان کی maintenance پر بہت خرچ آئے۔ جہاں تک ٹریکرز اور انشورنس کا تعلق ہے، وہ تو پہلے سے ہی ہوتے آرہے ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ پنجاب کے وزیروں نے جب اپنے وزیراعلیٰ کے لئے نئے ہوائی جہاز کا سنا تو موقع غنیمت جانا کہ عوام کی ہڈیوں سے گودا نچوڑ کر نئی کاریں ہتھیا لی جائیں۔ یہ صوبائی وزیر کوئی غریب غربا نہیں ہیں، ان میں سے اکثر کے پاس اپنی اپنی ذاتی لینڈ کروزر ہیں جن میں سے کئی تو بلٹ پروف ہیں۔ کئی وزیر ایسے ہیں جو سرکاری گاڑیوں کی بجائے اپنی بلٹ پروف لینڈ کروزر میں سرکاری اور ذاتی پروٹوکول گاڑیوں کے ساتھ مغلیہ شان و شوکت  سے عوام کا منہ چڑاتے شوں شوں کرتے گذرتے ہیں۔ حرص اور لالچ کی کب کوئی انتہا ہوئی ہے، اس لئے پنجاب کابینہ کے ان وزیروں کی بھی نہیں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف تبدیلی کا نعرہ لگا کر اقتدار میں لائی گئی تھی۔اسے اقتدار دلانے والوں کو چاہئے تھا کہ وہ انصاف اور تبدیلی کا بھرم ہی رکھ لیتے۔ اب تین سال گذر چکے ہیں اور عوام کو یقین ہو چکا ہے کہ ان کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوا ہے۔ تبدیلی کے نام پر ان کے بچوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھین لیا گیا ہے۔ انتہائی ناکام ترین گوورننس کا ابھی ذکر نہیں کرتے، نالائقی اور نااہلی کی بات بھی نہیں کرتے کہ یہ حکومت تو ڈھنگ سے کوئی ایک نوٹیفکیشن نکالنے کی اہلیت  بھی نہیں  رکھتی، جس کا مظاہرہ دو سال قبل آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے وقت دیکھا گیا تھا جب سپریم کورٹ نے بار بار ان کے نوٹیفکیشن غلط ہونے کی وجہ سے ٹھیک کرائے تھے یا اب ڈی جی آئی ایس آئی کے معاملہ کی وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے ہینڈلنگ ہو، ہم یہ بھی ذکر نہیں کرتے کہ شوکت ترین کس حیثیت میں اس وقت واشنگٹن میں بیٹھے آئی ایم ایف سے مذاکرات کر رہے ہیں، کیونکہ ان کی وزیر خزانہ کی مدت ختم ہو چکی ہے اور مشیر خزانہ کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اور یوں اس وقت ان کی حیثیت حکومتی عہدے دار کی نہیں،بلکہ ایک عام شہری کی ہے اور وہ اس حیثیت میں آئی ایم ایف سے عوام کی کمر توڑنے کا مزید بندوبست کرنے پہنچ گئے ہیں۔ ہم تو فی الحال صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ اگر عوام کے لئے کچھ کر نہیں سکتے تو عوام کی جان کیوں نہیں چھوڑ دیتے، اور اگر عوام کی جان نہیں چھوڑ سکتے تو کم از کم ان کے زخموں پر مزید نمک چھڑکنے سے باز کیوں نہیں آجاتے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے تین سالوں میں ہزاروں تبادلے کرکے پنجاب کی گورننس تباہ تو کر ہی دی ہے، اب چھوڑیں نئی گاڑیاں اور نئے جہاز، عوام کی روٹی اور روزگار کے لئے کچھ کریں۔

مزید :

رائے -کالم -