کھیتوں کے اندر اطراف جڑی بوٹیوں کی تلفی یقینی بنائیں، محکمہ زراعت

  کھیتوں کے اندر اطراف جڑی بوٹیوں کی تلفی یقینی بنائیں، محکمہ زراعت

  

لاہور(سٹی رپورٹر)   ترجمان محکمہ زراعت کے مطابق دھان کے کاشتکار لاب کی منتقلی کے بعد20 تا25 دن تک کھیت میں ایک تا دو انچ پانی کھڑا رکھیں۔اس کے بعد کھیت کو تر وتر حالت میں رکھیں۔دانے دار زہر ڈالتے وقت ایک تا ڈیڑھ انچ پانی کھڑا ہونا چاہیے۔دھان کی براہ راست فصل کو اْگاؤ کے بعد30 دن تک تر وتر اور اس کے بعد وتروں میں پانی لگاتے رہیں۔کاشتکار دھان کی فصل میں نقصان دہ کیڑوں کے حملے کے پیش نظر فصل میں باقاعدگی سے پیسٹ سکاؤٹنگ کریں۔ٹوکے کے حملے کی صورت میں اگر نقصان کی معاشی حد یعنی3 فیصد ہو جائے تو محکمہ زراعت کے مقامی عملے کے مشورہ سے سفارش کردہ زہروں کا استعمال کریں۔کھیتوں کے اندر اور اطراف میں موجود جڑی بوٹیوں کی تلفی یقینی بنائیں۔ تنے کی سنڈیوں کے حملے کی صورت میں نقصان کی معاشی حد یعنی پودوں میں سوک کی شرح 5 فیصد ہو جائے۔  تو سفارش کردہ زہرو ں کا استعمال کریں۔پتہ لپیٹ سنڈی کے حملے کی صورت میں نقصان کی معاشی حد2عدد لپیٹے ہوئے پتے فی پودا ہونے کی صورت میں زرعی ماہرین کے مشورہ سے سپرے کریں۔اگر فصل کے پتوں پر چھوٹے چھوٹے گول یا بیضوی نشان ظاہر ہوں جن کے کناروں کا رنگ بھورا اور درمیانی حصہ خاکستری ہوجائے تو یہ پتوں کے بھورے دھبے کی علامت ہے۔شدید حملے کی صورت میں دھبوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔

دانوں کے حملے کی صورت میں قدرے گول یا لمبوترے سیاہی مائل دھبے ظاہر ہوتے ہیں اور تدارک کے لئے سفارش کردہ پھپھوندی کْش زہر استعمال کریں۔بکائنی سے متاثرہ پودے صحتمند پودوں کی نسبت قد میں لمبے،باریک اور پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔شدید متاثرہ پودے پتوں کے نیچے سے اوپر تک سوکھ جاتے ہیں اور پودا مر جاتا ہے۔

حملہ کی صورت میں متاثرہ پودوں کو اْکھاڑ کر تلف کر دیں اور بیماری والے کھیت کا پانی دوسرے کسی کھیت میں نہ جانے دیں۔ کاشتکار زنک کی زیادہ کمی کی صورت میں زنک سلفیٹ 33 فیصد بحساب 6 یا زنک سلفیٹ 27 فیصد بحساب 7.5یا زنک سلفیٹ 21 فیصد بحساب 10 کلوگرام فی ایکڑ لاب منتقل کرنے کے دس دن بعد ڈالیں۔ دھان و دیگر غذائی اجناس پر ہمیشہ محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی عملے کے مشورہ سے سفارش کردہ محفوظ زہروں کا استعمال کریں نیز زہر کے استعمال و فصل کی برداشت کے درمیان سفارش کردہ وقفہ ضرور مدِ نظر رکھیں تاکہ زہر کی باقیات جنس میں نہ پائی جائیں اور برآمد کرنے کی صورت میں یہ اجناس بین الاقوامی منڈیوں میں رد نہ کی جاسکیں۔

مزید :

کامرس -