آئی ایم ایف سے مذاکرات ناکام ہونے کی خبروں میں صداقت نہیں: ترجمان وزارت خزانہ

  آئی ایم ایف سے مذاکرات ناکام ہونے کی خبروں میں صداقت نہیں: ترجمان وزارت ...

  

         کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات ناکام ہونے کی خبروں میں صداقت نہیں ہے، معاملہ جہاں تھا وہیں ہے، سیکرٹری خزانہ اور ان کی ٹیم واشنگٹن میں موجود،پیر سے بات چیت دوبارہ شروع ہوگی، سندھ حکومت کے پاس 12لاکھ ٹن گندم موجود ہے جبکہ عام آدمی کوآٹے میں 20روپے کاریلیف مل جائے توبڑی بات ہوگی۔سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چیمبرمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم نے  کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوگا، مذاکرات ناکام ہونے کی خبروں میں صداقت نہیں، مذاکرات بلا تعطل پیر سے دوبارہ شروع ہوں گے جبکہ مذاکرات ختم ہونیکی کوئی حتمی تاریخ نہیں۔مزمل اسلم نے کہا کہ آج ڈالر170کاہے اورپٹرول 138کالیٹرہے، پہلے حکومت ٹیکسزبہت زیادہ لے رہی تھی آج کم لے رہی ہے جبکہ گندم کے معاملے میں سندھ حکومت نے فیصلے نہیں لئے۔انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت نے گندم ریلیز کے معاملے پر فیصلہ دیر سے کیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ کتنی گندم ریلیز کریں گے 12 لاکھ ٹن گندم سندھ حکومت کے پاس موجود ہے کھپت کے حساب سے روزانہ جاری کی جائے تو اگلی گندم اترنے سے زائد اسٹاک موجود ہے۔ گندم ریلیز نہ ہونے کی وجہ سے سندھ میں مہنگا آٹا مل رہا ہے۔ اس وقت پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ گنے کی فصل اتر رہی ہے۔  لیکن سندھ میں شوگرمل مالکان نے ابھی تک کریشنگ شروع نہیں کی ہے۔اگر وقت پر کریشنگ شروع کی جائے تو 90 لاکھ کلوچینی کی پیداوار ہوگی۔ پاکستان کی سالانہ کھپت 60 لاکھ ٹن ہے۔ پچھلے ہفتے سے چینی 6 روپے قیمت کم ہوئی ہے۔ پنجاب میں ہزاروں سستے بازار لگے ہوئے ہیں سندھ میں ایک بھی سستا بازار نہیں۔پیپلزپارٹی پاکستان کے دو صوبوں کا بیڑا غرق کررہے ہیں بلوچستان میں بھی آٹا سندھ سے جاتا ہے۔۔انہوں نے کہا کہ کل غلط افواہیں پھیلائی گئی، اوگرا نے وزیراعظم کو جو قیمت بڑھانے کا کہا وہی قیمت بڑھائی گئی جبکہ ساری قیمتیں عالمی مارکیٹ کے تناظر میں بڑھ رہی ہیں۔مزمل اسلم نے کہاکہ پٹرول 85 فیصد باہر سے منگوایا جاتا ہے، حکومت نے اس پر ٹیکسز کم کیے پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی کم کر کے5.62  فیصد سیلزٹیکس6.8  فی صد کم کیا گیا ہے۔ اس وقت پاکستان کی تاریخ کا کم ٹیکس پیٹرول پر ہے۔ اس وقت پورے خطے میں پاکستان میں سے کم قیمت پر پیٹرول مل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا پیٹرول کے بعد ہم خوردنی تیل باہر سے منگواتے ہیں 609 ڈالر سے 1400 ڈالر عالمی مارکیٹ میں ریٹ ہوچکا ہے۔اس کے لیے ہم ٹیکس ختم کرسکتے ہیں جو کر رہے ہیں۔ مشرف دور میں پیٹرول پر سبسڈی دی گئی جس کی وجہ سے پیٹرول اسمگل ہونا شروع ہوگیا تھا۔ پی پی کی حکومت کے پاس موقع تھابجلی کی قیمتیں مقرر کرنے کا پی پی نے سیاسی فائدہ اٹھایا رینٹل پاور اور دیگرطویل مہنگے معاہدے کیے۔جس کی وجہ سے ملک میں بجلی کا بحران پیدا ہوا ہے۔ن لیگ نے 5 سالہ حکومت میں قیامت تک کے معاہدے کردیئے۔بھٹو صاحب کی تقاریر اٹھاکر پی پی دیکھ لے کس طرح پیٹرول کرائسز کے بارے میں بیان دیا کرتے تھے۔ دنیا کی تاریخ کا 1960 کے بعد بڑا کرائسز اب چل رہا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -