مظفر گڑھ، گھر میں خوفناک آگ، 4بچوں سمیت 7افراد جھلس کر جاں بحق 

مظفر گڑھ، گھر میں خوفناک آگ، 4بچوں سمیت 7افراد جھلس کر جاں بحق 

  

        مظفرگڑھ (بیورو رپورٹ،تحصیل رپورٹر،خبرنگار)گھر میں آگ لگنے کے باعث 4 معصوم بچوں سمیت 7 افراد جھلس کر جاں بحق ہوگئے،متاثرہ خاندان کے بچ جانیوالے شخص کیمطابق پسند کی شادی کرنے پر اسکے سسرالیوں کو رنج تھا اور سسرالیوں نے ہی اسکے خاندان کو جلاکر قتل کردیا،پولیس نے 2 ملزمان کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا،وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر ڈیرہ غازیخان سے رپورٹ طلب کرلی.تفصیلات کیمطابق نواحی علاقے پیرجہانیاں میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب رات ڈیڑھ بجے اچانک صرف ایک کمرے پر مشتمل ایک گھر میں آگ لگ گئی،سردیوں کی رات ہونے کے باعث اہل علاقہ کو اسوقت معاملے کا علم ہوا جسوقت کمرے کی چھت دھماکے سے نیچے نہیں گرگئی،اہل علاقہ نے خود بھی اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی بھی کوشش کی اور ریسکیو کو بھی فوری طور پر طلب کیا گیا،ریسکیو نے موقع پر پہنچ کر ایک گھنٹے کی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پایا اور ملبہ اٹھا کر ملبے کے نیچے سے 7 افراد کی لاشوں کو باہر نکالا،ریسکیو کیمطابق جاں بحق ہونے والے افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جن میں 4 بچے،2 خواتین بھی شامل تھیں،مرنے والے افراد میں 35 سالہ فاروق،اسکی 30 سالہ بیوی خورشید بی بی،انکے 3 بیٹے 12 سالہ شاہنواز،9 سالہ سرفراز اور 2 سالہ یعقوب شامل ہیں،جبکہ خاندان کے واحد بچ جانے والے شخص محبوب کی 20 سالہ بیوی فوزیہ اور اسکا 4 ماہ کا بیٹا احمد علی بھی جھلس کر دم توڑ گئے،جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 2 ماہ سے 10 سال کے درمیان ہیں،واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر حسین میاں نہ صرف موقع پر پہنچے بلکہ ریسکیو اہلکاروں کو امدادی آپریشن کو مزید منظم اور بہتر کرنے کی ہدایات بھی دیتے رہے،واقعے کی اطلاع پر وزیراعلی پنجاب کے مشیر برائے زراعت سردار عبدالحئی دستی بھی چیئرمین یونین کونسل دین پور سردار اعظم خان بلوچ کے ہمراہ رات گئے خود گاڑی چلاکر موقع پر پہنچ گئے اور واقعے کے حوالے سے تفصیلات حاصل کیں،مشیر زراعت کا کہنا تھا پنجاب حکومت معاملے کی مکمل تحقیقات کروائے گی اور متاثرہ خاندان کی ہرممکن مالی و اخلاقی امداد کی جائیگی.آگ بجھانے کے عمل کے بعد اسسٹنٹ کمشنر مظفرگڑھ ڈاکٹر عابدہ فرید اور ڈی ایس پی سٹی عمران راشد نے تھانہ سول لائن کے ایس ایچ او افتخار ملکانی نے جائے وقوعہ کا جائزہ لیا اور موقع سے شواہد اکٹھے کیا،جائے وقوعہ سے مبینہ طور پر پٹرول کی کین بھی برآمد کی گئی،ڈی ایس پی سٹی کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جائیگی اور اگر واقعے میں کوئی ملوث ہوا تو اسکے خلاف کاروائی کی جائیگی.بعدازاں مرنے والے افراد کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفرگڑھ منتقل کردی گئیں.جہاں سابق ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی بھی پہنچ گئے اور متاثرہ خاندان سے اظہار تعزیت کیا،جمشید دستی نے واقعے کو سوچی سمجھی سازش اور قتل قرار دیتے ہوئے ملوث ملزمان کو بھی اسی طرح سزا دینے کا مطالبہ کیا.ڈی پی او مظفرگڑھ حسن اقبال بھی ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفرگڑھ پہنچے اور متاثرہ خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے انھیں ہمہ قسمی قانونی تعاون کی یقین دہانی کرائی.بدنصیب خاندان کے بچ جانے والے واحد شخص محبوب عرف کالا کیمطابق وہ ملتان میں ہونے کے باعث حادثے میں محفوظ رہا،محبوب عرف کالا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے خاندان کو جلائے جانے کا الزام عائد کیا،محبوب کا کہنا تھا کہ اس نے ڈیڑھ سال قبل اپنے بھائی فاروق کی سالی 20 سالہ فوزیہ سے پسند کی شادی کی تھی،جس پر اسکے سسرالی رشتہ دار خوش نہیں تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیں ماریں گے،انھوں نے اسکے خاندان کو مار دیا.،،تھانہ سول لائن پولیس نے محبوب کی مدعیت میں اسکے سسرالی رشتہ داروں منظور حسین اور صابر حسین کیخلاف 302,34,436 ت پ کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے،ایس ایچ او تھانہ سول لائن کیمطابق ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں،دوسری جانب پیرجہانیاں میں متاثرہ بدنصیب خاندان کے ہمسایوں کیمطابق متاثرہ خاندان ضلع ملتان کا رہائشی اور بہت غریب تھا،،مرنے والا بھائی فاروق اور اسکا زندہ بھائی محبوب محنت مزدوری کرتے تھے،علاقے کے رہائشیوں کیمطابق متاثرہ خاندان نے 3,4 سال قبل اپنے لیے تھوڑی سی زمین خرید کر چار دیواری اور صرف ایک کچا پکا کمرہ ڈلوانے کے بعد گھر میں رہائش اختیار کی تھی اور اہل علاقہ کو ان سے کوئی شکایات نہیں تھیں،ہمسایوں نے افسوسناک واقعے کی مذمت کی اور علاقے کی فضا سوگوار رہی،میڈیا میں خبر نشر ہونے کے بعد وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے بھی معاملے کا نوٹس لے لیا اور متاثرہ خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا،انھوں نے معاملے کی ہرپہلو سے تحقیقات کے احکامات جاری کیے اور معاملے کے حوالے سے کمشنر ڈیرہ غازی خان سے رپورٹ بھی طلب کرلی.

جھلس

مزید :

صفحہ اول -