ظاہر جعفر کے والدین چاہتے تو نور مقدم کو قتل ہونے سے بچا سکتے تھے ، مگرانہوں نے کوشش ہی نہیں کی ، سپریم کورٹ

ظاہر جعفر کے والدین چاہتے تو نور مقدم کو قتل ہونے سے بچا سکتے تھے ، مگرانہوں ...
ظاہر جعفر کے والدین چاہتے تو نور مقدم کو قتل ہونے سے بچا سکتے تھے ، مگرانہوں نے کوشش ہی نہیں کی ، سپریم کورٹ

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت کی سماعت پر سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ظاہر کے والدین وقوعہ سے واقف تھے وہ اگر چاہتے تو نور مقدم کو قتل ہونے سے بچا سکتے تھے مگر انہوں نے کوشش ہی نہیں کی ۔

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی ،  عدالت نے عصمت آدم کی درخواست ضمانت 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی جبکہ والد ذاکر جعفر کی درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر مسترد کر دی ۔دوران سماعت ملزموں کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ دونوں درخواست گزار مرکزی ملزم نہیں ،ملزموں پر قتل چھپانے اور پولیس کو اطلاع نہ دینے کاالزام ہے ، قتل چھپانے بارے ملزم کا بیان اور کال ریکارڈ ہی شواہد ہیں ، وقوعہ کے روز شام 6 بجکر 45منٹ سے رات 9 بجے تک والد ملزم سے رابطے میں ، والد کی بیٹے سے بات ہونے کے شواہد نہیں ہیں ۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ممکن ہے ذاکر جعفر فون کال پر ظاہر جعفر کو نور مقدم کو قتل کرنے کا کہہ رہا ہو ، یہ بھی ممکن ہے روک رہا ہو۔ وکیل درخواست گزار خواجہ حارث نے کہا یہ یہ بھی ممکن ہے بیٹا باپ کو سچ بتا ہی نہ رہا ہو۔جسٹس قاضی امین نے ریمارکس میں کہا کہ ضمانت مقدمے میں رائے دے کر پراسیکیوشن کے مقدمے کو ختم نہیں کر سکتے ۔ 

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا ملزم کی ذہنی حالت جانچنے کیلئے میڈیکل کرایا گیا۔ مدعی کے وکیل شاہ خاور نے جواب دیا کہ ملزم کا صرف منشیات کا ٹیسٹ کرایا گیا ہے ، ذہنی کیفیت جانچنے کیلئے کوئی معائنہ نہیں ہوا۔جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیے کہ ملزم انکار کرتے تو ذہنی کیفیت نہیں دیکھی جاتی ، ذہنی کیفیت کا سوال صرف اقرار جرم کی صورت میں اٹھتا ہے ۔ جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ ٹرائل کی کیا صورتحال ہے ، ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ فرد جرم عائد ہو چکی ہے ، 8 ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت بھی ہے ۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بظاہر ماں کے جرم میں شامل ہونے کے شواہد نہیں ۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ماں نے دو کال گارڈ کو کیں ۔ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ والدہ کی بھی 11کال کا ریکار ڈ موجود ہے ۔

جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیے کہ وقوعہ کے بعد بھی ملزموں کا رویہ دیکھا جاتا ہے ، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جائزہ لیں گے کہ پولیس کو بلانے کی بجائے تھراپی کا کیوں کہا گیا، ملزم کے والدین کو وقوعہ کا علم تھا ، اگر وہ چاہتے تو قتل ہونے سے روک سکتے تھے مگر انہوں نے کوشش نہیں کی ۔

وکیل خواجہ حارث نے درخواست کی کہ عدالت ٹرائل چھ ماہ میں مکمل کرنے کی ہدیات دے ، دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے پر ہمارا شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہوگا جس پر جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ کیا دنیا میں غیر شفاف ٹرائل کا بھی کوئی تصور ہے ۔ فوجداری مقدمہ 3 دن کا کیس ہوتا ہے، 2, 2سال ٹرائل ہی مکمل نہیں ہونے دیا جاتا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ کیس کا روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کی ہدایت کردیتے ہیں ۔

مدعی کے وکیل شاہ کاور نے کہا کہ  ملزمہ چاہتی تو قتل کو روکاجاسکتا تھا ۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ  ماں اور باپ دونوں اکٹھے تھے،  بظاہر جتنا باپ جانتا تھا اتنا ہی ماں جانتی تھی ، خاتون ہونےکی بنیادپرہی ضمانت کرنےدیں ،میرٹس پرنہیں جاتے۔

مزید :

قومی -جرم و انصاف -