مقتولہ نور مقدم کو قتل سے پہلےتین دن تک حبس بے جا میں بھی رکھے جانے کا انکشاف، چارج شیٹ کے بعد کہانی میں نیا موڑ آگیا

مقتولہ نور مقدم کو قتل سے پہلےتین دن تک حبس بے جا میں بھی رکھے جانے کا انکشاف، ...
مقتولہ نور مقدم کو قتل سے پہلےتین دن تک حبس بے جا میں بھی رکھے جانے کا انکشاف، چارج شیٹ کے بعد کہانی میں نیا موڑ آگیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نورمقدم قتل کیس کی چارج شیٹ میں بتایاگیا ہے کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے مقتولہ کو18سے 20جولائی تک تین دن تک حبس بے جا میں رکھا، ظاہر جعفر کے والدین نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی پولیس کو اطلاع نہیں دی ، ایڈیشنل اینڈ سیشن جج عطاءربانی نے چارج شیٹ کی بنیاد پر 12ملزمان پر فرد جرم عائد کی ۔ 

ایکسپریس ٹربیون نے چارج شیٹ کے حوالے سے بتایا کہ 12ملزمان پر مجموعی طورپر 14الزامات عائد کیے گئے ہیں، چارج شیٹ کے مطابق مقتولہ نے 20جولائی کو کھڑکی سے چھلانگ لگا کر بھاگنے کی کوشش کی لیکن گارڈ افتخار اور مالی جان محمد نے اسے گیٹ پر روک لیا، اس کے بعد ملزم ظاہر مقتولہ نور کو کھینچتا ہوا دوبارہ کمرے کے اندر لے گیا۔

مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے بارے میں عدالت نے کہاکہ اس پر قتل ، اغواءاور ریپ سمیت دیگر الزامات ہیں، ملزم کے والدین کراچی سے اس سے ٹیلی فون پر رابطے میں تھے، نور کو حبس بے میں رکھنے کا علم ہونے کے باوجود پولیس کو اطلاع نہیں دی ، اس لیے وہ بھی شریک ملزم قرارپائے، خانسامے اور مالی سمیت یہ لوگ ظاہر کے منصوبے سے واقف تھے ، انہیں پولیس کی مدد کرنی چاہیے تھے جو انہوں نے نہیں کی ۔ 

یادرہے کہ اس سے قبل یہی کہا جارہا تھا کہ نور دن کے وقت گھر سے نکلی اور پھر نمبر بند تھے، بعد میں پتہ چلا کہ وہ لاہور جارہی ہیں لیکن رات کو پولیس کی کال موصول ہوئی او رمقتولہ کے والد موقع پر پہنچے تو پتہ چلا کہ ان کی بیٹی کا قتل ہوچکاہے لیکن چارج شیٹ کے مطابق وہ تین دن سے حبس بے جا میں تھی ۔ 

مزید :

جرم و انصاف -علاقائی -اسلام آباد -