خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہُوا

خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہُوا
خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہُوا

  

خاک نشینوں کا خون جلد یا بدیر رزقِ خاک ہو جاتا ہے، لیکن وطنِ عزیز کی تاریخ میں یہ سانحہ پہلی بار ہوا کہ یہ خون دن دیہاڑے یوں نذر آتش ہوا کہ 289 افراد لقمہءاجل بن گئے۔ آگ بجھی تو اپنے پیاروں کے ساتھ اتنے ہی خاندان بھی زندہ درگور ہوگئے۔ اسی روز لاہور میں ایک جوتا ساز فیکٹری میں 25 سے زائد خاک نشینوں کا خون اسی انداز میں نذرِ آتش ہوگیا۔ ان بلند ہوتے شعلوں سے حسبِ توفیق میڈیا اور سیاست دانوں نے اپنے اپنے مطلب کے شعلے روشن کر لئے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بڑھ چڑھ کر ذمہ داروں کے تعین اور سزا کا فوری مطالبہ داغا۔ حکومتی اتحاد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داری نا اہل اور کرپٹ اداروں پر ڈال دی۔ بعد ازاں رو¿ف صدیقی نے وزارت صنعت سے اپنی ذمہ داری کے اخلاقی جواز کی بناءپر استعفا دے کر ورثاءکے زخموں پر مرہم رکھنے کی سعی کی۔ بیانات کی حد تک ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی اور الطاف حسین کی تعریف بھی انہوں نے سمیٹی کہ اظہار ہمدردی کا یہ اقدام قابلِ قدر ہے۔ ٹی وی ٹاک شوز پر اس سانحہ کی دل دوز تفصیلات اور تبصروں کے شعلے بھی خوب بھڑکے، لیکن کب تک؟.... آج مرے، کل دوسرا دن۔ تیسرے دن وہی چال بے ڈھنگی، جو پہلے تھی، پھر سے جاری و ساری ہوگئی۔

تنقید کے شعلوں کو جلد از جلد بجھانے کی کوشش میں دھڑا دھڑ نصف درجن کے لگ بھگ انکوائریاں شروع کرنے کا اعلان ہو چکا ہے۔ یہ الگ بات کہ ایسی انکوائریوں کا سر پیر نہ پہلے کبھی ملا، نہ شاید اب ملے گا۔ اوجھڑی کیمپ میں قیامت صغریٰ بیتی تو بھی رزق خاک ہونے والوں کی اشک شوئی کے لئے انکوائری کا اعلان ہوا، لیکن تمام ذمہ دار صحیح سلامت بچ نکلے۔ گزشتہ سال2 مئی کو ایبٹ آباد آپریشن پر قوم چیخ اٹھی، اَن گنت سوال تھے اور جواب ندارد۔ وہی آزمودہ حل کام آیا۔ عدالتی کمیشن بٹھا دیا گیا۔ آپریشن میں شامل کمانڈو تک نے ساری چشم دید کہانی سنا دی ہے۔ اسامہ کی بیویاں اور بچے اپنے اپنے آبائی ملکوں کو سدھار چکے، لیکن کمیشن کی رپورٹ کی نوک پلک ابھی تک سدھرنے میں نہیں آ رہی۔ بے نظیر بھٹو کی موت کا منظر تو لائیو دیکھاگیا، لیکن انکوائریوں کے گھن چکر میں حقیقت گم اور قیاس قلانچیں بھرتے دیکھے گئے۔ یہ انکوائری تو غریب ورکروں کے جل بھن جانے کی ہے، اس میں بھلا کسے دلچسپی ہوگی کہ اسے انجام تک لانے کا تردد کرے۔

ورکرز.... رزق، زندگی اور موت تو اللہ کے اختیار میں ہے! اِکا دُکا مثالوں کو چھوڑ کر بیشتر فیکٹریوں میں سوشل سیکیورٹی اور ©”ای او بی آئی“ کے لئے درج ورکروں کا اندراج اصل تعداد سے کہیں کم ہوتا ہے۔ کم از کم ماہانہ اُجرت اور دیگر مراعات کے قوانین کا اطلاق بھی کرپشن کے تہہ خانوں میں دفن رہتا ہے۔ بجلی، بوائلر، فائر، ڈیفنس جیسے کلیدی اداروں کے پاس اکثر اوقات ادارہ جاتی وسائل کی اس قدر کمی ہوتی ہے کہ وہ تمام فیکٹریوں کی باقاعدہ پڑتال تک نہیں کر سکتے اور جہاں رسائی ہوتی ہے، وہاں بقائے باہمی کے زریں اصولوں کا راج رہتا ہے۔ سال ہا سال سے جاری اس کلچر نے بندئہ مزدور کے لئے حادثات آسان اور سلامتی مشکل بنا دی ہے۔ بار بار یہی مطالبہ سنا اور جائز بھی ہے کہ ورثاءکو معاوضہ ادا کیا جائے۔ کون ادا کرے؟.... فیکٹری ملازمین کے لئے حادثات کی صورت میں کچھ ادارے یہ فرض انجام دیتے ہیں، بشرطیکہ آجر اور حکومتی اداروں نے اپنا اپنا فرض حادثے سے قبل نبھایا ہو۔ اس حادثے کے بعد لیبر ڈیپارٹمنٹ سندھ، سوشل سیکیورٹی،ای او بی آئی اور متعلقہ انشورنس کمپنی ورثاءکو حقیقت حال سے آگاہ کرتے کہ یہ فیکٹری کن کن اداروں میں رجسٹرڈ تھی؟.... کتنے ملازمین کے ماہانہ واجبات سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی کو ادا ہوتے رہے؟....

ملازمین کی گروپ انشورنس تھی؟ اگر تھی تو کتنے ملازمین پر اس کا اطلاق تھا اور حادثے کی صورت میں کتنا معاوضہ ملنا تھا؟ گارمنٹ فیکٹری میں معمول کے حفاظتی انتظامات موجود تھے یا ان انتظامات کو بروقت بروئے کار نہ لایا جاسکا؟ ان سوالوں کے جوابات سے بہت سے مطالبات اور حادثے کی وجوہات کی پردہ کشائی ممکن ہو سکتی ہے، لیکن اب تک کی بیان بازی اور سطحی بحثوں سے یہی اندازہ ہو رہا ہے کہ سنجیدہ سوالات پر غیر سنجیدگی طاری ہے۔ پاکستان کے چند شہروں میں گزشتہ کئی دہائیوں سے صنعتی یونٹوں کا ارتکاز خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ باقاعدہ انڈسٹریل اسٹیٹس کم ہیں، جبکہ فیکٹریوں کے خود رو جنگل زیادہ اُگ رہے ہیں۔ فیکٹریوں میں ورکروں کی سلامتی کے لئے اہتمام اور اس پر مسلسل عمل درآمد پر خاصے اخراجات ہوتے ہیں۔ اکثر سرمایہ کاروں کی مالی مشکلات یا ترجیحات اور حکومتی اداروں کی بے عملی اور کرپشن نے مل جل کر اس ملک میں ایسا انتظام کر دیا ہے، جہاں کوئی ذمہ دار ہے، نہ قابلِ گرفت، جبکہ خلق خدا رزق کی تلاش میں خطرناک ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہے۔

بار بار حکومت میں رہنے والے سیاست دانوں کے بیانات اور تبصرے سن سن کر کوفت ہوتی ہے، بے حسی کی کوئی حد بھی ہے یا نہیں؟....منافقت کی کوئی سرحد بھی ہے یا نہیں؟.... 289 خاک نشین نذرِ آتش ہوگئے۔ بلدیہ ٹاو¿ن کی گارمنٹ فیکٹری میں شعلے سرد ہوگئے، لیکن متحارب سیاستدانوں کی شعلہ بیانی سرد نہیں ہوئی۔ متعلقہ اداروں کے کان پر بھی جوں اس لئے نہیں رینگتی کہ کان موجود ہی نہیں ہیں۔ ذمہ دار کون ہے؟.... فیکٹری مالکان؟.... بھتہ خوری سے انکار کی سزا؟ متعلقہ محکموں کا مجرمانہ اغماض؟.... اب تو فیکٹری مالکان ضمانتوں کے بعد تفتیش میں شامل ہوگئے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی مُصر ہیں کہ ایم کیو ایم کو شامل تفتیش کیا جائے، جبکہ ایم کیو ایم نے اپنے تئیں رو¿ف صدیقی کے استعفے کے ذریعے اپنا کفارہ ادا کر دیا ہے۔ اب دیکھئے قانون، مفادات اور خونِ خاک نشیناں کی مثلث سے کیا برآمد ہوتا ہے؟

کسی بھی منفی واقعے کے بعد ملزمان کے ساتھ گمان بھر قیاس آرائیاں منسلک کر دی جاتی ہیں۔ ملزمان اگر کھاتے پیتے ہوں اور بزنس مین بھی ہوں تو ایسے مبصرین کی کمی نہیں جو انہیں حرص و ہوس اور دولت کے اندھے پجاری جیسے القابات سے نواز کر انہیں گردن زدنی قرار دے دیتے ہیں۔ کاروباری دنیا سے تین دہائیاں منسلک رہے کے بعد ہمارے مشاہدے میں ہر قسم کے لوگ رہے ہیں۔ حریص اور خود غرض بھی، ہمدرد اور فرض شناس بھی۔ بہت کم کسی ایسے شقی القلب کو دیکھا جو جان بوجھ کر ورکروں کی زندگی اور سلامتی کو داو¿ پر لگا دے، البتہ ایک تکلیف وہ امر بہت نمایاں دیکھا کہ فیکٹریوں اور کاروباری ماحول میں انسانی سلامتی ترجیحات کی سیڑھیوں میں سال بہ سال نیچے کھسکتی چلی گئی۔ کاروباری حالات میں اتار چڑھاو¿، بینکوں کے بڑھتے ہوئے قرضے اور جان لیوا کاروباری مسابقت نے کاروبار اور پیداواری عمل کے کئی بنیادی اجزاءکو طاقِ نسیاں پر ڈال دیا ہے۔ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک اور نئے ابھرتے ہوئے صنعتی ممالک میں ورکروں کی سلامتی کے معاملات جوں جوں اہم ترین ہوتے گئے، ہمارے ہاں ان معاملات سے اغماض بڑھتا چلا گیا۔ چیمبرز، بیشتر سرمایہ کار، حکومتی ادارے اور حکومتی عہدیدار اپنی جگہ، لیکن طاقت اور منافع کی چکا چوند میں ورکروں کی سلامتی چندھیا گئی ہے۔

وطنِ عزیز میں قوانین اور ان پر عمل درآمد کروانے والے اداروں کی کبھی قلت نہیں رہی، بلکہ قوانین اور ایسے اداروں کی اس قدر بہتات رہی ہے کہ خلق خدا بلبلاتی رہی ہے۔ اکثر قوانین تقسیم ہند سے قبل نافذ العمل قوانین کا چربہ یا کسی دوسرے ماخذ کا ہو بہو ترجمہ ہوتے ہیں، لہٰذا ان میں تضادات، متروکات اور بے جا تفصیلات کا وسیعکاٹھ کباڑ جمع ہوتا ہے۔ ان قوانین پر عمل درآمد کروانے والے اداروں اور قانون کو غچہ دینے والے سرمایہ کاروں کو یہ قوانین خوب راس آتے ہیں۔ حکام کو ہر کس و ناکس کی مشکیں باندھنے کے لئے کوئی نہ کئی متروک کلاز ضرور مل جاتی ہے۔ بیشتر سرمایہ کار بھی قوانین پر سرمو عمل کرنے کے بجائے، ان اداروں سے پیکج ڈیل کے ذریعے جان چھڑوا لیتے ہیں، جبکہ کاغذوں کی حد تک قانون نافذ العمل رہتا ہے....حکام بھی خوشحال، فیکٹری مالکان بھی نہال ۔ رہے ان فیکٹریوں میں کام کرنے والے.... تو نہ ان کا کوئی والی، نہ وارث!      ٭

مزید :

کالم -