ضلع میانوالی کا گاﺅں بوری خیل

ضلع میانوالی کا گاﺅں بوری خیل
ضلع میانوالی کا گاﺅں بوری خیل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

بوری خیل میانوالی کے مشرقی پہاڑوں کے دامن میں واقع ایک تاریخی گاﺅں ہے۔ اس گاﺅں کی آبادی بوری خیل نیازیوں پر مشتمل ہے۔پنجاب کا واحد گاﺅں ہے،جہاں عورتیں ،مرد، بچے، بوڑھے آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی جوہڑوں کا گندہ پانی پیتے ہیں۔ یہاں آج بھی مویشی اور انسان سو سال پرانے ان قدرتی سادہ تالابوں کا پانی پیتے ہیں،جن تالابوں کو پنجابی یا سرائیکی میں ٹوبے کہا جاتا ہے۔نوجوان وبوڑھی خواتین اور نوجوان و بوڑھے مرد، صبح، شام ان ٹوبوں سے پانی بھر کر اپنے گھر پہنچاتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے باپ، دادا کی زبان پشتو اور میانوالی کی پرانی تاریخی زبان ہند کو، پنجابی، جسے سرائیکی بھی کہا جاتا ہے، بولتے ہیں۔دکھ کی بات یہ ہے کہ یہاں ہر جانب گندے راستے، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور گندگی، کے ڈھیر قدم قدم پر نظر آتے ہیں۔ ایک سو سال سے خصوصاً پاکستان بننے کے بعد روکھڑی،کالاباغ اور کئی سیاسی لیڈر پیدا ہوئے، لیکن اس گاﺅں کے لئے کسی نے بھی پانی کے لئے کسی حکومت سے منظوری نہیں کروائی،محض تقریریں کرکے بوری خیل کے سادہ، کھرے اور سچے لوگوں سے ووٹ لے کر دوبارہ کئی کئی سال اس گاﺅں کا رخ نہیں کیا۔
 حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بوری خیل گاﺅں کے ساتھ تھوڑے ہی فاصلے پرپہاڑوں کا سلسلہ ہے او ران پہاڑوں کے دشوار گزار راستوں میں پانی کا ایک چشمہ ہے۔ اس پانی کو لاہور اور کراچی کے اہم لیبارٹری سنٹروں میں جب چیک کروایا گیا تو پتہ چلا کہ اس چشمے کے پانی کو منرل واٹر کی حیثیت حاصل ہے، لیکن بوری خیل کی خواتین دور جانے سے اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں اور بچوں کوبھی دور پہاڑوں میں بھیجنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ بوری خیل کے لوگوں سے فرداً فرداً جب بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اس چشمے کے پانی کو اگر حکومت پنجاب یا وفاقی حکومت ایک منصوبے کے تحت واٹرسپلائی کی شکل میں بوری خیل تک پہنچا دے یا پھر بوری خیل گاﺅں میں کوئی بڑا پراجیکٹ لگادیا جائے اور پھر واٹرسپلائی کی شکل میں ہر گھر کو پانی مہیا کیا جائے توبوری خیل کی خواتین، بچے، بوڑھے سکھ کا سانس لیں گے اور انہیں بھی احساس ہوگا کہ وہ پاکستان اور پنجاب کے کسی گاﺅں میں بستے ہیں۔
بوری خیل کا دوسرا بڑا مسئلہ سڑک اور پھر گاﺅں کی اجڑی ہوئی گلیاں ہیں،جہاں سے سائیکل، موٹرسائیکل یا کار اگر گزر جائے تو اس کا انجرپنجرڈھیلا ہوجاتا ہے، کیونکہ گلیاں نوک دار پتھروں سے بھری پڑی ہیں۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم عمران خان سے توقع رکھتے ہیں،کیونکہ یہاں اگر کوئی چھوٹا،موٹاکام غلطی سے ہوا ہے تو وہ عمران خان کی کاوش سے ہوا ہے۔ راقم کی میاں نوازشریف ،صدر آصف علی زرداری اور ملکی اداروں کے اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ بوری خیل گاﺅں کی طرف جانے والی سڑک کو ڈبل کیا جائے، گاﺅں کی گلیوں میں سولنگ لگوائے جائیں اور سب سے بڑامسئلہ پانی کا ہے....اگر بوری خیل شہر میں پانی کا بڑا پلانٹ لگوا کر اس گاﺅں کو واٹر سپلائی دی جائے ،جو ایک سو سال سے ہر قسم کی سہولتوں سے محروم ہے،تویہاں کے غریب اور محروم قسم کے عوام کوبھی محسوس ہو کہ وہ بھی پاکستان میں رہتے ہیں۔  ٭

مزید :

کالم -