قائداعظم ؒاور ساٹھ کروڑ روپے

قائداعظم ؒاور ساٹھ کروڑ روپے
قائداعظم ؒاور ساٹھ کروڑ روپے

  

دسمبر1947ءکے آخری عشرے میں وزارت خزانہ نے قائداعظم محمد علی جناح ؒ گورنر جنرل کی خدمت میں یہ اہم مسئلہ پیش کیا کہ چونکہ بھارت نے پاکستان کے حصے میں آنے والے55کروڑ روپے روک لئے ہیں اور اس وقت خزانہ بالکل خالی ہے اور سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لئے ایک کوڑی بھی نہیں، اس لئے سرکاری ملازمین کی بہت بڑی تعداد بغیر تنخواہ کے کام کر رہی ہے۔ اب تک یہ لوگ بڑے عزم کے ساتھ کام کر رہے ہیں، لیکن اپریل1948ءمیں بھی انہیںتنخواہ نہ ملی تو خطرہ ہے کہ کہیں ان کا اعتماد متزلزل نہ ہو جائے، لہٰذا درخواست ہے کہ اس ضمن میں کچھ انتظام ضرور کیا جائے۔ قائداعظم ؒ نے اسی نوٹ کے نیچے یہ لکھا کہ درج ذیل حضرات کو یہ پیغام پہنچا دیا جائے کہ وہ کل صبح مجھ سے ملاقات کریں۔ چنانچہ متعلقہ افراد کو بروقت مطلع کر دیا گیا۔ یہ لوگ قائداعظم ؒ کے انتہائی قابل اعتماد ساتھی تھے۔ انہیں ملاقات کا مقصد بھی نہیں بتایا گیا تھا، لیکن انہوں نے خود ہی اندازہ لگا لیا کہ قائداعظم ؒ نے اُنہیں کس لئے بلایا ہے۔ دوسرے روز وقت مقررہ سے قبل ہی یہ لوگ پہنچ گئے۔ قائداعظم ؒ نے تینوں دوستوں کو ایک ساتھ بلایا اور سلام دُعا کے بعد صرف ایک جملہ کہا:”آپ نے پاکستان بنانے میں ہماری مدد کی۔ اب پاکستان کو چلانے کے لئے بھی آپ کی تھوڑی مدد کی ضرورت ہے“۔

جملہ ختم ہوتے ہی ایسا معلوم ہوا جیسے یہ لوگ گوشت پوست کے نہیں بلکہ روبوٹ تھے ۔یہ سب ذہنی طور پر قائداعظم ؒ کے اس حکم کی تعمیل کے تیار ہو گئے تھے۔ تینوں نے ایک ساتھ جیب میں ہاتھ ڈالا۔ چیک بُک نکالی اور بلینک چیک پر دستخط کئے اور ایک ساتھ ہی قائداعظم ؒ کو پیش کرتے ہوئے کہا :” قائداعظم ؒ پاکستان ہے تو ہم بھی ہیں۔ اگر خدانخواستہ پاکستان کو کچھ ہو گیا تو ہم کہاں ہوں گے“؟ قائداعظم ؒ اپنے ساتھیوں کے مقام و مرتبے سے بخوبی واقف تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک چیک پر دس کروڑ، دوسرے پر پانچ کروڑ اور تیسرے چیک پر تین کروڑ روپے لکھے۔ ڈالر کا کوئی چکر نہ تھا۔ اب ڈالر نے ہمیں ذلیل کر دیا ہے۔

اسی طرح معین نواز جنگ نے لندن سے 20 کروڑ روپے پاکستان منتقل کئے اور22کروڑ روپے قائداعظم ؒ محمد جناح کے دوستوں نے مختلف ملکوں سے پاکستان بھیجے۔ مکار بھارت نے55کروڑ روپے روک لئے تھے تاکہ پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کیا جا سکے ۔آج بھارت امریکہ یہ کھیل کھیل رہا ہے، کیونکہ ”ہمارے لیڈر خود کھلاڑی ہیں“۔یاد رکھیں قائداعظم ؒ نے اپنی فراست سے تین روز میں60کروڑ روپے کا انتظام کر کے بھارت کی یہ ناپاک سازش بھی ناکام بنا دی، جن تین افراد سے قائداعظم ؒ نے 18کروڑ روپے لئے تھے وہ پاکستان اور قائداعظم ؒ کے اتنے وفادار تھے کہ انہوں نے کسی سے اس کا تذکرہ کرنا بھی مناسب نہ سمجھا۔ شاید یہ بات ہمیشہ راز رہتی، لیکن اس کا انکشاف اس وقت ہوا جب حبیب بینک کی سلور جوبلی ہوئی اور نوادرات کی نمائش میں وہ چیک بھی رکھا گیا جس پر قائداعظم ؒ نے اپنے ہاتھ سے 10کروڑ روپے لکھے تھے۔ سر آدم جی پیر بھائی (1908-1948ئ) آف آدم جی لمیٹڈ اور تیسرے ارگ لمیٹڈ کے سربراہ تھے۔

اسی ایک واقعہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے ساتھی ان پر کتنا بھروسہ کرتے تھے اور ان کی ایک آواز پر لبیک کہنے میں ذرا بھی دیر نہ کرتے۔ ہمارے لیڈر شیلٹر آف ہپو کریسی کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک و ملت کی خدمت کا دعویٰ کرتے ہوئے تھکتے نہیں۔یہ حقیقت نئی نسل کے لئے مشعل را ہ بن سکتی ہے۔ چراغ کی آخری لو بھی امید کی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔ میرے رسول عربی کا فرمان ہے۔ نامیدی کفر ہے اِس لئے قوم کو چراغ سے چراغ جلاتے رہنا چاہئے۔ یہ پاکستان ہماری پہچان ہے۔ یہ قائم و دائم رہے گا۔      ٭

مزید :

کالم -