صدر اوباما کی برتری

صدر اوباما کی برتری
صدر اوباما کی برتری

  

امریکہ کے صدارتی انتخابات نزدیک آگئے ہیں اور صدر باراک حسین اوباما ،جو دوسری ٹرم کے لئے انتخابات لڑ رہے ہیں،اپنے سیاسی مخالف اور صدارتی امیدوار مٹ رومنی سے زیادہ مقبول ہوتے جا رہے ہیں۔

 ایک سروے کے مطابق عوام میں وہ زیادہ ہر دلعزیز ہو رہے ہیں۔ امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک پیزا شاپ کے مالک نے معانقہ کے دوران صدر اوباما کو زمین سے ایک فٹ اوپر اُٹھالیا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب صدر اوباما نے اپنی بکتر بند گاڑی کو ایک پیزا شاپ پر رُکنے کا حکم دیا۔ دکان کا مالک حیران رہ گیا۔ اُس نے نہایت گرمجوشی سے صدر اوباما کو خوش آمدید کہا اور گلے ملتے ہوئے ایک فٹ اوپر اُٹھالیا، بعد میں اُس نے صحافیوںکو بتایا: ”میرا تعلق مٹ رومنی کی ری پبلکن پارٹی سے ہے، لیکن مَیں نے2008ءمیں بھی صدر باراک حسین اوباما کو ہی ووٹ دیا تھا اور اب بھی ایسا ہی کروں گا۔ یہ میری پسند ہے اور اس میں پارٹی کا کوئی تعلق نہیں۔

مٹ رومنی کو جب اس واقعے کا علم ہوا تو وہ اس لئے پریشان نہیں ہوئے کہ امریکہ میں آزادیءرائے ہے اور ہر معاشرے میں ”بروٹس“ ہوتے ہیں۔ کاش یہ شخص پاکستان میں ہوتا تب ہم دیکھتے یہ صحافیوں سے بات کرنے کے بعد کہاں چلا گیا۔ اوباما کو معانقہ کے دوران ایک فٹ زمین سے کیا اُٹھایا کہ سیاسی جوتشیوں نے اسے نیک شگون قرار دے دیا اور کتنے ہی مخالف پارٹی کے لوگ صدر اوباما کو ”اُٹھانے“ کے چکر میں ہیں، تاکہ وہ صدر کی حیثیت سے دوبارہ چار سال کے لئے ذمہ داریاں اٹھا لیں۔ صدر باراک حسین اوباما اگست کے مہینے میں اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں فنڈ اکٹھا کرنے میں اپنے مخالف کو پیچھے چھوڑ گئے۔ اُنہوں نے اگست میں 114 ملین ڈالرز جمع کرنے میں کامیابی حاصل کی، جبکہ اُن کے مخالف مٹ رومنی اور اُن کے ری پبلکن ساتھی 111 ملین ڈالرز اکٹھا کر سکے۔

جولائی میں صدر اوباما نے 75 ملین ڈالرز جمع کئے تھے، اُن کے مقابلے میں رومنی نے 101 ملین ڈالرز جمع کئے تھے۔ صدر اوباما اور ان کے حمائتیوں نے 33 لاکھ 17 ہزار لوگوں سے رقم جمع کی۔ یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اس سے پہلے کبھی صدارتی انتخاب میں رقم نہیں دی۔ جولائی کے مقابلے میں اگست میں صدر اوباما کی مقبولیت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ایک سروے کے مطابق بہت تیزی سے لوگوں کا رجحان اوباما کی طرف ہو رہا ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ رائے دہندگان میں سے 47 فیصد اوباما کی حمایت کر رہے ہیں اور 43 فیصد مٹ رومنی کے حق میں ہیں۔ صدر اوباما کی پوزیشن بہت تیزی سے بہتر ہوتی جا رہی ہے۔پاکستان کی سفیر محترمہ شیری رحمان کے نیویارک کے ایک جلسے میں پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی انتخابات میں حصہ لیں۔ امریکی سرکاری حکام، کانگریس کے حکام اور مقامی سیاستدانوں سے فعال رابطہ رکھیں، اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ صدر اوباما نے اپنے پہلے انتخاب 2008ءکے موقع پر امریکہ میں تبدیلی کا وعدہ کیا تھا، لیکن جارج بش کی بوئی فصل کو کاٹتے کاٹتے چار سال لگ گئے۔ اُمید ہے آنے والے سال اوباما کو مل جائیں گے اور پھر امریکہ کے اندر اور باہر تبدیلی دیکھی جاسکے گی۔

صدر اوباما کے مخالف صدارتی امیدوار مٹ رومنی موجودہ حکومت کی کئی معاشی، مالی حکمت عملی پر تنقید کر رہے ہیں۔ وہ بھی اگر دیکھیں تو تبدیلی ہی لانا چاہتے ہیں، لیکن بہتر ہے یہ موقع باراک حسین اوباما کو ملے۔ یوں بھی امریکہ کی روایت رہی ہے کہ ایک صدر دوسری ٹرم کے لئے بھی عموماََمنتخب ہوتا ہے اور جو رہ جاتا ہے وہ ایک بڑی بدنصیبی ہوتی ہے۔ جب جارج بش عراق اور افغانستان میں سب کچھ کرنے کے باوجود دوسری بار بھی منتخب ہوگئے تو صدر اوباما کو ضرور کامیاب ہونا چاہئے، کیونکہ انہوں نے عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی کو یقینی بنایا اور افغانستان کے سلسلے میں بھی یہی ارادہ ہے۔ امریکہ میں رہنے والے مسلمان خاص طور سے پاکستانی سیاسی طور سے خاصے فعال ہیں۔ اُنہوں نے پاکستان میں قائم جماعتوں کی شاخیں بنا رکھی ہیں اور اس کے تحت کام بھی کرتے ہیں۔ کیا اچھا ہو، اگر یہ سب مل کر امریکی سیاست میں فعال اور بھرپور حصہ لیں، کیونکہ اسی طرح وہ اپنی بات اور اپنے ملک کی آواز ایوانوں تک پہنچا سکتے ہیں۔     ٭

مزید :

کالم -