عدالت نے طالب علموں کے حق میں ایسا فیصلہ دے دیا کہ جان کر آپ بھی داد دیں گے

عدالت نے طالب علموں کے حق میں ایسا فیصلہ دے دیا کہ جان کر آپ بھی داد دیں گے
عدالت نے طالب علموں کے حق میں ایسا فیصلہ دے دیا کہ جان کر آپ بھی داد دیں گے

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں کاپی رائٹ کا قانون لاگو ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص یا ادارہ کسی دوسرے شخص یا ادارے کی تخلیقات کی نقالی نہیں کر سکتا لیکن اب دلی ہائیکورٹ نے اس حوالے سے ایسا فیصلہ دے دیا ہے جس پر پوری دنیا حیران رہ گئی ہے۔ دلی ہائیکورٹ نے کاپی رائٹ کے ایک مقدمے میں دلی یونیورسٹی کو دیگر بڑے پبلشرز کی شائع کردہ کتابوں کی فوٹوکاپی کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ”کاپی رائٹ کوئی آفاقی حق نہیں ہے۔

بظاہر معصوم نظر آنے والی یہ لڑکیاں جب مجرموں سے پوچھ گچھ کرتی ہیں تو القاعدہ کے خطرناک ترین جنگجو بھی منٹوں میں ہی فر فر بولنا شروع کردیتے ہیں، تشدد نہیں کرتیں بلکہ۔۔۔ ایسا طریقہ کہ جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق طلباءو طالبات دلی یونیورسٹی کی لائبریری سے کتابیں لے کر اس کی فوٹو کاپی کروا لیتے تھے اور یونیورسٹی ازخود بھی طلبہ کو یہ سہولت فراہم کرتی تھی، جس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کروایا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ”کاپی رائٹ ایکٹ کے سیکشن 52کے تحت شعبہ تعلیم کو کاپی رائٹ کی خلاف ورزی سے استثنیٰ دیا گیا ہے، لہٰذا یہ قانون تعلیمی اداروں پر لاگو نہیں ہوتا۔“ عدالت نے اپنے فیصلے میں طلباءو طالبات کو فوٹو کاپی کی سروس مہیا کرنے والی دکانوں کو بھی اس قانون سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے اور انہیں کتابیں فوٹو کاپی کرکے طلبہ کو دینے کی اجازت دے دی ہے۔واضح رہے کہ بین الاقوامی پبلشرز نے 2012ءمیں دلی یونیورسٹی اور رامیشوری فوٹوکاپی سروس کے خلاف یہ مقدمہ دائر کیا تھا جس کا فیصلہ گزشتہ روز عدالت نے سنایا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس