قبرستانوں کی حالت زار

قبرستانوں کی حالت زار

مکرمی! ایک اخباری اطلاع کے مطابق امسال حکومت پنجاب نے قبرستانوں کی بحالی، تعمیر و توسیع اور درستگی کے لئے تقریباً 17کروڑ روپے کے فنڈز مختص کئے ہیں جو گزشتہ برسوں کی نسبت بہت کم اور ہر ذی شعور کے لئے لمحہ فکریہ اور باعث تشویش ہیں۔ حکومت پنجاب کو چاہیے تو یہ تھا کہ گزشتہ برسوں کی نسبت اس گرانٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرتی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ آج قبرستانوں کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے، جبکہ ان کی حالت زار کو دیکھ کر ہر ذی روح کا دل تڑپ اٹھتا ہے، کیونکہ قبرستان چار دیواری سے محروم، آوارہ جانوروں کی گزر گاہ اور نشئیوں کے محفوظ اڈے بن گئے ہیں، جس کی وجہ سے قبرستانوں کا تقدس مجروح ہوتا رہتا ہے۔ غریب مہنگائی کا رونا رو رہا ہے اور بڑی مشکل سے گزربسر کررہا ہے۔ قبر کی جگہ کے لئے پیسے کہاں سے لائے۔ اس صورت حال کے پیش نظر فنڈز کو بڑھائے جانے کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت پنجاب سے التماس ہے کہ فوری طور پر قبرستانوں کے لئے نہ صرف فنڈز ریلیز کرے ،بلکہ حسب ضرورت مزید زمین بھی مختص کرے ۔ قبرستانوں کی چاردیواری ،صحیح دیکھ بھال، جواریوں اور نشیؤں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے، تاکہ عوامی مشکلات اور تکالیف میں کمی ہو جائے۔ قبروں کی بے حرمتی کسی بھی مذہب میں جائز نہیں ہے۔ اسلام تو اس کی سخت مذمت کرتا ہے۔ ذرا غور فرمایئے کہ ہر انسان نے موت کا مزہ چکھنا ہے اور اس کو اپنی آخری آرام گاہ میں جانا ہے تو پھر قبرستانوں اور مردوں سے زیادتی چہ معنی دارد۔(رب نواز صدیقی، غلہ منڈی، پاک پتن)

مزید : اداریہ